menu-icon menu-icon
ایمان

اللہ پر ایمان لانے كا مطلب ہے اس كے موجود ہونے پر پختہ یقین و اعتقاد ركھنااور یہ كہ وہی ہر شئی كا رب ہے ، سب كو چھوڑ كر تنہا وہی عبادت كا مستحق ہے ، وہ كامل صفات سے متصف ا ور نقص كی جملہ صفات سے مبرا ہے. اللہ پر ایمان چار چیزوں كو شامل ہے

1- الله تعالی كے وجود پر ایمان

اللہ تعالی كا وجود دنیا میں پائی جانے والی سچائی میں سے سب سے بڑی سچائی ہے ، جیسا كہ ارشاد باری ہے : ( ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّـهَ هُوَ الْحَقُّ) "یہ سب اس لئے كہ اللہ ہی حق ہے ، اور اس كے سوا جسے بھی یہ پكارتے ہیں وہ باطل ہے ، اور بیشك اللہ ہی بلندی والا ،كبریائی والا ہے "

(الحج:62)
 

اور اللہ كے وجود كو شك كی نظر سے دیكھنا جھوٹ و جہالت ہے ، جیسا كہ اللہ كا فرمان ہے: ( قَالَتْ رُسُلُهُمْ أَفِي اللَّـهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَ رْضِ) "ان كے رسولوں نے انہیں كہا كہ كیا حق تعالی كے بارے میں تمہیں شك ہے جو آسمانوں اور زمین كا بنانے والا ہے ،وہ تو تمہیں اس لئے بلا رہا ہے كہ تمہارے تمام گناہ معاف فرما دے ، اور ایك مقررہ وقت تك تمہیں مہلت عطا فرمائے "

(إبراهيم :10)
 

اور اللہ كے وجود كا انكار كرنا تكبر ، ظلم اور كفر ہے جیسا كہ اللہ سبحانہ و تعالی نے فرمایا : (قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنزَلَ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَ رْضِ بَصَائِرَ وَإِنِّي لَأَ ظُنُّكَ يَا فِرْعَوْنُ مَثْبُورًا ) "موسی نے جواب دیا كہ یہ تو تجھے علم ہو چكا ہے كہ آسمان و زمین كے پروردگار ہی نے یہ معجزے دكھانے ، سمجھانے كو نازل فرمائے ہیں ، اے فرعون ! میں تو سمجھ رہا ہوں كہ تو یقینا برباد و ہلاك كیا گیا ہے"

(الإسراء:102)
 

ایك اور مقام پر اللہ تعالی نے یوں فرمایا: (قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ ﴿٢٣﴾ قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ ﴿٢٤﴾ قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ أَلَا تَسْتَمِعُونَ ﴿٢٥﴾ قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ ﴿٢٦﴾ قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ ﴿٢٧﴾ قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ ﴿٢٨﴾ قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ ﴿٢٩﴾) فرعون نے كہا رب العالمین كیا (چیز) ہے ؟*( حضرت) موسی ( علیہ السلام)نے فرمایا : وہ آسمانوں اور زمین اور ان كے درمیان كی تمام چیزوں كا رب ہے ،اگر تم یقین ركھنے والے ہو * فرعون نے اپنے اردگرد والوں سے كہا كہ كیاتم سن نہیں رہے ہو ؟* موسی علیہ السلام نے فرمایا وہ تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں كا پروردگار ہے * فرعون نے كہا (لوگو!)تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقینا دیوانہ ہے* موسی (علیہ السلام )نے فرمایا :وہی مشرق و مغرب كا اور ان كے درمیان كی تمام چیزوں كا رب ہے ، اگر تم عقل ركھتے ہو *فرعون كہنے لگا سن لے !اگر تونے میرے سوا كسی اور كو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا “

(الشعراء:23-29)
 

وه چند امور جو اللہ كے وجود كا پتہ دیتے ہیں
(اللہ كے وجود كی دلیلیں)

فطرت سلیمہ

فطرت سلیم سے مراد وہ عقل و فطرت ہے جس پر انسان كی پیدائش ہوئی ہے، اور وہ كسی تعلیم كے نتیجہ میں حاصل نہ ہوئی ہو ، جیسا كہ اللہ نے فرمایا: ( فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ) "پس آپ یكسو ہو كر اپنا منھ دین كی طرف متوجہ كردیں ،اللہ تعالی كی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں كو پیدا كیا ہے ، اللہ تعالی كے بنائے كو بدلنا نہیں ، یہی سیدھا دین ہےلیكن اكثر لوگ نہیں سمجھتے "

(الروم :30)
 

اور نبی اكرم aنے فرمایا: "مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلا يُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ تمام بچے فطرت (اسلام)پرپیدا كئے جاتے ہیں،پھر ان كےوالدین انہیں یہودی ، یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں اور مسلم كی روایت كے الفاظ كچھ اس طرح ہیں : «مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلا وَهُوَ عَلَى الْمِلَّةِ ہر پیدا ہونے والا بچہ ملت(اسلام) پر پیدا ہوتا ہے "

( بخاری:1358)
 


ایك روایت كے الفاظ كچھ یوں ہیں: «إِلا عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ، حَتَّى يُبَيِّنَ عَنْهُ لِسَانُهُ»۔”ہر بچہ اسی ملت پہ پیدا ہوتا ہے ، یہاں تك كہ اس كے متعلق اس كی زبان بیان كردے ایك اور روایت جس كے الفاظ اس طرح ہیں: "لَيْسَ مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلا عَلَى هَذِهِ الْفِطْرَةِ، حَتَّى يُعَبِّرَ عَنْهُ لِسَانُهُ»”كوئی بھی بچہ اسی فطرت پر پیدا ہوتا ہے ، یہاں تك كہ اس كی زبان اس كے بارے میں وضاحت كردے"

(مسلم:2658)
 

معلوم ہوا كہ تمام مخلوق اپنی اصل فطر ت پر برقرار رہتی ہے ، اور اس كے دل میں اللہ كے موجود ہونے كا ایمان اس وقت تك پایا جاتا ہے جب تك كہ اس فطرت كے خلاف كوئی ایسی چیز رونما ہو جائے جو اس میں خرابی برپا كردے ،اللہ تعالی نے ایك حدیث قدسی میں اس كی وضاحت اس طرح كی ہے : «إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ، وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ "میں نے اپنے تمام بندوں كو مسلمان پیدا كیا ، لیكن ان كے پاس شیطان آكر انہیں ان كے دین سے دور اڑا لے گیا "

(مسلم:2665)
 

اور كبھی كبھی ایسا بھی ہوتا ہے كہ ان كی فطرت پر شكوك و شبہات اور شہوات كا پردہ زنگ آلود ہو جاتا ہے لیكن مشكل كی گھڑیوں میں اور بحرانی كیفیت كے رونما ہونے كے وقت اس كے تمام حقائق آشكارا ہو جاتے ہیں ، جیسا كہ اللہ كا فرمان ہے : (فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ) "پس یہ لوگ جب كشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالی ہی كو پكارتے ہیں ، اس كےلئے عبادت كو خالص كركے ، پھر جب وہ انہیں خشكی كی طرف بچا لاتا ہے تو اسی وقت شرك كرنے لگتے ہیں“

(العنكبوت:65)
 

عقل صریح

ایسی عقل صریح جو شكوك و شبہات اور شہوتوں سے محفوظ ہو ، كيونكہ وہ قطعی فیصلہ دیتی ہے كہ كائنات كی جملہ مخلوقات بغیر كسی پیدا كرنے والے كے وجود پذیر نہیں ہو سكتیں كیونكہ بغیر خالق كے اتفاقا كسی چیز كا وجود میں آنا ناممكن ہی نہیں بلكہ محال ہے ، اور اس كا بھی امكان ممكن نہیں كہ وہ بذات خود وجود میں آجائے، اس لئے كہ جو خود معدوم ہو وہ كسی كو وجود نہیں بخش سكتا ، چنانچہ كسی ایجاد كرنے والے خالق كا موجود ہونا لازمی ہے ، اور وہی وہ اللہ سبحانہ تعالی كی ذات اقدس ہے

اسلام قبول كرنے سے پہلے جبیر بن مطعم b بدری قیدیوں كی رہائی كی خاطر رسول اللہ aكی خدمت میں حاضر ہوئے ، اس دن نبی اكرم aكو مغرب كی نماز میں سورہ طور كی قراءت كرتے ہوئے سنا كہ جب آپ aاس آیت پر پہنچے: (فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِّثْلِهِ إِن كَانُوا صَادِقِينَ ﴿٣٤﴾ أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ ﴿٣٥﴾ أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ ﴿٣٦﴾ أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ ﴿٣٧﴾) "كیا یہ بغیر كسی ( پیدا كرنے والے ) كے خود بخود پیدا ہو گئے ہیں ؟ یا خود پیدا كرنے والے ہیں؟* كیا انہوں نے ہی آسمانوں اور زمین كو پیدا كیا ہے ؟ بلكہ یہ یقین نہ كرنے والے لوگ ہیں * یا كیا ان كے پاس تیرے رب كے خزانے ہیں ؟ یا (ان خزانوں كے ) یہ داروغہ ہیں "

(الطور:35-37)
 


"“۔تو جبیر بن مطعم b فرماتے ہیں كہ مجھے ایسا لگا كہ میرا دل ہی اڑ جائے گا ، اور یہ پہلا موقعہ تھا كہ ایمان میرے دل میں سمایا تھا "

(بخاري : 4854 ,مسلم:463)
 

دور جاہلیت كے خطیب العرب قس بن ساعدہ الایادی صراحت عقل سے استدلال كرتے ہوئے فرماتے ہیں: "مینگنی اونٹ كے وجود كا پتہ دیتی ہے ، نشان پا كسی گذرنے والے كوبتاتی ہے ، یہ برجوں والے آسمان ، اور كشادہ وادیوں والی زمین كیا كسی بڑے ماہر كاری گر كا پتہ نہیں دیتیں"

اعتراف شدہ احساس

اللہ كا ارشاد ہے : (سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ) "عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق عالم میں بھی دكھائیں گے ،اور خودان كی اپنی ذات میں بھی یہاں تك كہ ان پر كھل جائے كہ حق یہی ہے "

(فصلت:53)
 

اوراس كی مختلف شكلیں ہیں، چند ایك كا تذكرہ كیا جارہا ہے ، جیسے :

1- انبياء كرام كی نشانیاں اور معجزات

-اولیاء اور صالحین كی كرامات

3-دعا كرنے والوں كی دعاؤں كی قبولیت۔

اللہ تعالی نے اپنے نبی نوح علیہ السلام كے بارے میں فرمایا : (فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ ﴿١٠﴾ فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ ﴿١١﴾ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَىٰ أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ ﴿١٢﴾ وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ ﴿١٣﴾ تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ ﴿١٤﴾) "پس اس نے اپنے رب سے دعا كی كہ میں بے بس ہوں تو میری مدد كر* پس ہم نے آسمان كے دروازوں كو زوركے مینہ سے كھول دیا *اور زمين سے چشموں كو جاری كردیا پس اس كام كےلئے جو مقدر كیا گیا تھا (دونوں ) پانی جمع ہو گئے * اور ہم نے اسے تختوں اور كیلوں والی ( كشتی ) پر سوار كرلیا * جو ہماری آنكھوں كے سامنے چل رہی تھی ، بدلہ اس كی طرف سے جس كا كفر كیا گیا تھا "

(القمر:10-14)
 

ایك دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا : (فَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنِ اضْرِب بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ ۖ فَانفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ ﴿٦٣﴾ وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الْآخَرِينَ ﴿٦٤﴾ وَأَنجَيْنَا مُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُ أَجْمَعِينَ ﴿٦٥﴾ ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ ﴿٦٦﴾ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ﴿٦٧﴾) "ہم نے موسی كی طرف وحی بھیجی كہ دریا پر اپنی لاٹھی مار ، پس اسی وقت دریا پھٹ گیا اور ہر ایك حصہ پانی كا مثل بڑے پہاڑ كے ہوگیا * اور ہم نے اسی جگہ دوسروں كو نزدیك لا كھڑا كردیا *اور موسی( علیہ السلام) كو اور اس كے تما م ساتھیوں كو نجات دے دی *پھر اور سب دوسروں كو ڈبو دیا * یقینا اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں كے اكثر لوگ ایمان والے نہیں "

(الشعراء:63-67)
 

الله تعالی نے اپنے نبی عیسی علیہ السلام كے بارے میں فرمایا: (وَرَسُولًا إِلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنِّي قَدْ جِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّـهِ ۖ وَأُبْرِئُ الْأَ كْمَهَ وَالْأَ بْرَصَ وَأُحْيِي الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۖ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ) "اور وہ بنی اسرائیل كی طرف رسول ہوگا كہ میں تمہارے پاس تمہارے رب كی نشانیاں لایا ہوں ، میں تمہارے لئے پرندے كی شكل كی طرح مٹی كا پرندہ بناتا ہوں ، پھر اس میں پھونك مارتا ہوں تو وہ اللہ تعالی كے حكم سے پرندہ بن جاتا ہےاور اللہ تعالی كے حكم سے میں مادر زاد اندھے كو اور كوڑ ھی كو اچھا كردیتا ہوں اور مردوں كو زندہ كرتا ہوں اور جو كچھ تم كھاؤ اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ كرو میں تمہیں بتا دیتا ہوں، اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو"

(آل عمران:49)
 

اور اس جیسی بہت ساری مثالیں ہمارے نبی محمدa كو پیش آئیں، جیسا كہ انس بن مالك bسے مروی ہے ، فرماتے ہیں كہ ایك شخص جمعہ كے دن دار القضاء كی جانب واقع دروازے سے مسجد میں داخل ہوا، اور رسول اكرم a كھڑے ہوكر جمعہ كا خطبہ فرما رہے تھے كہ اسی حالت میں یہ شخص رسول اللہ a كے روبرو كھڑا ہوكر فرمایا:اے اللہ كے رسول!اموال (جانور)تباہ ہو گئے ، راستے منقطع ہو گئے، تو آپ ہمارے لئے اللہ سے بارش برسانے كی دعا فرمادیں ، اتنے میں رسول اللہ aنےدعا كی خاطر اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ،اور اللہ سے یہ فریاد كی :اے اللہ!ہم پر بارش برسا ، اے اللہ!ہم پر بارش برسا ، اے اللہ!ہم پر بارش برسا ، انس bكا بیان ہے كہ اللہ كی قسم ہم نے تو آسمان میں كوئی ابر نہ دیكھا اور نہ ہی كوئی ابر كا ٹكڑا،اور ہمارے اور سلع پہاڑی كے درمیان نہ تو كوئی مكان اور نہ ہی كوئی گھر حائل تھا یعنی آسمان بالكل صاف نظر آرہا تھا ، انس bكا بیان ہے كہ اسی دوران سلع پہاڑی كے پیچھے سے ڈھال نما ابر باراں كا ایك ٹكڑا رونما ہوا ، اور بیچ آسمان پہنچ كر وہ منتشر ہوگیا ، اور برسنا شروع كردیا،تو پھر اللہ كی قسم !ایك ہفتے تك ہم نے دھوپ نہ دیكھا، اس كے بعد اسی دروازے سے جمعہ كے دن ایك شخص آیا ، اور رسول اللہ a كھڑے ہوكر خطبہ جمعہ فرما رہے تھے ، كھڑے كھڑے وہ شخص آپ كے سامنے آیا اور كہنے لگا :اے اللہ كے رسول!اموال (جانور)تباہ ہو گئے ، راستے منقطع ہو گئے، تو آپ ہمارے لئے اللہ سے بارش روكنے كی دعا فرمادیں ، اتنے میں رسول اللہ aنےدعا كی خاطر اپنے دونوں ہاتھ

اٹھائے ،اور اللہ سے یہ فریاد كی : "اے اللہ!ہمارے چاروں طرف برسا اور ہم پر نہ برسا، اے اللہ!ٹیلوں ، ٹیكریوں اور نالوں كے نشیب میں ، درخت اگنے كی جگہوں میں برسا،انس b فرماتے ہیں:اسی وقت ابر كھل گیا ، اور ہم نكل كر دھوپ میں چلنے لگ گئے "

(بخاري : 1014,مسلم:897)
 

اور عمومی طور پر اللہ عزوجل نے فرمایا : ( أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَـٰهٌ مَّعَ اللَّـهِ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ) "بے كس كی پكار كو جب كہ وہ پكارے ، كون قبول كركے سختی كو دور كردیتا ہے ؟ اور تمہیں زمین كا خلیفہ بناتا ہے ، كیا اللہ تعالی كے ساتھ اور معبودہے ؟تم بہت كم نصیحت و عبرت حاصل كرتے ہو "

(النمل:62)
 

رسولوں كی بہت ساری نشانیاں ، دعا كرنے والوں كی دعا كی قبولیت ، مصیبت زدہ كی فریاد ، یہ تمام كی تمام محسوس كی جانے والی دلیلیں ہیں جسے لوگوں كی ایك جماعت نے اچھی طرح جانا و سمجھا ہے ، جو ان رسولوں كے بھیجنے والے ،اور ان كی دعاؤں كے قبول كرنے والے ، اور ان كی فریاد سننے والے كے وجود كی كھلی اور یقینی گواہی دے رہے ہیں ، اوروہ اللہ سبحانہ كی ذات ہے

صحیح شریعت

شرع صحیح كا مطلب ہے قرآن و صحیح سنت سے ثابت شدہ امر، جیسا كہ اللہ تعالی نے فرمایا : ( أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَـٰهٌ مَّعَ اللَّـهِ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ) "كیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں كرتے ؟ اگر یہ اللہ تعالی كے سوا كسی اور كی طرف سے ہوتا تو یقینا اس میں بہت كچھ اختلاف پاتے"

(النساء:82)
 

ایك دوسری جگہ اللہ نے فرمایا : (يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُم بُرْهَانٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُّبِينًا ) "اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب كی طرف سے سند اور دلیل آ پہنچی اور ہم نے تمہاری جانب واضح اور صاف نو ر اتار دیا ہے"

(النساء:174)
 

الله كا ارشاد ہے : (يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ) "اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب كی طرف سے ایك ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جو روگ ہیں ان كے لیے شفا ہے ،اور رہنمائی كرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں كے لئے "

(يونس:57)
 

ایك دوسری جگہ اللہ كا ارشادہے : (أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ) "كیا انہیں یہ كافی نہیں ؟ كہ ہم نے آپ پر كتاب نازل فرما دی جو ان پر پڑھی جا رہی ہے ، اس میں رحمت(بھی ) ہے اور نصیحت ( بھی ) ہے ان لوگوں كے لئے جو ایمان لاتے ہیں"

(العنكبوت:51)
 

جن ثابت شده غیبی معلومات ، عقائد صحیحہ ، عدل كرنے والی شریعتیں ، اور پائیدار اخلاق كا تذكرہ قرآن عظیم كررہا ہے وہ اس بات كی بین ثبوت ہے كہ یہ سب اللہ ہی كی جانب سے ہے ، مخلوقات میں سے كسی سے ایسا ہونا ممكن ہی نہیں ہے۔ یہی اصل وجہ ہے كہ حقیقت میں كسی بھی انسان نے اللہ كے وجود كے انكار كرنے كی جرات نہیں كی ، ہاں دور قدیم و جدید كے چند قسم كے ملحدوں نے اس كے خلاف زور آزمائی كی كوشش كی ، درج ذیل سطور میں اس حقیقت سے پر دہ اٹھایا جا رہا ہے






دہریے

یہ وہی دہریے فلاسفہ ہیں جو كائنات كے قدیم اور ازلی ہونے كے قائل ہیں، اور انہیں جیسے دور حاضر میں ایك گروہ ہے جسے نئے بے دین كے نام سے جانا جاتا ہے دہریوں كے نظریا ت كچھ اس طرح ہیں ، جیسا كہ اللہ نے وضاحت كی ہے : ( وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ ۚ وَمَا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ) "ہماری زندگی تو صرف دنیا كی زندگی ہی ہے ، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں ، اور ہمیں صرف زمانہ ہی مارڈالتا ہے ، (در اصل) انہیں اس كا كچھ علم ہی نہیں ،یہ تو صرف( قیاس اور ) اٹكل سے ہی كا م لے رہے ہیں"

(الجاثية:24)
 

دہریوں كا یہ خیال ہےكہ كائنات كا نظام خود بخود چلتا ہے ، اور یہ كائنات قدیم ، اور ازلی و ابدی ہے ، ساتھ ہی وہ یہ بھی كہتے ہیں كہ پیٹوں سے لوگ نكل كر آرہے ہیں (پیدا ہو رہے ہیں ) اور زمین انہیں نگل جارہی ہے (وہ مر رہے ہیں) اور زمانہ ہمیں یوں ہی ہلاك كرتا رہتا ہے ، اپنے انہیں نظریات و افكار كی بنا پر انہوں نے مخلوقات كو خالق سے دور كردیا ، ان كے ان نظریا ت وعقائد كی تردید اللہ نے قرآن كریم كی اس آیت سے فرمائی: "انہیں اس كا كچھ علم ہی نہیں"

نہ تو یہ عقل كی بات ہے اورنہ ہی نقل كی، اورنہ ہی اس كا تعلق احساس سے ہے اورنہ ہی فطرت سے ، بلكہ یہ صرف اٹكل پچو مارنا اور توہم كا شكار ہونا ہے ، جیسے كہ اللہ نے آیت كے اس ٹكڑے سے وضاحت كردی : "یہ تو صرف( قیاس اور ) اٹكل سے ہی كا م لے رہے ہیں"

مادہ پرست

ان كا نظریہ یہ ہے كہ كائنات كا وجود فطرت كے نتیجے میں ہے ، یعنی كائنات میں پائے جانے والے پیڑ پودے ، یا جانور ، یا جمادات اور ان كی الگ الگ خصوصیات ، اور ان كے كیمیائی اجزاء سے ملكر خود وجود پذیر ہو گئے اور حركت میں آگئے ، یعنی ان كا كوئی خالق نہیں ہے ، بلكہ كائنات كے انہیں اجزاء كے تركیبی تاثیر كا نتیجہ ہے ، مطلب یہ ہے كہ كائنات خود اپنے آپ كا موجد و خالق ہے

ان كے اس نظریہ كی تردید تو بالكل بدیہی ہے ، اس طور سے كہ ایك شئی آن واحد میں خالق بھی ہو اور مخلوق بھی ایسا تو ممكن نہیں ، جیسا كہ اللہ تعالی نے فرمایا : "كیا یہ بغیر كسی ( پیدا كرنے والے ) كے خود بخود پیدا ہو گئے ہیں؟یا یہ خود پیدا كرنے والے ہیں؟ "

(الطور:35)
 

كائنات كے وجود كا جس فطرت كو سبب گردانا جارہا ہے حقیقت میں وہ تمام كے تمام جمادات ہیں ، جو بہرے ، اندھے ، گونگے ہیں ، وہ سوجھ بوجھ اور قوت احساس سے بالكل عاری ہیں ، تو بھلا یہ زندہ ، سننے ودیكھنے ، بولنے اور احساس كرنے ، اور الم و امل (امید) كا شعو ر ركھنے والی مخلوقات كو كیسے وجود بخش سكتے ہیں ؟ كیونكہ جو خود ہی محتاج ہووہ غیر كو كیا دے سكتا ہے

كائنات كو اتفاقیہ وجود پذیركہنے والے

ان لوگوں كے خیال میں كائنات صرف ایك اتفاقی طریقے سے وجود میں آئی ہے ، وہ اس طرح سے كہ كائنات كے مختلف ذرات اور اجزاء كے كیمیائی عمل سے گذر كر اتفاقی طور پر زندگی نمود ہوگئی اور قسمہا قسم كی مخلوقات بن گئیں ، اس میں نہ تو كسی تدبیر كا دخل ہے اور نہ ہی اس تعلق سے پہلے كوئی حكم نافذ كیا گیا ہے ، حالانكہ كائنات كے وجود كے تعلق سے اس گروہ كے نظریات و خیالات تو صرف ان كے اس دعوی كا تصور ہی اس كے ساقط اور ناقابل التفات ہونے كے لئے كافی ہے ، اس لئے كہ دقت خلقت ، اس كے انوكھے نظام ، اور ایك پے درپے طریقے پر اس كاجاری و ساری رہنا ، اور مضبوط توازن كا برقرار رہنا اس كے اتفاقیہ وجود پذیر ہونے كے افكار و نظریات كو سرے سے خارج كرتے ہیں،جیسا كہ اللہ تعالی نے فرمایا: "یہ صناعت اللہ كی جس نے ہر چیز كو مضبوط بنایا ہے"

(النمل:88)
 

ایك اور جگہ اللہ نےفرمایا : (اللَّـهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّـهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا) "اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی كے مثل زمینیں بھی ، اس كا حكم ان كے درمیان اترتا ہے تاكہ تم جان لو كہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ، اور اللہ تعالی نے ہر چیز كو باعتبار علم گھیر ركھا ہے"

(الطلاق:12)
 

4-وجود كائنات پر كمیونسٹ كا نظریہ

كمیونسٹ اصل میں كارل ماركس كے پیرو كا ر ہیں ، ان كا اعتقاد ہے :كوئی معبود ہی نہیں ، اور زندگی ایك مادہ ہے۔ جب كمیونسٹوں نے اپنی حكومت كی بنیاد اس گرتے ہوئے ندی كے دھانے پر اور اس اعتقاد باطل پر ڈالی تو انتہائی كم مدت میں وہ حكومت ڈھہہ گئی ، اور متعدد چھوٹے چھوٹے ملكوں میں منقسم گئی

تاریخی پس منظر میں یكے دكے افراد

جیسے كہ فرعون نے رب كے انكار كے ساتھ آواز بلند كی ، اور كچھ یوں كہا (وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ) "اور رب العالمین كیا چیز ہے؟"

(الشعراء:23)
 

اوراس كے بعد اس نے خود اپنے لئے ہی رب ہونےكا دعوی كرلیا اور كہا : (أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ) "تم سب كا اعلی رب میں ہی ہوں"

(النازعات:24)
 

پھر فرعون نے حد سے تجاوز كرتے ہوئے اپنے لئے الوہیت كا دعوی كر بیٹھا ، اور كچھ اس طرح كہا : ( مَا عَلِمْتُ لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرِي) "میں تو اپنے سوا كسی كو تمہارا معبود نہیں جانتا"

(القصص:38)
 

اور موسی علیہ السلام كو دھمكاتے ہوئے یوں كہا : (قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ) "اگر تونے میرے سوا كسی اور كو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا"

(الشعراء:29)
 

اور نمرود جیسوں نے ابراہیم علیہ السلام سے ان كے رب كے متعلق حجت بازی كی ، اللہ نے اسے اس طرح بیان كیا ہے : ( إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ ۖ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّـهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ ۗ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ) "جب ابراہیم( علیہ السلام) نے كہا كہ میرا رب تو وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے ، وہ كہنے لگا میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں ، ابراہیم( علیہ السلام )نے كہا اللہ تعالی سورج كو مشرق كی طرف سے لے آتا ہے تو اسے مغرب كی طرف سے لے آ، اب تو وہ كافر بھونچكا رہ گیا ، اور اللہ تعالی ظالموں كو ہدایت نہیں دیتا"

(البقرة:258)
 

یہ تمام كے تمام اپنے ہی دلوں كے خلاف الٹا كرتے رہے ، اور اپنی ہی فطرت كا انكار كرتے رہے ، جیسا كہ اللہ كا بیان ہے : (وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ ) "انہوں نے انكار كردیا ، حالانكہ ان كے دل یقین كرچكے تھے صرف ظلم اور تكبر كی بنا پر، پس دیكھ لیجئے كہ ان فتنہ پرداز لوگوں كا انجام كیسا كچھ ہوا “۔ یہی وجہ ہے ان میں سے كوئی بھی قائم رہنے والا نہ تو قائم رہ سكا اور نہ ہی ان میں سے كوئی بچ سكا"

(النمل:14)
 

2- اللہ كے رب ہونےپر ایمان

ربوبیت پر ایمان لانے كامطلب یہ پختہ یقین ہے كہ اللہ تعالی تنہا و اكیلا ہے ، وہی رب ہے ، وہی خالق اور مالك ہے ، وہی حكم كرنے والا ہے ، اور رب كا معنی ہے :وہ آقا ، مالك ،اور تصرف كرنے والا ، جو اپنی نعمت سے سارے جہان كی پرورش كرنے والا ، جیسا كہ اللہ تعالی نے فرمایا : (قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ ﴿٤٩﴾ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ ﴿٥٠﴾) "فرعون نے پوچھا كہ اے موسی! تم دونوں كا رب كون ہے ؟* جواب دیا كہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر ایك كو اس كی خاص صورت ، شكل عنایت فرمائی ، پھر را ہ سجھا دی "

(طه:49-50)
 

تین چیزوں پرربوبیت كا محورقائم ہے :

1-( خلق (پیدائش

اللہ ہی ہر چیز كا خالق ہے ، اور اس كے سوا جتنی چیزیں ہیں سب مخلوق ہیں ، جیسا كہ اللہ نے فرمایا : (اللَّـهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ) "اللہ ہر چیز كا پیدا كرنے والا ہے ،اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے "

(الزمر:62)
 
seegogImg

ایك اور مقام پر اللہ نے فرمایا : ( وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا) "اور ہر چیز كو اس نے پیدا كركے ایك مناسب اندازہ ٹھہرا دیا ہے"

(الفرقان:2)
 

اور تخلیق كی نسبت جو اللہ كے علاوہ كی طرف كی گئی ہے تو حقیقت میں وہ نسبتی ہے ، جس كا مطلب تشكیل ، تالیف اور تقدیر ہے ، اس كا قطعا مطلب عدم سے وجود میں لانا نہیں ہے ، جیسا كہ اللہ نے اپنےاس فرمان میں وضاحت كی ہے : (فَتَبَارَكَ اللَّـهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ) "بركتوں والا ہے وہ اللہ جو سب سے بہترین پیدا كرنے والا ہے "

(المؤمنون:14)
 
seegogImg

2- (بادشاہت) ملك

اللہ ہی سب كا مالك و بادشاہ ہے ،اور اس كے علاوہ جتنے ہیں سب اس كے بندے اور غلام ہیں ، جیسا كہ اللہ تعالی نے فرمایا : (أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ) "كیا تجھے علم نہیں كہ زمین و آسمان كا ملك اللہ ہی كے لئے ہے ، اور اللہ كے سوا تمہارا كوئی ولی اور مددگار نہیں"

(البقرة:107)
 

اللہ نے دوسری جگہ فرمایا : (لِلَّـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ) "آسمانوں او ر زمین كی بادشاہی اللہ ہی كے لئے ہے ،اور اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے"

(آل عمران:189)
 

اللہ نے دوسری جگہ فرمایا : : ( قُلِ اللَّـهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ) "آپ كہہ دیجیئے ، اے اللہ ! اے تمام جہان كے مالك!تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے"

(آل عمران:26)
 

اللہ نے دوسری جگہ فرمایا : (وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ ) "اور نہ ہی اپنی بادشاہت میں كسی كو شریك و ساجھی ركھتا ہے"

(الإسراء:111)
 

اللہ نے دوسری جگہ فرمایا : (ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ ۚ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ) "یہی ہے اللہ تم سب كا پالنے والا ،اسی كی سلطنت ہے، جنہیں تم اس كے سوا پكار رہے ہو وہ تو كھجور كی گٹھلی كے چھلكے كے بھی مالك نہیں"

(فاطر:13)
 

اور اس كے سوا جس كسی كی طرف ملكیت و بادشاہت كی نسبت كی گئی ہے وہ نسبتی ، وقتی اور جزئی ہے ، جیسا كہ اللہ نے اس آیت میں اس كی وضاحت كی ہے : (يَا قَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظَاهِرِينَ فِي الْأَرْضِ) "اے میری قوم كے لوگو!آج تو بادشاہت تمہاری ہے كہ اس زمین پر تم غالب ہو"

(غافر:29)
 

اللہ نے دوسری جگہ فرمایا : ( أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ) "یا تمہاری ملكیت كی لونڈی"

(النساء:3)
 

اور رہی بات مطلق كامل بادشاہت و ملكیت كی تو وہ صرف ایك اللہ ہی كی ہے ، جیسا كہ اس كا فرمان ہے : ( إِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا وَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ) "خود زمين كے اور تمام زمین والوں كے وارث ہم ہی ہو ں گے اور سب لوگ ہماری ہی طرف لوٹا كر لائے جائیں گے "

(مريم:40)
 

خدا نے کام کرنے کی صلاحیت کو مسترد کیا ہے

3- (امر (حكم

اللہ ہی حاكم ہے ،اور اس كے سوا جتنے ہیں سب كے سب محكوم ہیں ، جیسا كہ اس كا ارشاد ہے : ( قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّـهِ) "آپ كہہ دیجئے كہ كام كل كا كل اللہ كے اختیار میں ہے"

(آل عمران:154)
 

ایك دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا : (أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ) "” یاد ركھو ! اللہ ہی كے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاكم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم كا پروردگار ہے"

(الأعراف:54)
 

الله كا ارشاد ہے : ( وَقُضِيَ الْأَمْرُ ۚ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ ) "اور كا م انتہا تك پہنچا دیا جائے ، اللہ ہی كی طرف تمام كام لوٹائے جاتے ہیں "

(البقرة:210)
 

اور اللہ نے اپنے نبی محمدA كو فرمایا : ( لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ ) "اے پیغمبر! آپ كے اختیار میں كچھ نہیں "

(آل عمران:128)
 

تو بھلا آپ ہی بتائیں اس شخص كے متعلق جو آپ سے كم تر ہے ،(تو بھلا اس كے اختیار میں كیا ہو سكتا ہے) جیسا كہ اللہ نے فرمایا : (لِلَّـهِ الْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ) "اس سے پہلے اور اس كے بعد بھی اختیار اللہ تعالی ہی كا ہے"

(الروم:4)
 

اپنی مخلوق میں وہ تنہا حاكم ہے ، اور رہی بات جو حكم اس كے علاوہ كی طرف اضافت كی گئی ہے جیسے اللہ كے اس قول میں : (فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ ۖ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ) "پھر بھی ان لوگوں نے فرعون كے احكام كی پیروی كی ،اور فرعون كا كوئی حكم درست تھا ہی نہیں “تو وہ نسبتی حكم ہے جو اللہ كی مشیئت كے ضمن میں ہے ، اگر وہ چاہے تو اسے پاس كردے یا چاہے تو اسے رد كردے"

(هود:97)
 

اور اللہ سبحانہ تعالی كا حكم دنیا و دین دونوں كے حكم كو شامل ہے ، دنیا كا حكم تو بہر صورت نافذ ہوكر رہتاہے ، جو اس كی مشیئت سے جڑا رہتا ہے ، جیسا كہ اللہ كا ارشاد ہے : (إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ) "وہ جب كبھی كسی چیز كا ارادہ كرتا ہے اسے اتنا فرما دینا (كافی ہے ) كہ ہو جا ، وہ اسی وقت ہو جاتی ہے"

(يس:82)
 

اور رہی با ت اس كے شرعی حكم كی تو وہ محل آزمائش ہے ، اور وہ بھی محبت الہی سے جڑا ہوا ہے ، وہ كبھی واقع ہو سكتا ہے اور كبھی نہیں بھی ہو سكتا ہے، اور یہ سارے كے سارے اس كے عمومی مشیئت میں داخل ہیں ، جیسا كہ اس كافرمان ہے : (لِمَن شَاءَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ ﴿٢٨﴾ وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ﴿٢٩﴾) "( بالخصوص) اس كے لئے جو تم میں سے سیدھی راہ پر چلنا چاہے * اور تم بغیر پروردگار عالم كے چاہے كچھ نہیں چاہ سكتے "

(التكوير:28-29)
 

خلق ، ملك ، اور امر انہیں تینوں بنیادی صفات ربوبیت سے باقی جملہ صفات ربوبیت آكر مل جاتی ہیں جیسے رزق ، مارنا ، جلانا، بخشنا، بارش نازل كرنا ، زمین سے پیڑ پودے اگانا ، ہوائیں چلانا ، كشتی چلانا ، شب و روز كا آنا جانا ، حمل قرار پانا ، بچے كی پیدائش ، تندرستی و بیماری ، عزت و ذلت وغیرہ

اللہ سبحانہ تعالی كی ربوبیت پر ایمان لانا فطرت میں داخل ہے ، بڑی وضاحت كے ساتھ عقل كا ادراك ہے ، كائنات میں اسے محسوس كیا جاتا ہے ، اور اس كے متعلق وافر مقدار میں آیات قرآنیہ و احادیث نبویہ موجود ہیں ، ذیل كے سطور میں قرآن كریم كی چند آیتیں بطور دلیل پیش كی جا رہی ہیں: (إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللَّـهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ) "آسمانوں ا ور زمین كی پیدائش , رات دن كا ہیر پھیر ، كشتیوں كا لوگوں كو نفع دینے والی چیزوں كو لئے ہو ئے سمندروں میں چلنا ، آسمان سے پانی اتار كرمردہ زمین كو زندہ كردینا ، اس میں ہر قسم كے جانوروں كو پھیلا دینا ، ہواؤں كے رخ بدلنا ، اور بادل جو آسمان اور زمین كے درمیان مسخر ہیں ، ان میں عقلمندوں كے لئے( قدرت الہی) كی نشانیاں ہیں"

(البقرة:164)
 

(تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ ۖ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ ۖ وَتَرْزُقُ مَن تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ) "تو ہی رات كو دن میں داخل كرتا ہے اور دن كو رات میں لے جاتا ہے ، تو ہی بے جان سے جاندار پیدا كرتا ہے ، اور تو جاندار سے بے جان پیدا كرتاہے ، تو ہی ہے كہ جسے چاہتا ہے بے شمار روزی دیتا ہے"

(آل عمران:27)
 


( إِنَّ اللَّـهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَىٰ ۖ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ ﴿٩٥﴾ فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ﴿٩٦﴾ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۗ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴿٩٧﴾ وَهُوَ الَّذِي أَنشَأَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ ۗ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ ﴿٩٨﴾ وَهُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا وَمِنَ النَّخْلِ مِن طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ وَجَنَّاتٍ مِّنْ أَعْنَابٍ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ۗ انظُرُوا إِلَىٰ ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَيَنْعِهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكُمْ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ﴿٩٩﴾)

(الأنعام:95-99)
 

"بیشك اللہ تعالی دانا كو اور گٹھلیوں كو پھاڑنے والا ہے ، وہ جاندار كو بے جان سے نكال لاتا ہے ، اور وہ بے جان كو جاندار سے نكالنے والا ہے ، اللہ تعالی یہ ہے ، سو تم كہا ں الٹے چلے جارہے ہو * وہ صبح كا نكالنے والا ہے اور اس نے رات كو را حت كی چیز بنایا ہے ، اور سورج اور چاند كو حساب سے ركھا ہے ، یہ ٹھہرائی بات ہے ایسی ذات كی جو قادر ہے بڑے علم والا * اور وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لئے ستاروں كو پیدا كیا ، تاكہ تم ان كے ذریعہ سے اندھیروں میں، خشكی میں اور دریا میں بھی راستہ معلوم كرسكو ، بیشك ہم نے دلائل خوب كھول كھول كر بیان كردئیے ہیں ان لوگوں كے لئے جو خبر ركھتے ہیں * اور وہ ایسا ہے جس نے تم كو ایك شخص سے پیدا كیا پھر ایك جگہ زیادہ رہنے كی ہے اور ایك جگہ چندے رہنے كی ہے ‍،بیشك ہم نے دلائل خوب كھول كھول كر بیان كردئیے ان لوگوں كے لئے جو سمجھ بوجھ ركھتے ہیں * اور وہ ایسا ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا ، پھر ہم نے اس كے ذریعہ سے ہر قسم كے نبات كو نكالا ، پھر ہم نے اس سے سبز شاخ نكالی كہ اس سے ہم اوپر تلے دانے چڑھے ہوئے نكالتے ہیں اور كھجور كے درختوں سے یعنی ان كے گھبے میں سے ، خوشے ہیں جو نیچے كو لٹكے جاتے ہیں ، اور انگوروں كے باغ اور زیتون اور انار كہ بعض ایك دوسرے سے ملتے جلتے نہیں ہوتے ، ہر ایك كے پھل كو دیكھوجب و ہ پھلتا ہے ،اور اس كے پكنے كو دیكھو، ان میں دلائل ہیں ان لوگوں كے لئے جو ایمان ركھتے ہیں " (اللَّـهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ۖ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۖ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُم بِلِقَاءِ رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ ﴿٢﴾ وَهُوَ الَّذِي مَدَّ الْأَرْضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْهَارًا ۖ وَمِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِيهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ ۖ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴿٣﴾ وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِّنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَىٰ بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴿٤﴾)

(الرعد:2-4)
 

"اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں كو بغیر ستونوں كے بلند كرركھا ہے كہ تم اسے دیكھ رہے ہو ، پھر وہ عرش پر قرار پكڑے ہوئے ہے ، اسی نے سورج اور چاند كو ماتحتی میں لگا ركھا ہے ، ہر ایك میعاد معین پر گشت كررہا ہے ، وہی كام كی تدبیر كرتا ہے ، وہ اپنے نشانات كھول كھول كر بیا ن كررہا ہے كہ تم اپنے رب كی ملاقات كا یقین كرلو*اسی نے زمین پھیلا كر بچھا دی ہے ،اور اس میں پہاڑ اور نہریں پیدا كردی ہیں ، اور اس میں ہر قسم كے پھلوں كے جوڑے دوہرے دوہرے پیدا كردئیے ہیں ، وہ رات كو دن سے چھپا دیتا ہے ، یقینا غور و فكر كرنے والوں كے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں *اور زمین میں مختلف ٹكڑے ایك دوسرے سے لگتے لگاتے ہیں ،اور انگوروں كے باغات ہیں اور كھیت ہیں اور كھجوروں كے درخت ہیں ، شاخ دار اور بعض ایسے ہیں جو بے شاخ ہیں ، سب ایك ہی پانی پلائے جاتے ہیں ، پھر بھی ہم ایك كو ایك پر پھلوں میں برتری دیتے ہیں ، اس میں عقلمندوں كے لئے بہت سی نشانیاں ہیں" (خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۚ تَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ ﴿٣﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ ﴿٤﴾ وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا ۗ لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ ﴿٥﴾ وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ ﴿٦﴾ وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَىٰ بَلَدٍ لَّمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنفُسِ ۚ إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ ﴿٧﴾ وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً ۚ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴿٨﴾ وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ وَمِنْهَا جَائِرٌ ۚ وَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٩﴾ هُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً ۖ لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ ﴿١٠﴾ يُنبِتُ لَكُم بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُونَ وَالنَّخِيلَ وَالْأَعْنَابَ وَمِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴿١١﴾ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ وَالنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِأَمْرِهِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴿١٢﴾ وَمَا ذَرَأَ لَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ ﴿١٣﴾ وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿١٤﴾ أَلْقَىٰ فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ وَأَنْهَارًا وَسُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ﴿١٥﴾ وَعَلَامَاتٍ ۚ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ ﴿١٦﴾ أَفَمَن يَخْلُقُ كَمَن لَّا يَخْلُقُ ۗ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ﴿١٧﴾ وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّـهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿١٨﴾)

(النحل:3-18)
 

اسی نے آسمانوں اور زمین كو حق كے ساتھ پیدا كیا ، وہ اس سے بری ہے جو شرك كرتے ہیں * اس نے انسان كو نطفہ سے پیدا كیا ، پھر وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا * اسی نے چو پائے پیدا كئے جن میں تمہارے لئے گرمی كے لباس ہیں ،اور بھی بہت سے نفع ہیں ،اور بعض تمہارے كھانے كے كام آتے ہیں * اور ان میں تمہاری رونق بھی ہے جب چرا كر لاؤ تب بھی اور جب چرانے لے جاؤ تب بھی *اوروہ تمہارے بوجھ ان شہروں تك اٹھالے جاتے ہیں جہاں تم بغیر آدھی جان كئے پہنچ ہی نہیں سكتے تھے ،یقینا تمہارا رب بڑا ہی شفیق اور نہایت مہربان ہے *گھو ڑوں كو، خچروں كو ، گدھوں كو اس نے پیدا كیا ، تم ان كی سواری لو اوروہ باعث زینت بھی ہیں،اور وہ ایسی بہت سی چیزیں پیدا كرتا ہے جن كا تمہیں علم بھی نہیں *اور اللہ پر سیدھی راہ كا بتا دینا اور بعض ٹیڑھی راہیں ہیں ، اور اگروہ چاہتا تو تم سب كو راہ راست پر لگا دیتا *وہی تمہارے فائدےكے لئے آسمان سے پانی برساتا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے اگے ہوئے درختوں كو تم اپنے جانوروں كو چراتے ہو* اسی سے وہ تمہارے لئے كھیتی اور زیتون اور كھجور اور انگور اور ہر قسم كے پھل اگاتا ہے ، بیشك ان لوگوں كے لئے تو اس میں بڑی نشانی ہے جو غور و فكر كرتے ہیں * اسی نے رات دن ، اور سورج چاند كو تمہارے لئے تابع كردیا ہے اور ستارے بھی اسی كے حكم كے ماتحت ہیں ، یقینا اس میں عقلمندوں كے لئے كئی ایك نشانیاں موجود ہیں * اور بھی بہت سی چیزیں طرح طرح كے رنگ روپ كی اس نے تمہارے لئے زمین پر پھیلا ركھی ہے ، بیشك نصیحت قبول كرنے والوں كے لئے اس میں بڑی بھاری نشانی ہے * اوردریا بھی اس نے تمہارے بس میں كردئیے ہیں كہ تم اس میں سے نكلا ہوا تازہ گوشت كھاؤ ، اور اس میں سے اپنے پہننے كے زیورات نكال سكو ،اور تم دیكھتے ہو كہ كشتیاں اس میں پانی چیر تی ہوئی (چلتی ) ہیں ،اور اس لئے بھی كہ تم اس كا فضل تلاش كرو ،اور ہو سكتا ہے كہ تم شكر گذاری بھی كرو* اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دئیے ہیں تاكہ تمہیں لیكر ہلے نہ ، اور نہریں اور راہیں بنادیں تاكہ تم منزل مقصود كو پہنچو* اور بھی بہت سی نشانیاں مقرر فرمائیں ، اور ستاروں سے بھی لوگ راہ حاصل كرتے ہیں * توكیا وہ جو پیدا كرتا ہے اس جیسا ہے جو پیدا نہیں كرسكتا ؟كیا تم بالكل نہیں سوچتے؟* اور اگر تم اللہ كی نعمتوں كا شمار كرنا چاہو تو تم اسے نہیں كرسكتے ، بیشك اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے ( الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿١١﴾ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ﴿١٢﴾ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ ﴿١٣﴾ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ ۚ فَتَبَارَكَ اللَّـهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ﴿١٤﴾ ثُمَّ إِنَّكُم بَعْدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ ﴿١٥﴾ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ ﴿١٦﴾ وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَائِقَ وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غَافِلِينَ ﴿١٧﴾ وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَأَسْكَنَّاهُ فِي الْأَرْضِ ۖ وَإِنَّا عَلَىٰ ذَهَابٍ بِهِ لَقَادِرُونَ ﴿١٨﴾ فَأَنشَأْنَا لَكُم بِهِ جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ لَّكُمْ فِيهَا فَوَاكِهُ كَثِيرَةٌ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ ﴿١٩﴾ وَشَجَرَةً تَخْرُجُ مِن طُورِ سَيْنَاءَ تَنبُتُ بِالدُّهْنِ وَصِبْغٍ لِّلْآكِلِينَ ﴿٢٠﴾ وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۖ نُّسْقِيكُم مِّمَّا فِي بُطُونِهَا وَلَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ كَثِيرَةٌ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ ﴿٢١﴾ وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ ﴿٢٢﴾)

(المؤمنون:12-22)
 

"یقینا ہم نے انسان كو مٹی كے جوہر سے پیدا كیا *پھر اسے نطفہ بنا كرمحفوظ جگہ میں قرار دے دیا *پھر نطفہ كو ہم نے جما ہوا خون بنا ديا , پھر اس خون كے لوتھڑے كو گوشت كا ٹكڑا كردیا ، پھر گوشت كے ٹكڑے كو ہڈیاں بنادیں ، پھر ہڈیوں كو ہم نے گوشت پہنا دیا ، پھر دوسری بناوٹ میں اس كو پیدا كردیا ، بركتوں والا ہے وہ اللہ جو سب سے بہترین پیدا كرنے والا ہے*اس كے بعد پھر تم سب یقینا مرجانے والے ہو*پھر قیامت كے دن بلا شبہ تم سب اٹھائے جاؤ گے *ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے ہیں اور ہم مخلوقات سے غافل نہیں ہیں *ہم ایك صحیح انداز سے آسمان سے پانی برساتے ہیں ، پھر اسے زمین میں ٹھہرا دیتے ہیں اور ہم اس كے لے جانے پر یقینا قادر ہیں *اسی پانی كے ذریعہ سے ہم تمہارے لئے كھجوروں اور انگوروں كے باغات پیدا كردیتے ہیں ، كہ تمہارے لئے ان میں بہت سے میوے ہوتے ہیں انہیں میں سے تم كھاتے بھی ہو *اور وہ درخت جو طور سینا پہاڑ سے نكلتا ہے جو تیل نكالتا ہے ، اور كھانے والے كے لئے سالن ہے *تمہارے لئے چوپایوں میں بھی بڑی عبرت ہے ، ان كے پیٹوں میں سے ہم تمہیں دودھ پلاتے ہیں ، اور بھی بہت سے نفع تمہارے لئے ان میں ہیں ، ان میں سے بعض بعض كو تم كھاتے بھی ہو *اور ان پر اور كشتیوں پر تم سوار كرائے جاتے ہو" ( أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِن جِبَالٍ فِيهَا مِن بَرَدٍ فَيُصِيبُ بِهِ مَن يَشَاءُ وَيَصْرِفُهُ عَن مَّن يَشَاءُ ۖ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهِ يَذْهَبُ بِالْأَبْصَارِ ﴿٤٣﴾ يُقَلِّبُ اللَّـهُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ ﴿٤٤﴾ وَاللَّـهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِّن مَّاءٍ ۖ فَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَىٰ بَطْنِهِ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَىٰ رِجْلَيْنِ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَىٰ أَرْبَعٍ ۚ يَخْلُقُ اللَّـهُ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿٤٥﴾)

(النور:43-45)
 

"كیا آپ نے نہیں دیكھا كہ اللہ تعالی بادلوں كو چلاتا ہے ، پھر انہیں ملاتا ہے ، پھر انہیں تہہ بہ تہہ كردیتا ہے ، پھر آپ دیكھتے ہیں كہ ان كے درمیان میں سے مینہ برساتا ہے ، وہی آسمان كی جانب سے اولوں كے پہاڑ میں سے اولے برساتا ہے، پھر جنہیں چاہے ان كے پاس انہیں برسائے ، اور جن سے چاہے ان سے انہیں ہٹا دے ، بادل ہی سے نكلنے والی بجلی كی چمك ایسی ہوتی ہے كہ گویا اب آنكھوں كی روشنی لے چلی* اللہ تعالی ہی دن اور رات كو ردوبدل كرتا رہتا ہے ، آنكھوں والوں كے لئے تو اس میں یقینا بڑی بڑی عبرتیں ہیں * تمام كےتمام چلنے پھرنے والے جانداروں كو اللہ تعالی ہی نے پانی سے پیدا كیا ، ان میں سے بعض تو اپنے پیٹ كے بل چلتے ہیں ، بعض دو پاؤں پر چلتے ہیں ، بعض چار پاؤں پر چلتے ہیں ، اللہ تعالی جو چاہتاہے پیدا كرتا ہے ، بیشك اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے"

(أَلَمْ تَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ وَلَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ سَاكِنًا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيلًا ﴿٤٥﴾ ثُمَّ قَبَضْنَاهُ إِلَيْنَا قَبْضًا يَسِيرًا ﴿٤٦﴾ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِبَاسًا وَالنَّوْمَ سُبَاتًا وَجَعَلَ النَّهَارَ نُشُورًا ﴿٤٧﴾ وَهُوَ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ ۚ وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا ﴿٤٨﴾ لِّنُحْيِيَ بِهِ بَلْدَةً مَّيْتًا وَنُسْقِيَهُ مِمَّا خَلَقْنَا أَنْعَامًا وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا ﴿٤٩﴾ وَلَقَدْ صَرَّفْنَاهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوا فَأَبَىٰ أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا ﴿٥٠﴾ وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ نَّذِيرًا ﴿٥١﴾ فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَجَاهِدْهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا ﴿٥٢﴾ وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَـٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَـٰذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَحِجْرًا مَّحْجُورًا ﴿٥٣﴾ وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا ۗ وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا ﴿٥٤﴾)

(الفرقان:45-54)
 

"كیا آپ نے نہیں دیكھا كہ آپ كے رب نے سائے كو كس طرح پھیلا دیا ہے ؟اگر چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا ہی كردیتا ، پھر ہم نے آفتاب كو اس پر دلیل بنایا * پھر ہم نے اسے آہستہ آہستہ اپنی طرف كھینچ لیا * اور وہی ہے جس نے رات كو تمہارے لئے پردہ بنایا اور نیند كو راحت بنائی اور دن كو اٹھ كھڑے ہونے كا وقت * اور وہی ہے جو باران رحمت سے پہلے خوش خبری دینے والی ہواؤں كو بھیجتا ہے ،اور ہم آسمان سے پاك پانی برساتے ہیں * تاكہ اس كے ذریعہ سے مردہ شہر كو زندہ كردیں ، اور اسے ہم اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چوپایوں اور انسانوں كو پلاتے ہیں* اور بیشك ہم نے اسے ان كے درميان طرح طرح سے بیان كیا تاكہ وہ نصیحت حاصل كریں ، مگر پھر بھی اكثر لوگوں نے سوائے نا شكری كے مانا نہیں* اگر ہم چاہتے تو ہرہر بستی میں ایك ڈرانے والا بھیج دیتے * پس آپ كافروں كا كہنا نہ مانیں اور قرآن كے ذریعہ ان سے پوری طاقت سے بڑا جہاد كریں* اور وہی ہےجس نے دو سمندر آپس میں ملا ركھے ہیں ، یہ ہے میٹھا اور مزے دار اور یہ ہے كھاری كڑوا ، اور ان دونوں كے درمیان ایك حجاب اور مضبوط اوٹ كردی * وہ ہے جس نے پانی سے انسان كو پیدا كیا ، پھر اسے نسب والا اور سسرالی رشتوں والا كردیا ، بلا شبہ آپ كا پروردگار (ہر چیز پر ) قادر ہے" (فَسُبْحَانَ اللَّـهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ ﴿١٧﴾ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ ﴿١٨﴾ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ وَكَذَٰلِكَ تُخْرَجُونَ ﴿١٩﴾ وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ ﴿٢٠﴾ وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴿٢١﴾ وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَ ﴿٢٢﴾ وَمِنْ آيَاتِهِ مَنَامُكُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَاؤُكُم مِّن فَضْلِهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ ﴿٢٣﴾ وَمِنْ آيَاتِهِ يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيُحْيِي بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴿٢٤﴾ وَمِنْ آيَاتِهِ أَن تَقُومَ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ بِأَمْرِهِ ۚ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْأَرْضِ إِذَا أَنتُمْ تَخْرُجُونَ ﴿٢٥﴾ وَلَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ ﴿٢٦﴾ وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ۚ وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿٢٧﴾)

(الروم:17-27)
 

"پس اللہ تعالی كی تسبیح پڑھا كرو جب كہ تم شام كرواور جب صبح كرو*تمام تعریفوں كے لائق آسمان و زمین میں صرف وہی ہے ، تیسرے پہر كو اور ظہر كے وقت بھی ،( اس كی پاكیزگی بیان كرو) *( وہی ) زندہ كو مردہ سے اور مردہ كو زندہ سے نكالتا ہے ، اور وہی زمین كو اس كی موت كے بعد زندہ كرتا ہے اسی طرح تم (بھی) نكالے جاؤ گے *اللہ كی نشانیوں میں سے ہے كہ اس نے تم كو مٹی سے پیدا كیا ،پھر اب انسان بن كر (چلتے پھرتے ) پھیل رہے ہو *اور اس كی نشانیوں میں سے ہے كہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا كیں تاكہ تم ان سے آرام پاؤ، اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم كردی ، یقینا غوروفكر كرنے والوں كے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں* اس (كی قدرت) كی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین كی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں كا اختلاف ( بھی ) ہے ، دانش مندوں كے لئے اس میں یقینا بڑی نشانیاں ہیں * اور ( بھی) اس كی (قدرت كی) نشانی تمہاری راتوں اور دن كی نیند میں ہے ، اور اس كے فضل (یعنی روزی) كو تمہارا تلاش كرنا بھی ہے، جو لوگ ( كان لگا كر) سننے كے عادی ہیں ان كے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں * اور اس كی نشانیوں میں سے ایك یہ (بھی) ہے كہ وہ تمہیں ڈرانے اور امیدوار بنانے كے لئے بجلیاں دكھاتا ہے ،اور آسمان سے بارش برساتا ہے ،اور اس سے مردہ زمین كو زندہ كردیتا ہے ، اس میں (بھی) عقلمندوں كے لئے بہت سی نشانیاں ہیں * اس كی ایك نشانی یہ بھی ہے كہ آسمان و زمین اسی كے حكم سے قائم ہیں ، پھر جب وہ تمہیں آواز دے گا صرف ایك بار كی آواز كے ساتھ ہی تم سب زمین سے نكل آؤ گے * اور زمین و آسمان كی ہرہر چیز اسی كی ملكیت ہے ،اور ہر ایك اسی كے فرمان كے ماتحت ہے * وہی ہے جو اول بار مخلوق كو پیدا كرتا ہے پھرسے دوبارہ پیدا كرے گا، اور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے ، اسی كی بہترین اوراعلی صفت ہے, آسمانوں میں اور زمین میں بھی ،اور وہی غلبہ والا ، حكمت والا ہے" (الرَّحْمَـٰنُ ﴿١﴾ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ﴿٢﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ ﴿٣﴾ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴿٤﴾ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ﴿٥﴾ وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ ﴿٦﴾ وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ ﴿٧﴾ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ ﴿٨﴾ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ ﴿٩﴾ وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ ﴿١٠﴾ فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ ﴿١١﴾ وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ ﴿١٢﴾ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿١٣﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ ﴿١٤﴾ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ ﴿١٥﴾ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿١٦﴾ رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ ﴿١٧﴾ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿١٨﴾ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ﴿١٩﴾ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ ﴿٢٠﴾ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٢١﴾ يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ ﴿٢٢﴾ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٢٣﴾ وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ ﴿٢٤﴾ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٢٥﴾)

(الرحمن:1-25)
 

"رحمن نے * قرآن سكھایا* اسی نے انسان كو پیدا كیا * اور اسے بولنا سكھایا* آفتاب اور ماہتاب (مقررہ)حساب سے ہیں * اور ستارے اور درخت دونوں سجدہ كرتے ہیں* اسی نے آسمان كوبلند كیا اور اسی نے ترازو ركھی* تاكہ تم تولنے میں تجاوز نہ كرو* انصاف كے ساتھ وزن كو ٹھیك ركھو اور تول میں كم نہ دو* اور اسی نے مخلوق كے لئے زمین بچھا دی* جس میں میوے ہیں ، اور خوشے والے كھجور كے درخت ہیں * اور بھس والا اناج ہے ،اور خوشبو دار پھول ہیں * پس (اے انسانواور جنو!)تم اپنے پروردگار كی كس كس نعمت كو جھٹلاؤ گے ؟* اس نے انسان كو بجنے والی مٹی سے پیدا كیا جو ٹھیكری كی طرح تھی * اور جنات كو آگ كے شعلے سے پیدا كیا * پس تم اپنے رب كی كس كس نعمت كو جھٹلاؤ گے ؟* وہ رب ہے دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں كا * تو تم اپنے رب كی كس كس نعمت كو جھٹلاؤ گے ؟* اس نے دو دریا جار ی كردئیے جو ایك دوسرے سے مل جاتے ہیں * ان دونوں میں ایك آڑ ہے كہ اس سے بڑھ نہیں سكتے * پس اپنے پروردگار كی كو ن كون سی نعمت كو جھٹلاؤ گے ؟* ان دونوں میں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں * پھر تم اپنے رب كی كس كس نعمت كو جھٹلاؤ گے؟* اور اللہ ہی كی (ملكیت میں) ہیں وہ جہاز جو سمندروں میں پہاڑ كی طرح بلند( چل پھر رہے ) ہیں* پس اے انسانواور جنو تم اپنے رب كی كس كس نعمت كو جھٹلاؤ گے؟" (أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا ﴿٦﴾ وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا ﴿٧﴾ وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا ﴿٨﴾ وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا ﴿٩﴾ وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا ﴿١٠﴾ وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا ﴿١١﴾ وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا ﴿١٢﴾ وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا ﴿١٣﴾ وَأَنزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا ﴿١٤﴾ لِّنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَبَاتًا ﴿١٥﴾ وَجَنَّاتٍ أَلْفَافًا ﴿١٦﴾)

(النبأ:6-16)
 

"كیا ہم نے زمین كو فرش نہیں بنایا؟* اور پہاڑوں كو میخیں(نہیں بنایا؟)* اور ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا كیا * اورہم نے تمہاری نیند كو آرام كا سبب بنایا * اور رات كو ہم نے پردہ بنایا* اور دن كو ہم نے وقت روزگار بنایا* اور تمہارے اوپر ہم نے سات مضبوط آسمان بنائے* اور ایك چمكتا ہوا روشن چراغ(سورج) پیدا كیا * اور بدلیوں سے ہم نے بكثرت بہتا ہوا پانی برسایا * تاكہ اس سے اناج اور سبزہ اگائیں*اور گھنےباغ (بھی اگائیں)" (أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ ۚ بَنَاهَا ﴿٢٧﴾ رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا ﴿٢٨﴾ وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا ﴿٢٩﴾ وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا ﴿٣٠﴾ أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَا ﴿٣١﴾ وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَا ﴿٣٢﴾ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ ﴿٣٣﴾)

(النازعات:27-33)
 

"كیا تمہارا پیدا كرنا زیادہ دشوار ہے یا آسمان كا ؟اللہ تعالی نے اسے بنایا * اس كی بلندی اونچی كی پھر اسے ٹھیك ٹھاك كردیا * اس كی رات كو تاریك بنایا اور اس كے دن كو نكالا*اور اس كے بعد زمین كو (ہموار) بچھا دیا * اس میں پانی اور چارہ نكالا* اور پہاڑوں كو (مضبوط) گاڑ دیا* یہ سب تمہارے جانوروں كے فائدے كے لئے (ہیں) " ( فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ إِلَىٰ طَعَامِهِ ﴿٢٤﴾ أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا ﴿٢٥﴾ ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا ﴿٢٦﴾ فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا ﴿٢٧﴾ وَعِنَبًا وَقَضْبًا ﴿٢٨﴾ وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا ﴿٢٩﴾ وَحَدَائِقَ غُلْبًا ﴿٣٠﴾ وَفَاكِهَةً وَأَبًّا ﴿٣١﴾ مَّتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ ﴿٣٢﴾ ) "انسان كو چاہئے كہ اپنے كھانے كو دیكھے* كہ ہم نے خوب پانی برسایا * پھر پھاڑا زمین كو اچھی طرح*پھر اس میں سے اناج اگائے *اور انگور اور تركاری*اور زیتون اور كھجور* اور گنجان باغات* اور میوہ اور (گھاس) چارہ( بھی اگایا) *تمہارے استعمال و فائدہ كے لئے ،اور تمہارے چوپایوں كے لئے"

(عبس:24-32)
 

كلی طور پر اللہ تعالی كی ربوبیت كا آدم كی عام اولاد اقرار كرنے والی ہے كہ حقیقت میں وہی خالق و مالك اور مدبر ہے ، یہی نہیں بلكہ عرب كے مشركین بھی اللہ كی ربوبیت كے قائل تھے ، اللہ تعالی نے اپنی كتا ب قرآن كریم میں مختلف مقامات پر ان كے اس اقرار كو بیان فرمایا ہے ، جیسا كہ اللہ كا ارشاد ہے : (قُل لِّمَنِ الْأَرْضُ وَمَن فِيهَا إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٨٤﴾ سَيَقُولُونَ لِلَّـهِ ۚ قُلْ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ﴿٨٥﴾ قُلْ مَن رَّبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ﴿٨٦﴾ سَيَقُولُونَ لِلَّـهِ ۚ قُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ ﴿٨٧﴾ قُلْ مَن بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٨٨﴾ سَيَقُولُونَ لِلَّـهِ ۚ قُلْ فَأَنَّىٰ تُسْحَرُونَ ﴿٨٩﴾) "پوچھئے تو سہی كہ زمین اور اس كی كل چیزیں كس كی ہیں؟بتلاؤ اگر جانتے ہو؟ * فورا جواب دیں گے كہ اللہ كی، كہہ دیجئے كہ پھر تم نصیحت كیوں نہیں حاصل كرتے * دریافت كیجئے كہ ساتوں آسمانوں كا اور بہت با عظمت عرش كا رب كون ہے ؟* وہ لوگ جواب دیں گے اللہ ہی ہے ، كہہ دیجئے كہ پھر تم كیوں نہیں ڈرتے؟* پوچھئے كہ تمام چیزوں كا اختیار كس كے ہاتھ میں ہے؟ جو پناہ دیتاہے اور جس كے مقابلے میں كوئی پناہ نہیں دیا جاتا ، اگر تم جانتے ہو تو بتلا دو ؟* یہی جواب دیں گے كہ اللہ ہی ہے ، كہہ دیجئے كہ پھر تم كدھر سے جادو كردئیے جاتے ہو ؟"

(المؤمنون:84-89)
 

اور اس كی وضاحت اللہ نے ایك دوسری آیت میں یوں فرمائی : (وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِيزُ الْعَلِيمُ) "اگر آپ ان سے دریافت كریں كہ آسمانوں اور زمین كو كس نے پید ا كیا تو یقینا ان كا جواب یہی ہوگا كہ انہیں غالب و دانا(اللہ) نے ہی پیدا كیا "

(الزخرف:9)
 

اس کا مطلب ہے کہ حکمرانوں کے خلاف بغاوت غیر قانونی ہے

اس کا مطلب ہے کہ حکمرانوں کے خلاف بغاوت

shape

ربوبیت كے باب میں جزئی گمراہی واقع ہوئی ہے ، اور متعدد گروہوں نے ربوبیت میں شر ك كیا ، ذیل كے سطور میں ان كے متعلق وضاحت كی جارہی ہے ملاحظہ فرمائیں:

1-مجوس كے فرقہ ثنویہ اور مانویہ كا عقيده:

یہ دونوں فرقے كائنات كے دو خالق ہونے كے قائل ہیں :

1-الہ النور:یہ خیر كا خالق ہے ۔

2-الہ الظلمۃ: یہ شر كا خالق ہے۔

واضح ہو كہ ان دونوں كا اس بات پر اتفاق ہے كہ نور ظلمت سے بہتر ہے ، لیكن ظلمت كے بارے میں ان كا اختلاف ہے كہ یہ قدیم ہے یا حادث؟۔

2-نصاری كا عقیدہ :

یہ تثلیث كے قائل ہیں ، بایں طور كہ اپنے خیال سے تین اقنوم (اصل) باپ ، اور بیٹا اور روح القدس كو ملا كر ایك الہ بناتے ہیں۔ لیكن یہ كائنات كے جدا جدا تین رب نہیں مانتے ، بلكہ كائنات كے ایك ہی صانع (بنانے والے) پر اتفاق ركھتے ہیں۔

3-مشركین عرب كا عقیدہ :

اپنے معبودوں كے بارے میں یہ اعتقاد ركھتے ہیں كہ وہ كچھ نفع و نقصان اور تدبیر كی صلاحیت ركھتے ہیں ، اور اسی وجہ سے وہ تیروں سے فال نكالتے تھے ، یعنی اگر اس میں لكھا ہوتا كرو تو اس كام كو كرتے ، اوراگر لكھا ہوتا نہ كرو تو اسے چھوڑ دیتے ، اور اگر اس میں كچھ نہ لكھا ہوتا تو دوبارہ فال نكالتے ، گویا كہ اللہ كے علاوہ اس پر ان كا نفع و نقصان كا اعتقاد تھا ۔

4-منكرین تقدیر :

ان كا یہ اعتقاد ہے كہ اللہ سے ہٹ كر بندہ اپنے فعل كا خود مستقل خالق ہے ، یعنی اللہ كا اس كے فعل سے كوئی تعلق نہیں ہے

مذكورہ بالا سطور میں بیان كردہ تمام گمراہ كن اعتقادات كو فطرت ، عقل اور حس كے دلائل سے رد كیا جا چكا ہے ، اور شریعت نے وحدانیت رب پر مكمل روشنی ڈالی ہے كہ خلقت ، بادشاہت ، اور حاكمیت میں وہ اكیلا ہے اس كا كوئی ثانی نہیں ہے ، جیسا كہ اس آیت میں اللہ كا ارشاد ہے : (مَا اتَّخَذَ اللَّـهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَـٰهٍ ۚ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَـٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ) "نہ تو اللہ نے كسی كو بیٹا بنایا ، اور نہ ہی اس كے ساتھ كوئی معبود ہے ، ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق كو لیے لیے پھرتا اور ہر ایك دوسرے پر چڑھ دوڑتا ، جو اوصاف یہ بتلاتے ہیں ان سے اللہ پاك (اور بے نیاز) ہے"

(المؤمنون:91)
 

معبود برحق كے لئے یہ ضروری ہے كہ وہی خلاق ہو ، اور اپنی چاہت سے ہر فعل كرنے میں مكمل آزاد ہو ، ہاں اگر اس كا كوئی پارٹنر یا شریك بنے تو یقینا وہ بھی پیدا كرے گا اور اپنی چاہت سے جو چاہے كرے گا ، ایسی صورت میں تو معاملہ دو احتمالوں میں سے كسی ایك احتمال سے خالی نہ ہوگا :

1-یا تو ہر الہ اپنی مخلوق كو الگ لے جاكر اپنی ایك مستقل سلطنت قائم كر لے گا ، حالانكہ كائنات كے اس چلنے والے نظام نے اس احتمال كو قطعی طور پر رد كر دیا ہے ، (اور پوری كائنات میں اللہ كے سوا كسی اور كی سلطنت نہیں ہے)۔

2-یا تو ان دونوں كے مابین ایك دوسرے پر غلبہ حاصل كرنے اور چڑھ دوڑنے كی دوڑ شروع ہو جاتی ، تو ان میں ایك جسم كو چلانا چاہتا اور دوسرا اسے روكے ركھنا چاہتا ، یا ایك كسی چیز كو پیدا كرنا چاہتا اور دوسرا اسے موت دینا چاہتا ، تو ایسی صورت میں یا تو دونوں كی مرادیں پوری ہو ں گی ، یا كسی ایك كی مراد پوری ہوگی ، یا دونوں میں سے كسی ایك كی بھی مراد پوری نہ ہوگی ، تو اس میں پہلی اور تیسری صورت ممتنع كی ہے ، كیونكہ یہ دونوں آپس میں نقیض (عكس)ہیں جو ایك ساتھ جمع نہیں ہو سكتے ، اور نہ ہی یہ دونوں ہٹ سكتے ہیں ، اس لئے دوسری صورت خود بخود متعین ہو جاتی ہے كہ جس كی مراد حاصل ہوگی وہی الہ قادر ہوگا ، اور دوسرا الہ ہونے كے لائق نہ رہ جائے گا ، اس طور سے سارا معاملہ رب واحد ، خالق واحد اور مالك واحد و مدبر واحد كے ثبوت كے حق میں ہے، اور اس كے ماسوا جتنے بھی ہیں وہ سارے كے سارے باطل ہیں، اور اسی باہمی ركاوٹوں كی دلیل ہی سے یہ بات روز روشن كی طرح عیاں ہوگئی۔

seegogImg

3-الوہیت یعنی اللہ كےمعبودبرحق ہونےپر ایمان لانا


الو ہیت پر ایمان لانا ایسا پختہ اعتقاد ركھناكہ تنہا اللہ ہی برحق الہ ہے ، سب كو چھوڑ كر صرف وہی عبادت كا مستحق ہے۔ الإله كامعنی ہے المالوه ، یعنی معبود جس كی محبت ، اور تعظیم كے ساتھ دل عبادت كرتے ہیں ۔ عبادت كی حقیقت:مكمل عاجزی ، خضوع اور تعظیم كے ساتھ كمال محبت ركھنا ، اور یہ صرف اورصرف ایك ہی معبود كے لئے ممكن ہے ، سب سے عظیم شاہد (اللہ)كی جانب سےاس كتاب میں جس كے عظیم ہونے كی شہادت دی گئی ہے (یعنی قرآن میں ) اس پر ایمان كے تعلق سے سب سے عظیم شہادت آئی ہے جیسا كہ اللہ نے فرمایا : (شَهِدَ اللَّـهُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ ۚ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ) اللہ تعالی ، فرشتے اور اہل علم اس بات كی گواہی دیتے ہیں كہ اللہ كے سوا كوئی معبود نہیں ، اور وہ عدل كو قائم ركھنے والا ہے ، اس غالب اور حكمت والے كے سوا كوئی عبادت كے لائق نہیں""

(آل عمران:18)
 

ایك دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا : (وَإِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ ۖ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ) "تم سب كا معبود ایك ہی معبود ہے ، اس كے سوا كوئی معبود برحق نہیں، وہ بہت رحم كرنے والا اور بڑا مہربان ہے "

(البقرة:163)
 
seegogImg

اللہ نے اپنی تمام مخلوق كو پیدا فرمایا ، اور ان میں تمام انسان و جنات كو صرف اكیلے اپنی عبادت كے لئے ان سے اپنی مكمل بے نیازی كے ساتھ پیدا كیا ، جیسا كہ اس كا ارشاد ہے : (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿٥٦﴾ مَا أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ ﴿٥٧﴾) "عبادت كریں * نہ میں ان سے روزی چاہتا ہوں اور نہ میری یہ چاہت ہے كہ یہ مجھے كھلائیں "

(الذاريات:56-57)
 

اور اللہ نے اپنےتمام رسولوں كو اسی ایمان كو ثابت كرنے كے لئے لوگوں كے پاس بھیجا ، وہ لوگوں كو شرك سے دور رہنے اور عبادت كو صرف ایك اللہ كے لئے بجا لانے كی دعوت دیتے تھے ، جیسا كہ اللہ كا ارشاد ہے (لَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ) "ہم نے ہرامت میں رسو ل بھیجا كہ (لوگو!)صرف اللہ كی عبادت كرو ، اور اس كے سوا تمام معبودوں سے بچو "

(النحل:36)
 

رسولوں نے اپنی قوم میں دعوت كا آغاز ان باتوں سے كی : (يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّـهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُ ) "اے میری قوم! تم اللہ كی عبادت كرو ، اس كے سوا كوئی تمہارا معبود ہونے كے قابل نہیں"

(9الأعراف:59،65، 73، 850)
 

ایك دوسری جگہ اللہ نے یوں فرمایا : (وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ) "تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس كی طرف یہی وحی نازل فرمائی كہ میرے سوا كوئی معبود برحق نہیں ، پس تم سب میری ہی عبادت كرو"

(الأنبياء:25)
 
seegogImg
seegogImg

اس ایمان پر عمل داری كا تقاضا یہ ہے كہ عبادات كے جملہ انواع و اقسام صرف ایك اللہ كے نام كردی جائے ، چنانچہ جس نے ان عبادات میں سے ادنی حصہ بھی اللہ كے سوا كسی اور كے نام كر ديا تو واضح رہے كہ وہ مشرك كافر ہے ، بغرض وضاحت یہاں عبادات كے چند اصناف بیان كئے جارہے ہیں ،جن كی تفاصیل یہ ہیں:

1-قلبی عبادات

اس سےمقصود وہ عبادتیں ہیں جن كا تعلق انسان كے دل سے ہے، ان كی چند مثالیں درج ذیل سطور میں ملاحظہ كریں:

محبت : اللہ تعالی نے فرمایا : (وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّـهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّـهِ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّـهِ) "اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ كے شریك اوروں كو ٹھہرا كر ان سے ایسی محبت كرتے ہیں جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہئے اور ایمان والے اللہ كی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں"

(البقرة:165)
 

خوف: اللہ تعالی نے فرمایا : ( فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ) "تم ان كافروں سے نہ ڈرو ،اور میرا خوف ركھواگر تم مومن ہو"

(أل عمران:175)
 

رجا (اميد,آسرا) : اللہ تعالی نے فرمایا : (فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا) "آپ كہہ دیجئے كہ میں تو تم جیسا ہی ایك انسان ہوں ( ہاں ) میری جانب وحی كی جاتی ہے كہ سب كا معبود صرف ایك ہی معبود ہے ، تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے كی آرزو ہو اسے چاہئے كہ نیك اعمال كرے ،اور اپنے پروردگار كی عبادت میں كسی كو بھی شریك نہ كرے "

(الكهف :110)
 
seegogImg

محبت ، خوف اور رجا یہ تینوں قلبی عبادات كی ماں یعنی اساس كا درجہ ركھتی ہیں،جیسا كہ اس آیت میں اللہ تعالی نے بڑی وضاحت فرمائی ہے : (أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ ۚ ) "جنہیں یہ لوگ پكارتے ہیں خود وہ اپنے رب كے تقرب كی جستجو میں رہتے ہیں كہ ان میں سے كون زیادہ نزدیك ہو جائے ، وہ خود اس كی رحمت كی امید ركھتے اور اس كے عذاب سے خوف زدہ رہتے ہیں "

(الإسراء:57)
 

محبت ، خوف اور رجا یہ تینوں باہم لازم و ملزوم كا درجہ ركھتے ہیں ، اس لئے كچھ كو چھوڑ كر كچھ پر عمل كرنا كافی نہ ہوگا چنانچہ جس نے اللہ كی عبادت صرف خوف كے ساتھ كی تو وہ حروری قرار پائے گا ، اور جس نے صرف امید لے كر اللہ كی عبادت كی وہ مرجی ہے ، اور جس نے صرف محبت كے ساتھ اللہ كی عبادت كی وہ زندیق ( بے دین) كہلائے گا،اور جس نے ان تینوں یعنی محبت ، خوف اور رجا كے ساتھ اللہ كی عبادت كی تو وہی موحد اور دین حنیف كا سچاپیروكار كہلائےگا

فائدہ:

1-حروری:شہركوفہ كے مضافات میں ایك بستی تھی جسے حروراء كہا جاتا تھا ، اسی بستی سے ایك فرقہ نے امیر المؤمنین علی بن ابی طالب كے خلاف علم بغاوت بلند كی جس كی وجہ سے اس فرقہ كو حروری كہا جاتا ہے ، اور اس فرقہ كا معروف نام خوارج ہے۔

2-مرجی:عہد صحابہ كے آخری دور میں ایك ایسا گروہ وجود پذیر ہوا جس نے اہل السنہ والجماعۃ كی بہت سارے مسائل میں مخالفت كی جس كی ایك مثال آپ كی خدمت میں پیش كی جارہی ہے ، ان كا اعتقاد ہے كہ ایمان محض دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار كا نام ہے ، اور عمل ایمان میں داخل نہیں ہے ، اس لئے كلی طور پر ترك عمل سے كلی طور پر ایمان كی نفی نہیں ہوتی ، اور معاصی كے ارتكارب كرنے والے كامل مؤمن ہوتے ہیں ، اور ایمان نہ گھٹتا ہے اورنہ ہی بڑھتا ہے ، تو گویا كہ انہوں نے عمل كو ایمان سے الگ ہٹا دیا جس كی وجہ سے انہیں مرجی یعنی عمل كو ایمان سے الگ قرار دینے والے كا نام دیا گیا۔

3-زندیق:یہ لفظ منافق كے مترادف ہے ، جس كا كفرو الحاد كا اعتقاد ہوتا ہے ، اور وہ اسے چھپائے ركھتا ہے ، یا اللہ ، آخرت اور نیك اعمال كا منكر ہوتا ہے ، اور ان كی باتیں مجوسیوں اور فلسفیوں سے ماخوذ ہوتی ہیں۔

seegogImg
seegogImg

جسم كی درستگی كی اساس دل كا درست و صالح رہنا ہے ، جیسا كہ ایك حدیث میں اللہ كےنبی نے فرمایا ہے أَلاَ وَإِنَّ فِي الجَسَدِ مُضْغَةً: إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، أَلاَ وَهِيَ القَلْبُ : "خبردار!بیشك جسم میں گوشت كا ایك لوتھڑا ہے ، اگر وہ درست رہے تو سارا بدن درست رہتاہے ، اور اگر وہ خرابی كا شكار ہوجائے تو سارے بدن میں خرابی پھیل جاتی ہے ، آگاہ!وہی وہ دل ہے"

( بخاري : 52 ,مسلم:1599)
 

2- قولی عبادات

اس سے مقصود وہ عبادتیں ہیں جن كا تعلق قول سے ہے جیسے:

دعا : اللہ تعالی نے فرمایا : (وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّـهِ أَحَدًا) "اور یہ كہ مسجدیں صرف اللہ ہی كے لئے خاص ہیں ، پس اللہ تعالی كےساتھ كسی اور كو نہ پكارو"

(الجن:18)
 

استعاذة (الله كی پناہ چاہنا) : اللہ تعالی نے فرمایا : (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ) "آپ كہہ دیجئے كہ میں صبح كے رب كی پناہ میں آتا ہوں "

(الفلق:1)
 

(قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ) "آپ كہہ دیجئے كہ میں لوگوں كے پروردگار كی پناہ میں آتا ہوں"

(الناس:1)
 
seegogImg

استغاثة(فریاد كرنا): اللہ تعالی نے فرمایا : (إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ) "اس وقت كو یاد كرو جب كہ تم اپنے رب سے فریاد كر رہے تھے پھر اللہ تعالی نے تمہاری سن لی"

(الأنفال:9)
 

ہر قسم كے اذكار : اللہ تعالی نے فرمایا : (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّـهَ ذِكْرًا كَثِيرًا) "مسلمانو! اللہ تعالی كا ذكر بہت زیادہ كرو"

(الأحزاب:41)
 

تلاوت قرآن: اللہ تعالی نے فرمایا : (اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ ) "جو كتاب آپ كی طرف وحی كی گئی ہے اسے پڑھئے"

(العنكبوت:45)
 

عام پاكیزہ كلام: اللہ تعالی نے فرمایا : (إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ) "تمام تر ستھرے كلمات اسی كی طرف چڑھتے ہیں"

(فاطر:10)
 
seegogImg

3-بدنی عبادات

اس سے مراد وہ عبادتیں ہیں جن كا تعلق آدمی كے بدن سے ہے جیسے:

نماز اور قربانی : اللہ تعالی نے فرمایا : "آپ فرما دیجئے كہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت ، اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی كا ہے جو سارے جہان كا مالك ہے "

الأنعام:162
 

اللہ تعالی نے فرمایا : "پس تو اپنے رب كے لئے نماز پڑھ اور قربانی كر"

(الكوثر:2)
 
seegogImg

طواف كعبہ: اللہ تعالی نے فرمایا : (وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ) ”اور اللہ كے قدیم گھر كا طواف كریں "

(الحج:29)
 

راستہ سے تكلیف دہ چیز ہٹانا : یہ ایمان كے خصال میں سے ایك ہے ، جیسا كہ نبی اكرم Aنے فرمایا :«وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ "”اور اس كا ادنی درجہ راستہ سے تكلیف والی چیز كو ہٹانا ہے "

(مسلم:35)
 

بیان كردہ امور كے علاوہ اور بھی بدنی عبادات ہیں لیكن انہیں چند پر اكتفا كیا گيا ہے۔

4-مالی عبادات

تعبد الہی میں خرچ كئے جانے والے تمام اموال كا شمار مالی عبادات میں ہوتا ہے جیسے زكاۃ ، صدقات ، وصیت ، اوقاف ، عطیات وغیرہ جیسا كہ اللہ تعالی نے فرمایا : ( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ) "صدقے صرف فقیروں كے لئے ہیں اور مسكینوں كے لئے ،اور ان كے وصول كرنے والوں كے لئے ، اور ان كے لئے جن كے دل پرچائے جاتے ہوں ، اور گردن چھڑانے میں ،اور قرض داروں كے لئے ، اور اللہ كی راہ میں ، اور مسافروں كے لئے ، فرض ہے اللہ كی طرف سے ، اور اللہ علم و حكمت والا ہے "

(التوبة:60)
 
seegogImg
seegogImg

دوسری جگہ اللہ نے اس طرح فرمایا : ( وَمِنَ الْأَعْرَابِ مَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُبَاتٍ عِندَ اللَّـهِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ ۚ أَلَا إِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ ۚ سَيُدْخِلُهُمُ اللَّـهُ فِي رَحْمَتِهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ) "اور بعض اہل دیہات میں ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالی پر اور قیامت كے دن پر ایمان ركھتے ہیں ،اور جو كچھ خرچ كرتے ہیں اس كو عند اللہ قرب حاصل ہونے كا ذریعہ اور رسول كی دعا كا ذریعہ بناتے ہیں ، یاد ركھو كہ ان كا یہ خرچ كرنا ان كے لئے موجب قربت ہے ، ان كو اللہ تعالی ضرور اپنی رحمت میں داخل كرے گا، اللہ تعالی بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے"

(التوبة:99)
 

كھانا كھلانا: اللہ تعالی نے فرمایا : ( وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا ﴿٨﴾ إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّـهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا ﴿٩﴾) "اور اللہ تعالی كی محبت میں كھانا كھلاتے ہیں مسكین ، یتیم اور قیدیوں كو *ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالی كی رضامندی كے لئے كھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شكر گذاری "

(الإنسان:8-9)
 
seegogImg

الله كی ربوبیت (خالق ،مالك ، مدبر ہونے) پر ایمان لانا یہ اللہ كی الوہیت (لائق عبادت) اور اس كے تقاضے پر ایمان لانے كو مستلزم ہے ، چنانچہ جو اللہ كے خالق و مالك اور اس كے مدبر ہونے كا اقرار كرے تو اس كے لئے یہ بھی ضروری ہے كہ وہ اللہ كی الوہیت كا اقرار كرے اور اسے عبادت میں تنہا و اكیلا سمجھے ، اسی اقرار كی بنا پر مشركین كے خلاف اللہ نے حجت قائم كی ، اور قرآن كریم میں متعدد مقام پر اس كا ذكر كیا ، اس كی چند مثالیں آپ كی خدمت میں پیش ہیں: الله كا ارشاد ہے: ( يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴿٢١﴾ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّـهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٢٢﴾) "اے لوگو!اپنے اس رب كی عبادت كرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے كے لوگوں كو پیدا كیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے * جس نے تمہارے لئے زمین كو فرش اور آسمان كوچھت بنایا ، اور آسمان سے پانی اتار كر اس سے پھل پیدا كركے تمہیں روزی دی ، خبردارباوجود جاننے كے اللہ كے شریك مقرر نہ كرو"

(البقرة:21-22)
 

الله كا ارشاد ہے: (قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّن يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَن يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَن يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ اللَّـهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ ﴿٣١﴾ فَذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ ۖ فَأَنَّىٰ تُصْرَفُونَ ﴿٣٢﴾) "آپ كہئے كہ وہ كون ہے جو تم كو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وہ كون ہے جو كانوں اور آنكھوں پر پورا اختیار ركھتا ہے اور وہ كون ہے جو زندہ كو مردہ سے نكالتا ہے اور مردہ كو زندہ سے نكالتاہے ، اور وہ كون ہے جو تمام كاموں كی تدبیر كرتا ہے؟ضرور وہ یہی كہیں گے كہ اللہ ، تو ان سے كہئے كہ پھر كیوں نہیں ڈرتے * سو یہ ہے اللہ تعالی جو تمہارا رب حقیقی ہے ، پھر حق كے بعد اور كیا رہ گیا بجز گمراہی كے ، پھر كہا ں پھرے جاتے ہو؟"

(يونس:31-32)
 
seegogImg
seegogImg

الله كا ارشاد ہے: (قُلِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ وَسَلَامٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَىٰ ۗ آللَّـهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ ﴿٥٩﴾ أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَّا كَانَ لَكُمْ أَن تُنبِتُوا شَجَرَهَا ۗ أَإِلَـٰهٌ مَّعَ اللَّـهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ ﴿٦٠﴾ أَمَّن جَعَلَ الْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلَالَهَا أَنْهَارًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا ۗ أَإِلَـٰهٌ مَّعَ اللَّـهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٦١﴾ أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَـٰهٌ مَّعَ اللَّـهِ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ ﴿٦٢﴾ أَمَّن يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَن يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ ۗ أَإِلَـٰهٌ مَّعَ اللَّـهِ ۚ تَعَالَى اللَّـهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ ﴿٦٣﴾ أَمَّن يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَمَن يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۗ أَإِلَـٰهٌ مَّعَ اللَّـهِ ۚ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٦٤﴾)

(النمل:59-64)
 

"تو كہہ دے كہ تمام تعریف اللہ ہی كے لئے ہے ، اور اس كے برگزیدہ بندوں پر سلام ہے ، كیا اللہ تعالی بہتر ہے یا وہ جنہیں یہ لوگ شریك ٹھہرا رہے ہیں * بھلا بتاؤ تو كہ آسمانوں كو اور زمین كو كس نے پیدا كیا ؟ كس نے آسمان سے بارش برسائی ؟ پھر اس سے ہرے بھرے بارونق باغات اگا دئیے ؟ ان باغوں كے درختوں كو تم ہرگز نہ اگا سكتے ، كیا اللہ كے ساتھ اور كوئی معبودبھی ہے؟ بلكہ یہ لوگ ہٹ جاتے ہیں ، (سیدھی راہ سے) * كيا وہ جس نے زمین كو قرار گاہ بنایا اور اس كے درمیان نہریں جاری كردیں ،اور اس كے لئے پہاڑ بنائے ،اور دو سمندروں كے درمیان روك بنادی،كيا اللہ كےساتھ اور كوئی معبود بھی ہے ؟بلكہ ان میں سے اكثر كچھ جانتے ہی نہیں * بے كس كی پكار كو جبكہ وہ پكارے ، كون قبول كركے سختی كو دور كردیتا ہے ؟ اور تمہیں زمین كا خلیفہ بناتا ہے ، كیا اللہ تعالی كےساتھ اور معبود ہے ؟ تم بہت كم نصیحت و عبرت حاصل كرتے ہو * كیا وہ جو تمہیں خشكی اور تری كی تاریكیوں میں راہ دكھاتا ہے اور جو اپنی رحمت سے پہلے ہی خوش خبریاں دینے والی ہوائیں چلاتا ہے ، كیا اللہ كے ساتھ كوئی اور معبود بھی ہے جنہیں یہ شریك كرتے ہیں ، ان سب سے اللہ بلند وبالا تر ہے * كیا وہ جو مخلوق كی اول دفعہ پیدائش كرتا ہے پھر اسے لوٹائے گا اور جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزیاں دے رہا ہے ، كیا اللہ كےساتھ كوئی اور معبود ہے ، كہہ دیجئے كہ اگر سچے ہو تو اپنی دلیل لاؤ"

مذكورہ بالا آیتوں كو پڑھ كر اور ان كے معانی پر غور كركے آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے كہ اللہ تعالی نے مشركین كے توحید ربوبیت كے اقرار ہی كی بنا پر ان كے خلاف توحید الوہیت كے متعلق حجت قائم كی

ایسے ہی اللہ سبحانہ تعالی نے مشركین كے الہ كی الوہیت كو اس بنا پر باطل قرار دیا كہ ان كے اندر صفات ربوبیت كی ادنی شئی بھی نہیں ہے ، جیسا كہ الله كا ارشاد ہے: (أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ ﴿١٩١﴾ وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ ﴿١٩٢﴾ وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ ۚ سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنتُمْ صَامِتُونَ ﴿١٩٣﴾ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ فَادْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا لَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿١٩٤﴾ أَلَهُمْ أَرْجُلٌ يَمْشُونَ بِهَا ۖ أَمْ لَهُمْ أَيْدٍ يَبْطِشُونَ بِهَا ۖ أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌ يُبْصِرُونَ بِهَا ۖ أَمْ لَهُمْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا ۗ قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ ﴿١٩٥﴾ إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّـهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ ﴿١٩٦﴾ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ ﴿١٩٧﴾ وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا ۖ وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ ﴿١٩٨﴾)

(الأعراف:191-198)
 

"كیا ایسوں كو شریك ٹھہراتے ہیں جو كسی چیز كو پیدا نہ كرسكیں ، بلكہ وہ خود ہی پیدا كئے گئے ہوں *اور وہ ان كو كسی قسم كی مدد نہیں دے سكتےبلكہ وہ خود بھی اپنے آپ كی مدد نہیں كر سكتے *اور اگر تم ان كوكوئی بات بتلانےكو پكارو تو تمہارے كہنے پر نہ چلیں ، تمہارے اعتبار سے دونوں امر برابر ہیں ، خواہ تم ان كو پكارو یا تم خاموش رہو *واقعی تم اللہ كو چھوڑ كر جن كی عبادت كرتے ہو وہ بھی تم ہی جیسے بندے ہیں ، سو تم ان كو پكارو ،پھر ان كو چاہیے كہ تمہارا كہنا كردیں اگر تم سچے ہو*كیا ان كے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہوں یا ان كے ہاتھ ہیں جن سے وہ كسی چیز كو تھام سكیں ،یا ان كی آنكھیں ہیں جن سے وہ دیكھتے ہوں ، یا ان كے كان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں ، آپ كہہ دیجئے تم اپنے سب شركاء كو بلالو ، پھر میری ضرر رسانی كی تدبیر كرو ،پھر مجھ كو ذرا مہلت مت دو *یقینا میرا مدد گار اللہ تعالی ہے جس نے یہ كتاب نازل فرمائی اور وہ نیك بندوں كی مدد كرتا ہے *اور تم جن لوگوں كی اللہ كو چھوڑ كر عبادت كرتے ہو وہ تمہاری كچھ مدد نہیں كرسكتے اور نہ وہ اپنی ہی مدد كرسكتے ہیں *اوران كو اگر كوئی بات بتلانے كو پكارو تو اس كو نہ سنیں ، اور ان كو آپ دیكھتے ہیں كہ گویا وہ آپ كو دیكھ رہے ہیں اور وہ كچھ بھی نہیں دیكھتے"

seegogImg

الله كا ارشاد ہے: (وَاتَّخَذُوا مِن دُونِهِ آلِهَةً لَّا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتًا وَلَا حَيَاةً وَلَا نُشُورًا) "ان لوگوں نے اللہ كے سوا جنہیں اپنے معبود ٹھہرا ركھے ہیں وہ كسی چیز كو پیدا نہیں كرسكتے بلكہ وہ خود پیدا كئے جاتے ہیں ، یہ تو اپنی جان كے نقصان و نفع كا بھی اختیار نہیں ركھتے ،اور نہ موت و حیات كے اور نہ دوبارہ جی اٹھنے كے وہ مالك ہی"

(الفرقان:3)
 

الله كا ارشاد ہے: ( قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُم مِّن ظَهِيرٍ ﴿٢٢﴾ وَلَا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ ۚ حَتَّىٰ إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ۖ قَالُوا الْحَقَّ ۖ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ ﴿٢٣﴾) "كہہ دیجئے كہ اللہ كے سوا جن جن كا تمہیں گمان ہے (سب ) كو پكار لو، نہ ان میں سے كسی كو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایك ذرہ كا اختیار ہے نہ ان میں كوئی حصہ ہے ، نہ ان میں سے كوئی اللہ كا مددگار ہے *شفاعت (سفارش ) بھی اس كے پاس كچھ نفع نہیں دیتی ، بجز ان كے جن كے لئے اجازت ہو جائے ، یہاں تك كہ جب ان كے دلوں سے گھبراہٹ دور كردی جاتی ہےتو پوچھتے ہیں تمہارے پروردگار نے كیا فرمایا؟جواب دیتے ہیں كہ حق فرمایا ، اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے"

(سبأ:22-23)
 

انسانی نوعیت کا اندازہ

4-شرك فطرت كے برخلاف اوندھے منھ گرنا اور گمراہی میں بھٹكنا ہے:

اللہ تعالی كا ارشاد ہے : ( وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ) "سنو ! اللہ كے ساتھ شریك كرنے والا گویا آسمان سے گر پڑا ، اب یا تو اسے پرندے اچك لے جائیں گے یا ہوا كسی دور دراز كی جگہ پھینك دے گی"

(الحج:31)
 

شرك كا انجام

شرك كی عظیم قباحت كے پیش نظر اللہ نے اس كے چند دنیاوی اور اخروی احكام بیان كیا ہے ، جو درج ذیل ہیں

1-عدم بخشش:

اللہ تعالی كا ارشاد ہے : (إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا) "یقینا اللہ تعالی اپنے ساتھ شریك كئے جانے كو نہیں بخشتا اور اس كے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے ، اور جو اللہ تعالی كے ساتھ شریك مقرر كرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا "

(النساء:48)
 

2-جنت سے محرومی اور جہنم میں ہمیشگی كا ٹھكانا:

اللہ تعالی كا ارشاد ہے : (إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّـهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ) "یقین مانو كہ جو شخص اللہ كے ساتھ شریك كرتا ہے اللہ تعالی نے اس پر جنت حرام كردی ہے ، اس كا ٹھكانا جہنم ہی ہے ، اور گنہ گاروں كی مدد كرنے والا كوئی نہیں ہوگا"

(المائدة:72)
 

3-تمام اعمال كی تباہ كاری:

اللہ تعالی كا ارشاد ہے : (وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ) "یقینا تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (كےتمام نبیوں) كی طرف بھی وحی كی گئی ہے ، كہ اگر تو نے شرك كیا تو بلا شبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں كاروں میں سے ہو جائے گا"

(الزمر:65)
 

4-جان و مال كی عدم حفاظت:

اللہ تعالی كا ارشاد ہے : اللہ تعالی كا ارشاد ہے : (فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ) "پھر حرمت والے مہینوں كے گذرتے ہی مشركوں كو جہاں پاؤ قتل كرو ، انہیں گرفتار كرو ، ان كا محاصرہ كرلو ،اور ان كی تاك میں ہر گھاٹی میں جا بیٹھو ، ہاں اگر وہ توبہ كر لیں اورنماز كے پابند ہو جائیں اور زكاۃ ادا كرنے لگیں تو تم ان كی راہیں چھوڑ دو ، یقینا اللہ تعالی بخشنے والا مہربان ہے "

(التوبة:5)
 

نبی اكرم Aنے فرمایا : "أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لاَ إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ» ”مجھے یہ حكم ملا ہے كہ میں لوگوں سے اس وقت تك جنگ كروں جب تك كہ وہ یہ كہیں : اللہ كے علاوہ كوئی معبود برحق نہیں ، البتہ جس نے یہ اعتراف كرلیا تو مجھ سے اس كا مال و جان محفوظ ہو گیا ، سوائے اسلامی حق كے (قصاص) ، اور اس كا حساب اللہ پر ہے “

( بخاري : 1399 ,مسلم:20)
 

توحید الوہیت میں گمراہ ہونے والے فرقے

توحید الوہیت كے باب میں بہت سے فرقے گمراہ ہو گئے ، ان كی نشان دہی آنے والے سطو ر میں ملاحظہ فرمائیں:

1- بت پرست:

ان كے مختلف قسم كے معبودات ہیں جیسےدرخت ، پتھر ، انسان ، جن، فرشتے ، ستارے، اور حیوانات وغیرہ جن كے ذریعہ سے شیطان نے انہیں گمراہ كر ركھا ہے۔

2- قبر پرست:

یہ وہ لوگ ہیں جو قبر میں مدفون مردوں كو پكارتے ہیں ، ان كےنام كی نذرو نیاز كرتےہیں ، اور ان سے نفع پہنچانے اور نقصان دوركرنےكی فریاد كرتےہیں ۔

3- جادوگر ، ڈھونگی بابا ، نجومی :

یہ وہ لوگ ہیں جو جنوں كی عبادات اس بنا پر كرتے ہیں كہ وہ انہیں راز كی باتیں بتاتى ہیں ، یا ان كے لئے بعض عجوبے پیش كرتى ہیں ، یا ان كے لئے كچھ بنا كے د كھاتے ہیں۔

شرك كے اسباب و ذرائع

عبادت میں شرك كے رونما ہونے كے عظیم خطرات كے پیش نظر اللہ كے نبی A نے ان تمام أسباب سے بھی دور رہنے كا حكم دیے جن كے ذریعہ وہاں تك رسائی ممكن ہو ، اور ان سارے راستوں كو بند كردیا جو شرك میں واقع ہونے میں اہم كردار نبھاتے ہوں ، آیئے اس كی چند مثالیں ملاحظہ كریں:

1-صالحین كی شان میں غلو كرنے كی ممانعت:

نبی اكرم نے فرمایا : "إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّما أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ» ” دین میں غلو سے بچو ، كیونكہ دین میں غلو ( حدسے تجاوز) ہی نے تم سے پہلے لوگوں كو ہلاك و برباد كیا ہے"

( نسائی:3059،ابن ماجہ:3029 ،مسند احمد:1/215، 347 ، 5/127 ، صحیح)
 

ایك دوسری حدیث میں نبی اكرم Aنے فرمایا : «لاَ تُطْرُونِي، كَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ، وَرَسُولُهُ "مجھے اس طرح بڑھا چڑھا كر بیان نہ كرو جس طرح عیسائیوں نے عیسی بن مریم كے ساتھ كیا ، میں تو صرف اللہ كا بندہ ہوں ، اس لئے تم لوگ مجھے اللہ كا بندہ اور اس كا رسول كہو "

( بخاري:3445)
 

صالحین كی شان میں غلو كا ہی ایك بڑا حصہ ان سے وسیلہ پكڑنا ہے ، اور وسیلے كی چند صورتیں ہیں ، ملاحظہ فرمائیں:

1-ملت اسلام سے خارج كرنے والا شركیہ وسیلہ:

اور وه ہے الله كو چھوڑ كر كسی غیر كو حاجت روائی اور مشكل كشائی كے لئے پكارنا ۔

2-ايسا بدعی وسیلہ جو شرك كے درجہ كو نہ پہنچے :

اور وه ہے الله كے لئے ایسا وسیلہ ڈھونڈنا جسے اللہ نے جائز و مشروع نہیں كیا ہے ، جیسے صالحین كی ذات ، یا ان كی جاہ ، یا ان كے حق ، یا ان كی آبرو وغیرہ كو وسیلہ بنانا۔


3-جائز وسیلہ : "اللہ پر ایمان اور اس كی اطاعت كا وسیلہ ، اللہ كے ناموں میں سے كسی نام كے ساتھ اس كو پكار كر وسیلہ ، یا اس كی صفات میں سے كسی صفت كو بیان كركے وسیلہ ، یا اپنے كئے وہوئے كسی نیك كام كا وسیلہ ، یا كسی عام حالت میں نیك بندے سے طلب دعا كا وسیلہ ،یہ سب وسیلہ كی جائز ومشروع شكلیں ہیں۔ "

اور رہی بات جو عمر bنے دعا فرمائی تھی اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا "اے اللہ !ہم اپنے نبی كے ذریعہ تیرا وسیلہ ڈھونڈتے تھے ، اور تو ہم پر ابر باراں نازل فرماتا تھا ، اور اب ہم اپنے نبی كے چچا كے ذریعہ تیرا وسیلہ پكڑتے ہیں ، تو تو ہم پر بارش نازل فرما دے"

“،( بخاري:1010)
 

مذكورہ دعا میں عمر bنے عباس bكی دعا كا وسیلہ بنایا ، كیونكہ وہ رسول اللہA كے رشتہ دار تھے ، اور انہوں نے عباس b كی ذات كو وسیلہ نہیں بنایا ، كیونكہ اگر كسی كی ذات سے وسیلہ پكڑنا جائزو درست ہی ہوتا تو وہ نبی Aكی ذات كو وسیلہ بناتے ، گرچہ آپ وفات فرما چكے تھے۔

2-قبروں كو فتنہ گاہ بنانےكی ممانعت:

اور اس كی چند شكلیں ہیں : "قبروں كو سجدہ گاہ بنانا :ام المؤمنین عائشہ c سے مروی ہے فرماتی ہیں :جب رسول اللہ كا وقت نزاع آیا تو آپ اپنی چادر كو برابر اپنے چہرے پر ڈالتے ، اور جب كچھ افاقہ محسوس كرتے تو اس كو ہٹا دیتے ، اور آپ Aاسی حالت میں یہ فرماتے : «لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى اليَهُودِ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» ” یہود و نصاری پر اللہ كی لعنت اور اس كی پھٹكار ہو ، انہوں نے اپنے پیغمبروں كی قبروں كو مسجد بنا لیا“, اور آپ ( اپنی امت كو ) یہود و نصاری جیسے كرنے سے ڈرا رہے تھے ، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ كی قبر بھی اونچی كردی گئی ہوتی ، سوائے اس بات كے كہ آپ كو یہ اندیشہ لاحق ہوا كہ اسے مسجد بنا لیا جائے گا "

( بخاري : 435، 436 ,1390 ,مسلم:529 ,531)
 

ایك دوسری حدیث میں رسول اكرم Aنے فرمایا : "أَلا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلا فَلا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ» ”خبر دار!تم سے پہلے لوگ اپنے پیغمبروں اور نیك لوگوں كی قبروں كو مساجد بنالیتے تھے ، خبردار!تم قبروں كو مساجد مت بنانا ، میں تم سب كو اس سے منع كررہا ہوں “

( مسلم:532)
 

اور قبروں كو مساجد بنانے كا مطلب ہے اس كے پاس نماز پڑھنے كا ارادہ كرنا ، گرچہ اس پر مسجد كی تعمیر نہ ہوئی ہو ، كیونكہ مسجد اصل میں سجدے كی جگہ كو كہتے ہیں۔

قبروں پر عمارت كھڑی كرنا، باہر سے مٹی لاكر اسے اونچی بنانا ، اور اس كا چونا گچ كرنا : "ابو الہیاج الاسدی رحمہ اللہ سے مروی ہے فرماتے ہیں :علی بن ابی طالب bنے مجھ سے كہا :” كیا میں آپ كو اس مہم پر روانہ نہ كروں جس كے لئے مجھے رسول اللہ A نے روانہ كیا تھا ، (وہ یہ تھی ) جتنی بھی مورتیاں ملیں انہیں توڑ دینا ، اور جتنی بھی اونچی قبریں ملیں اسے زمین كے برابر كردینا"

( مسلم:969)
 

"ایك دوسری حدیث جو جابر بن عبد اللہ dسے مروی ہے فرماتے ہیں :رسول الله Aنے قبر كو چونا گچ كرنے ، اس پر بیٹھنے ، اور اس پر عمارت كھڑی كرنے سے منع فرمایا ہے "

،( مسلم:970)
 

اس لئے اسی ممانعت میں قبروں پر قبے بنانا ، اس پر نقش و نگار كرنا،اور اسے جھومروں وغیرہ سے آراستہ كرنا سب شامل ہے

قبروں كی زیارت كے لئے سفر كرنا : رسول اكرم نے فرمایا : "لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلا إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ: المَسْجِدِ الحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَسْجِدِ الأَقْصَى» ”تین مساجد چھوڑ كر كسی اور كی طرف (بغرض عبادت ) رخت سفر نہیں باندھا جا سكتا :مسجد حرام (مكہ) مسجد نبوی (مدینہ) مسجد اقصی (فلسطین)"

( بخاري : 1189 ,مسلم:259)
 

رسول اللہ Aكی قبر پرمیلہ لگانا : رسول اللہA نے فرمایا : "لا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا» ” میری قبر كو تم لوگ میلہ نہ بناؤ"

( ابو داود:2042)
 

عید كامطلب:جس جگہ برابر آنا جانا ہو ، اور اس سے قصد كسی خاص وقت یا جگہ ہو۔

3-مشركین اور یہود و نصاری كے اعتقادات ، عبادات ، اور ان كی خاص

عادات كی مشابہت اختیار كرنے سے بچنا: "رسول اللہA نے فرمایا : «خَالِفُوا المُشْرِكِينَ» ” مشركین كی مخالفت كرو"

( بخاري : 5892,مسلم:259)
 

ایك دوسری حدیث میں رسول اللہA نے فرمایا : «خَالِفُوا الْمَجُوسَ» ” مجوس (آتش پرست) كی مخالفت كرو“

( مسلم:260)
 

ایك اور حدیث میں رسول اللہA نے فرمایا : «خَالِفُوا الْيَهُودَ» ”یہودیوں كی مخالفت كرو

( أبو داؤد:652 ,صحيح)
 

4-تصوير كشی كی ممانعت:

ام المؤمنین عائشہ c بیان فرماتی ہیں كہ ام سلمہ c نے رسول اللہA سے ملك حبشہ كے ایك گرجا گھر (چرچ) كا تذكرہ كیا جسے انہوں نے دیكھا تھا ، اور اس میں بنی ہوئی بہت ساری تصویروں كا بھی ذكر كیا ، تو آپ Aنے فرمایا : «أُولَئِكَ قَوْمٌ إِذَا مَاتَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ، أُولَئِكَ شِرَارُ الخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ» ” وہ ایسی قوم ہیں ، جب ان میں كوئی نیك آدمی فوت ہو جاتا تواس كی قبر پر مسجد تعمیر كردیتے ، اور اس میں ان كی تصاویر چسپاں كردیتے ، اللہ كے نزدیك یہی لوگ بد ترین مخلوق ہیں

( بخاري : 434 ,مسلم:528)
 

5-شركیہ الفاظ استعمال كرنے كی ممانعت:

اور اس كی چند شكلیں ہیں: غیر اللہ كی قسمیں كھانا:

جیسا كہ اللہ كےرسول A نے فرمایا : «مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللهِ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ» ” جس نے غیر اللہ كی قسم كھائی تو بلا شك اس نے كفركیا یا شرك كا مرتكب ہوا

“ (ترمذی:1535,واللفظ لہ، ابو داؤد:3251 ,صحيح)
 

اللہ كی مشیئت كومخلوق كی مشیئت كے برابر بنانا: "جیسا كہ اللہ كےرسول A كا اس شخص سے یہ كہنا جس نے آپ سے یہ كہا كہ جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں : «أَجَعَلْتَنِي لِلَّهِ عَدْلا؟ قُلْ: مَا شَاءَ اللهُ وَحْدَهُ» ” كیا تونے مجھے اللہ كا ہم پلہ بنا دیا ، اس طرح بول:جو صرف ایك اللہ چاہے"

( نسائي سنن كبرى:10759, صحيح)
 

یہ كہنا:ہم اس نچھتر یا ستارہ سے برسائے گئے ہیں: "ایك حدیث قدسی میں اللہ كے رسول A نے فرمایا كہ اللہ تعالی نے فرمایا: «وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ» ” لیكن جس نے یہ كہا : فلاں فلاں نچھتر كی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے، تو میرا انكار كرنے والا اور ستاروں پر ایمان ركھنے والا ہے ،"

( بخاري : 846,مسلم:71)
 

اسی حدیث پر ان تمام بات كا قیاس كیا جائےگا جس كی نسبت تدبیر غیراللہ كو شامل ہوگی ۔

6-شرك تك پہنچانے والے اعمال كی ممانعت:

اور اس كی چند شكلیں ہیں: بلائیں ہٹانے اور اسے دور كرنے كے مقصدسے گلے یا ہاتھ میں چھلے اور دھاگے باندھنا : "عمران بن حصین d بیان فرماتے ہیں كہ نبی اكرم A نے ایك شخص كو دیكھا كہ اس كے ہاتھ میں پیتل كا ایك كڑا ہے ، تو آپ نے پوچھا :: «وَيْحَكَ مَا هَذِهِ؟» قَالَ: مِنَ الْوَاهِنَةِ، قَالَ: «أَمَا إِنَّهَا لا تَزِيدُكَ إِلا وَهْنًا انْبِذْهَا عَنْكَ؛ فَإِنَّكَ لَوْ مِتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ مَا أَفْلَحْتَ أَبَدًا» ”تیری بربادی ہو ، یہ كیسا كڑا ہے“؟ تو اس نے جواب دیا : یہ واہنہ كی بیماری سے بچنے كے لئے ہے ، تو آپ فرمایا : ”اسے نكال پھینكو ! اس لئے كہ یہ تمہارے اندر مزید وہن پیدا كردے گا، اور اسے پہننے كی حالت میں اگر تو مر گیا تو تجھے كبھی بھی كامیابی نصیب نہ ہوگی "

( مسنداحمد:20000, واللفظ لہ ،ابن ماجہ:3531,ابن حبان:6085,ضعیف (البانی))
 

نظر بدسے بچنے كے لئے تعویذ گنڈے لٹكانا ، سیپیاں پہننا ، تانت باندھنا، اور پٹے لٹكانا : "جیسا كہ اللہ كےرسول A نے فرمایا : «مَنْ تَعَلَّقَ تَمِيمَةً، فَلا أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ، وَمَنْ تَعَلَّقَ وَدَعَةً، فَلا وَدَعَ اللَّهُ لَهُ» ”جس شخص نے كوئی تعویذ لٹكایا ، اللہ اس كی مراد پوری نہ كرے ، اور جس شخص نے سیپی باندھا اللہ تعا لی اسے بھی آرام نہ دے"

( مسنداحمد:174041,ابن حبان:6086, مستدرك حاكم :7708 ،ضعیف (البانی) اور بعض لوگوں نے متابعات و شواہد كی بنا پر اس روایت كو حسن كا درجہ دیا ہے)
 

اور ایك دوسری حدیث میں اللہ كےرسول A نے فرمایا : « مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ» ” جس نے تعویذ لٹكایا اس نے اللہ كے ساتھ شرك كیا

( مسنداحمد:17422, مستدرك حاكم :7720،صحیح)
 

اور ایك دوسری حدیث میں اللہ كےرسول A نے فرمایا : "لاَ يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلاَدَةٌ مِنْ وَتَرٍ، أَوْ قِلاَدَةٌ إِلا قُطِعَتْ» ” كسی اونٹ كی گردن میں تانت سے لٹكایا گیا كوئی پٹہ نہ چھوڑا جائے ، بلكہ سب كے سب كاٹ دئیے جائیں"

( بخاري : 3005 ,مسلم:2115)
 

جھاڑ پھونك ،شركیہ دم، اور عملیات محبت : ایك حدیث میں اللہ كےرسول A نے فرمایا : "إِنَّ الرُّقَى، وَالتَّمَائِمَ، وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ» ”جھاڑ پھونك ، تعویذ گنڈے اور عملیات محبت (جادو) شر ك ہے "

( أبو داؤد:3883، ابن ماجہ:3530 ،ضعیف ، تراجع الالبانی ، رقم :142)
 

التِّوَلَةَ كا معنی :اہل عرب ایسی چیز بناتے تھے كہ ان كے گمان كے مطابق اس سے بیوی اور خاوند كے درمیان محبت پیدا ہو جائے گی۔

شرك كی جگہوں میں جانور ذبح كرنا : "ثابت بن ضحاكb فرماتے ہیں كہ ایك شخص نے بوانہ مقام پر اونٹ ذبح كرنے كی نذر مانی ، چنانچہ اس نے اس كے متعلق نبی اكرم Aسے پوچھا ، تو آپ Aنے فرمایا : «هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ؟» قَالُوا: لا، قَالَ: «هَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟»، قَالُوا: لا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْفِ بِنَذْرِكَ، فَإِنَّهُ لا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلا فِيمَا لا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ» ” كیا وہاں جاہلیت كے بتوں میں سے كوئی بت تھا جس كی پوجا كی جارہی ہو “ ؟ لوگوں نے كہا :نہیں ، آپ Aنے مزید پوچھا :” كیا وہاں مشركین كا كوئی میلالگتا تھا “؟لوگوں نے كہا: نہیں ، تو آپ Aنے فرمایا :”تم اپنی نذر پوری كرلو ، كیونكہ جو نذر اللہ كی نافرمانی كی ہو اسے پورا كرنا درست نہیں ، اور اسی طرح جس نذر كا پورا كرنا انسان كے بس میں نہ ہو اسے بھی پورا كرنا ضروری نہیں "

( أبو داؤد:3313، واللفظ لہ ,ابن ماجہ : 2130 ,صحيح)
 

بد فالی و بد شگونی : "عبد اللہ بن مسعودb فرماتے ہیں نبی اكرم Aنے فرمایا : «الطِّيَرَةُ شِرْكٌ، الطِّيَرَةُ شِرْكٌ» ”بدفالی شر ك ہے ، بد فالی شرك ہے "

( أبو داؤد:3910، ابن ماجہ:3538 ،صحيح)
 

عمومی طور پر جس كسی نے كوئی ایسا سبب ثابت كیا جس كو اللہ نے نہ حسی طور پر اور نہ ہی شرعی طور پر اسے سبب بنایا ہو، تو یقینا ایسا شخص شرك میں واقع ہو جائےگا ، یا شرك كی راہ پا لے گا۔

.

seegogImg

4-اللہ كے اسماء اور اس كی صفات پر ایمان


ايسا مضبوط اعتقاد كہ اللہ تعالی كے اسماء حسنی اور صفات عالیہ ہیں ، اور بغیر مثل اور كیفیت بیان كئے اس كی تمام صفات كمال اور عظیم خوبیاں اس كی ذات كے لئے ایسے ہی ثابت كرنا جیسے اس نے اپنی كتاب میں اور اس كے نبی نے اپنی حدیثوں میں ثابت كیا ہے، اور بغیر تحریف و تعطیل كے نقص و عیب اور مخلوقات كی مماثلت كے جملہ صفات سے ایسے ہی نفی كرنا جس طرح اس نے اپنی ذات كے تعلق سے اپنی كتاب میں اور اس كے نبی نے اپنی سنت میں كیا ہے ، جیسا كہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے (وَلِلَّـهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) "اور اچھے اچھے نام اللہ ہی كے لئے ہیں ،سو ان ناموں سے اللہ ہی كو موسوم كیا كرو ، اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ ركھو جو اس كےناموں میں كجروی كرتے ہیں،ان لوگوں كو ان كے كئے كی ضرور سزا ملے گی"

(الأعراف:180)
 

ایك دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا : (لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ) "اس كی جیسی كوئی چیز نہیں وہ سننے اور دیكھنے والا ہے "

(الشوري:11)
 

اللہ تعالی كے اسماء و صفات توقیفی ہیں ، جنہیں خالی عقل ثابت نہیں كرسكتی ، اللہ كے انہیں اوصاف اور خوبیوں كو بیان كیا جا سكتا ہے جنہیں اس نے خود یا اس كے رسول نے بیان كیا ہے ، اور قرآن و حدیث كے بیان كردہ اوصاف سےكسی بھی قیمت پر ہٹا بھی نہیں جاسكتاہے ، چنانچہ جن اوصاف سے اللہ او راس كے رسول خاموش ہیں تو وہاں سب كا خاموش رہنا واجب ہے ، اور اس میں مثبت اور منفی دونوں شكلوں میں توقف اختیار كرنا واجب ہے، اور قائل كی مراد كے متعلق تفصیل طلب كرنے سےاگر صحیح معنی مقصود ہے تو معنی قبول كرلیا جائےگا ، اور لفظ رد كردیا جائےگا ، اور اگر غلط معنی بیان كیا گیا تو لفظ اور معانی دونوں رد كردئیے جائیں گے ، اللہ تعالی كا ارشاد ہے (وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولً) "جس بات كی تجھے خبر ہی نہ ہو اس كے پیچھے مت پڑ ،كیونكہ كان او رآنكھ اور دل ، ان میں سے ہر ایك سے پوچھ گچھ كی جانے والی ہے "

(الإسراء:36)
 

اور اللہ تعالی كے اسماء حسن كے غایت درجہ تك پہنچے ہوئے ہیں ، جو اس كی ذات پر علم ہیں نیز اس كی ذات كے لئے صفات بھی ہیں ، اور اللہ كی جملہ صفات كامل ہیں جس میں كسی بھی شكل میں نقص كا وجود نہیں ہے ، اللہ كا ارشاد ہے: (وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ) "اسی كی بہترین اور اعلی صفت ہے آسمانوں میں اور زمین میں بھی ، اور وہی غلبہ والا اور حكمت والا ہے"

(الروم:27)
 
 seegogImg

تمام أسماءالہی اپنی حقیقت پر برحق ہیں ، اس لئے بغیر كسی تحریف كے ان كے ظاہری صورت ہی پر ان كو باقی ركھنا واجب ہے ، اور اس میں كجروی اختیار كرنا ہر انداز سے حرام ہے ، جیسے تعطیل ، تمثیل ، یا ایسے نام ایجاد كرنا جسے اللہ نے اپنی ذات كے لئے موسوم ہی نہیں كیا ہے ، یا اللہ سبحانہ تعالی كےنام سے بتوں كےنام كو مشتق كرنا (نكالنا) ، جیسے یہ كہنا كہ لات الہ سے بنا ہے ، اور عزی عزیز سے اور منات منان سے بنا ہے ، ایساكرنا صراصر حرام ہے ۔

انہیں اسماء سے اللہ كو پكارنا واجب ہے ، چاہے یہ پكارفریاد كی ہو یا پھر عبادت كی ہو ، اور ایسے ہی ان ناموں كا شمار كرنا ، ان كےمعانی كا سمجھنا ، اور ان كے آثار كے متعلق غور فكر كرنا ، اور ان كے تقاضوں كے مطابق عمل كرنا مناسب ہے ،اور یہ تمام علوم میں سب سے زیادہ معززو شرف والا علم ہے

صفا ت الہی كی چند قسمیں

1-ذاتی صفات:

اس سے مقصود وہ صفات ہیں جو باری تعالی كی ذات مقدس سے جڑی ہوئی ہیں ، جیسے حیات ، سمع (سننا) بصر ( دیكھنا ) علم ، قدرت ، ارادہ ، حكمت ، قوت وغیرہ ۔

2-فعلی صفات:

اس سے مقصود اللہ كی وہ صفات ہیں جو اس كی مشیئت اور حكمت سے جڑی ہوئی ہیں كہ وہ جب چاہتا ہے ، جیسا چاہتاہے ، اور جیسے اس كی حكمت كے تقاضے ہوتے ہیں وہ كر گذرتاہے ، جیسے استواء (بلند ہونا) نزول ( نازل ہونا) محبت ، بغض، فرح ،عجب ( تعجب) ضحك ( ہنسنا) مجی ( آنا) یہ اور اس كے علاوہ وہ تمام خوبیاں جسے قرآن نے بیان كیا ہے یا صحیح حدیثوں سے ثابت ہے

2 Related by Muslim, 8.

اور بعض صفات كے متعلق كہا جاتا ہے كہ وہ مشترك ہیں ، جیسے صفت كلام ، كہ وہ ذاتی بھی ہے اور فعلی بھی ، اصل صفت كے اعتبارسے یہ ذاتی ہے ،اور آحاد اور افراد كے اعتبارسے فعلی ہے ، یا یہ كہا جاتا ہے كہ قدیم النوع اور حادث الآحاد ہے ۔

اور بعض صفات كے متعلق یہ قول بھی ہے كہ وہ خبری صفات ہیں ، یعنی عقل سے ہٹ كر،جس كے ثبوت كا راستہ صرف خبر ہی ہے ، جیسے چہرہ ، دونوں ہاتھ ، دونوں آنكھ ، پیر ، یا ان كے علاوہ دیگر صفات جو حدیث سے ثابت ہیں۔

قرآن ، سنت ، اور اجماع سے ثابت شدہ صفات الہی

1-صفت علو:

صفت علو كی تین نوعیتیں ہیں : علو قدر و منزلت :یعنی اللہ سبحانہ تعالی اپنی تمام صفات میں سب سے اكمل ، اتم اور اعلی صفات كا حامل ہے ، جیسا كہ اللہ كا ارشاد ہے : (وَلِلَّـهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ) "اور الله كے لئے تو بہت ہی بلند صفت ہ"

(النحل :60)
 

2 Related by Muslim, 8.
seegogImg

ii. علو قدرت و سطوت:یعنی عزت ، قوت اور غلبہ اللہ ہی كو سزا وار ہے ، اور یہ خوبی اللہ كی كسی بھی مخلوق كو حاصل نہیں،جیسا كہ اللہ كا فرمان ہے : (وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ ) ”اور وہی اللہ اپنے بندوں كے اوپر غالب ہے برتر ہے "

(الأنعام:18)
 

iii. علو ذاتی :یعنی اللہ تعالی اپنی ذات كے ساتھ آسمانوں كے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے ، اپنی مخلوق سے الگ ہے ، اور اللہ كے اندر اس كی مخلوق كا كوئی جزء نہیں ہے ، اور نہ ہی اس كی مخلوق میں اس كا كوئی جزہے ، اس كی ذات پاك ہے ، اور ہم اس كی حمد كے سا تھ اس كی پاكی بیان كرتے ہیں ،اللہ كا ارشاد ہے (أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ) "كیا تم اس سے بے خوف ہو گئے ہوجو آسمان میں ہے "

(الملك:16)
 

اور صحیح مسلم كی روایت میں ہے كہ نبی اكرم Aنے لونڈی سے پوچھا : «أَيْنَ اللهُ؟» قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: «مَنْ أَنَا؟» قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ، قَالَ: «أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ» ”اللہ كہاں ہے "؟تو اس نے جواب دیا :آسمان میں ، تو آپA نے فرمایا :”میں كون ہوں “؟ جواب دیا :آپ رسول اللہ ہیں ، آپ نےA فرمایا :”اسے آزاد كردو ، كیونكہ یہ مؤمنہ ہے"

( مسلم:537)
 
seegogImg

قرآن و سنت ، اجماع اور عقل و فطرت كی بےشمار دلائل اللہ كے علو ذاتی كو ثابت كرتی ہیں ، اور علو یہ اللہ كی ذاتی صفت ہے ۔

2-صفت استواء:

اللہ نے فرمایا : (ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ) "پھر وہ عرش پر مستوی ہوا "

(الأعراف:54)
 

قرآن كریم میں یہ آیت اسی طرح چھ جگہوں پر آئی ہوئی ہے ، اور ساتویں جگہ اس طرح ہے : (الرَّحْمَـٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ) "رحمن عرش پر قائم ہے"

(طه:5)
 
seegogImg

استواء: استواء كا مطلب ہے آسمانوں اور زمین كی تخلیق كے بعد اللہ اپنے عرش پر بلند ہوا ، اور یہ ایسی بلندی ہے جو اس كے جلال اور عظمت كے شایان شان ہے جس میں مخلوق كے استوا ء كی مثال نہیں دی جاسكتی ، اور عرش پر مستوی ہونا یہ اللہ كی فعلی صفت ہے ۔

3-صفت كلام:

الله كا ارشاد ہے : قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا) كہہ دیجئے كہ اگر میرے پروردگار كی باتوں كے لكھنے كے لئے سمندرسیاہی بن جائے تو وہ بھی میرے رب كی باتوں كے ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا ، گو ہم اسی جیسا اور بھی اس كی مدد میں لے آئیں“۔

(الكهف:109)
 

ایك دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا : (وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا) ” اور موسی علیہ السلام سے اللہ تعالی نے صاف طور پر كلام كیا“۔

[النساء: 164]
 

ایك اور مقام پر اللہ نے فرمایا : (وَلَمَّا جَاءَ مُوسَىٰ لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ) "اور جب موسی علیہ السلام ہمارے وقت پر آئے اور ان كے رب نے ان سے باتیں كیں"

(الأعراف:143)
 
seegogImg
70 Related by Muslim, 1851.

صفت كلام كا مطلب:یہ ہےكہ اللہ تعالی حقیقی كلام فرماتا ہے ، جو قابل سماعت ہے ، اس كے حروف و اصوات ہیں ، وہ مخلوقات كے كلام سے مشابہت نہیں ركھتے ، اور وہ جب چاہتا ہے ، جو چاہتا ہے ، جیسے چاہتاہے صدق و عدل كی گفتگو كرتا ہے ، اور ایسے كلمات كے ساتھ جو ختم ہونے والے نہیں ، وہ ماضی میں ہمیشہ سے اور ہمیشہ كلام كرنے والا ہے ، اور یہ اللہ كی ذاتی صفت ہے اصل كے اعتبار سے اور اس كے آحاد اور افراد كے اعتبارسے فعلی صفت ہے۔

صفات كے یہ جملہ اقسام اپنی حقیقت كی بنیاد پر برحق ہیں ، اس لئے یہ جیسے وارد ہوئے ہیں ویسے ہی ان كا ثابت كرنا اور بروئے كار لانا واجب ہے، ساتھ ہی بغیر تحریف و تعطیل اور تمثیل و تكییف كے انہیں ان كے ظاہری حالت پے جاری و ساری ركھنا ضروری ہے ، اور یہی ضابطہ جملہ صفات كا ہے ، اس لئے چند صفات كے متعلق گفتگو كرنا باقی صفات كے متعلق ہو بہو گفتگو كرنا ہے ، اور جس نے ان كے درمیان تفریق كیا تو گویا اس نے بغیر دلیل كے فیصلہ كیا ۔

اللہ كے اسماء وصفات كے باب میں گمراہ ہونے والے گروہ

اہل قبلہ میں سے اللہ كے اسماء و صفات كے باب میں بہت سے گروہ گمراہی كے شكار ہو گئے ، جن كی تفصیل یہ ہے:

1-اہل تمثیل كا تعارف (صفات الہی كو مخلوقات كی صفات جیسے یا اس كے مشابہ كہنے والے):

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صفات الہی كو ثابت كرنے میں مبالغہ كے اس حد تك پہنچ گئے كہ تمثیل میں واقع ہوگئے ، اور ان كا شبہ یہ ہے كہ یہ بالكل نصوص كے تقاضے كے مطابق ہیں ، كیونكہ اللہ نے لوگوں كو انہیں چیزوں سے مخاطب كیا ہےمخلوقات میں جن سے وہ متعارف ہیں۔

seegogImg
70 Related by Muslim, 1851.

اور چند طریقوں سے ان كی تردید كی گئی ہے ، تفصیل ملاظہ كریں

پہلا:اللہ نے مثل ، ہمسری اور شراكت كی محكم اور صریح آیتوں كے ذریعہ اپنی ذات سے نفی كی ہے ، جیسا كہ اللہ كا ارشاد ہے : (لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ) "اس جیسی كوئی چیز نہیں وہ سننے اور دیكھنے والا ہے "

(الشوري:11)
 

اور اللہ كا فرمان ہے : (فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّـهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ) "خبر دار باوجود جاننے كے اللہ كے شریك مقرر نہ كرو "

(البقرة:22)
 

ایك اور مقام پر اللہ نے اس طرح فرمایا : (وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ) "اور نہ كوئی اس كا ہمسر ہے"

(الإخلاص:4)
 

اور واضح رہے كہ اللہ كے كلام میں تناقض كا پایا جانا محال ہے ۔

دوسرا:عقل سليم اس بات كو تسلیم نہیں كرتی كہ ایك كامل ، خالق معبود ایك كوتاہ ناقص مخلوق كی مانند ہو ، تو جس طرح اس كی ذات كسی ذات كے مشابہ نہیں ہے اسی طرح اس كی صفات بھی كسی كی صفات كے مشابہ نہیں ہیں ۔

تیسرا:الله تعالی اپنے بندوں سے ایسے كلموں سے مخاطب ہوتا ہے جسے وہ اصل معنی كی حیثیت سے سمجھتے ہیں ، اور مطلق كلی معنی میں شراكت اور شمولیت كے پائے جانے سے حقائق اور كیفیت میں مماثلت اور مشابہت كا پایا جانا لازم نہیں آتا ہے ، كیونكہ جب مخلوقات كے مابین ایك ہی جیسے نام مماثلت اور مشابہت كو واجب نہیں كرتے جیسے كان ، آنكھ ، قدرت ، ہاتھ ، چہرہ وغیرہ یعنی سب كے جدا جدا ہیں تو خالق اور مخلوق كے درمیان بدرجہ اولی مماثلت واجب نہیں ہو سكتی ۔

1-اہل تعطیل كا تعارف (اللہ كی تما م بیان كردہ صفات كی نفی كرنے والے):

یہ وہ فرقہ ہے جس نے اللہ كی پاكی بیان كرنے میں اتنا مبالغہ سے كام لیا كہ اللہ كی صفات كی نفی اور انكار كربیٹھے ، اور ان كا شبہ یہ ہے كہ صفات الہی كے ثابت كرنے سے اس كی تمثیل(تشبیہ ) لازم آتی ہے ، اس كی وجہ یہ ہے كہ انہیں صفات سے مخلوق كا وصف بیان كیا جاتا ہے ، اس لئے اللہ سے اس كی نفی كرنا متعین ہے ، چنانچہ انہوں نے اللہ كو بغیر كسی مقید صفت كے مطلقا اس كے وجود كو ثابت كیا ہے ،فرقہ تعطیل كا سب سے متشدد فرقہ قرامطہ باطنیہ ہے جس نے اللہ سے دونوں نقیض (وجود اور عدم ، حركت اور جمود)كی نفی كی، اس كے بعد فرقہ جہمیہ ہے جس نے اللہ كے اسماء و صفات كا انكار كیا ، پھر اس كے بعد فرقہ معتزلہ ہے جنہوں نے اللہ كے اسماء كو ثابت كیا اور اس سے جڑی تمام صفات كا انكار كیا۔

seegogImg

ان كی تردید چند طریقوں سے كی گئی ہے :

i. پہلا:اللہ تعالی نے قرآن كریم كی محكم ، مفصل اور صریح آیتوں میں اپنی ذات كے لئے صفات كو ثابت كیا ہے ، اور اسے تمثیل كی نفی كے ساتھ جوڑ كر بیان كیا ہے ، جیسا كہ اس كا ارشاد ہے : (لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ) "اس جیسی كوئی چیز نہیں وہ سننے اور دیكھنے والا ہے"

(الشوري:11)
 

ii. دوسرا:وجود مطلق كا ثابت كرنا كسی وصف سے متصف كرنے كو قبول نہیں كرتاكیونكہ ظاہر میں اس كی كوئی حقیقت نہیں ہے ، بلكہ یہ صرف ذہنی قضیہ ہے ، اور اس سے بڑھ كر كچھ نہیں ، لہذا ان كی یہ باتیں خالق كے انكار كی وضاحت كرتی ہیں ۔

iii. تيسرا:عام ،مطلق عام اور كلی الفاظ كے ساتھ كوئی وصف كسی متعین میں پائے جانے سے یہ لازم نہیں آتا كہ بعینہ كسی دوسرے متعین میں وہی وصف موجود ہو، بلكہ ان دونوں میں سے ہر ایك اس وصف عام میں جدا جدا ہیں ، كیونكہ جب كوئی صفت مقید كردی جاتی ہے یا اس كی اضافت كردی جاتی ہے تو خارج میں اس كا مشترك ہونا ختم ہو جاتا ہے ۔

اس کا مطلب ہے کہ حکمرانوں کے خلاف بغاوت غیر قانونی ہے

اس کا مطلب ہے کہ حکمرانوں کے خلاف بغاوت

shape

3-اہل تاويل كا تعارف

یہ ایسا گروہ ہے جس كا یہ اعتقاد ہے كہ صفات كے چند نصوص جیسے فعلی صفات اور خبری صفات یہ اللہ كے حقیقی صفت پر دلالت نہیں كرتے ، چنانچہ یہ دوسرے معانی كو ڈھونڈھ كر نصوص كو اسی پر محمول كرنے لگے، نہ تو ا ن كے پاس كوئی صحیح دلیل ہوتی جو انہیں كلام كو اس كے ظاہری معنی سے پھیرنے میں ان كی رہنمائی كرتی اور خلاف ظاہر معنی بیان كرنے میں وہ حق بجانب ہوتے ، اور انہوں نے اپنی اس تحریف كا نام تاویل ركھا ہے ۔

ان كی تردید چند طریقوں سے كی گئی ہے:

i. پہلا:اللہ تعالی اپنی ذات كے متعلق اپنی پوری مخلوقات میں سب سے زیادہ علم والا ، اور اپنی بات میں سب سے زیادہ سچا ، اور اپنی گفتگو میں سب حسین گفتگو والا ہے ،اورایسے ہی اللہ كے رسول A اپنے رب كے متعلق سب سے زیادہ علم والے ، سچی زبان والے ، فصیح بیان والے ، اور امت كے لئے ساری امت میں سب سے زیادہ خیر خواہ ہیں ، تو بھلا یہ كیسے ممكن ہے كہ كوئی اللہ او ر اس كے رسول كے علم پر استدراك كرے ، اور ان دونوں كے كلام كو تلبیس اور گمراہی كا مدعا قرار دے۔

ii. دوسرا:كلام كا اصل یہ ہے كہ اسے اس كی حقیقت پر محمول كیا جائے ، اور صرف دلیل صحیح كی بنا پر جو اس كے ظاہری سے مجازی معنی كی طرف پھیرنے كے متقاضی ہو اسی وقت اس كا تاویل كرنا درست ہے ، اور حقیقت یہ ہے كہ اس كی كوئی دلیل نہیں ہے۔

iii. تيسرا:نبی اكرم Aنے لوگوں كو وہ تمام چیزیں بتا دیں جو ان كے رب كی طرف سے آپ پر اتاری گئی تھیں ، اور واضح طور پر لوگوں تك اسے پہنچا دیا ، اور یہ ممكن نہیں كہ آپ نے اس عظیم بات میں ادنی اہمال سے كام لیا ہو ، اور آپ نے اس كا وہ مراد و مقصود نہ بیان كیا ہو جن گڑھے ہوئے معانی كا یہ اہل تحریف دعوی كررہے ہیں ۔

4-اہل تجہیل كا تعارف

اس فرقہ كا یہ اعتقاد ہے كہ اللہ نے اپنی ذات كے متعلق جو معانی بیان كیا ہے، یا اس كے رسول نے اس كے متعلق جو خبر دی ہے ، اس كا معنی مجہول اور نامعلوم ہے ، سوائے اللہ كے اس كے بارے میں كسی كو كو ئی علم نہیں ، اور نہ ہی اس علم تك كسی كی رسائی ممكن ہے ، یہ اپنے اس طریقےكو تفویض كا نام دیتے ہیں ۔

اس فرقہ كی تردید چند طریقوں سے كی گئی ہے :

پہلا:یہ ممتنع ہے كہ اللہ كے متعلق علم كا باب جو كہ دین كے بابوں میں سے سب معزز و مشرف باب ہے وہ بند ہو ، اور یہ ایسی بات ہے جس پر نہ تو كوئی عقلی اور نہ ہی نقلی دلیل ہے ۔

دوسرا:اللہ تعالی نے قرآن كریم كو واضح عربی زبان میں نازل فرمایا ، اور اپنے بندوں كو اس كے سمجھنے اور اس كے معانی میں تدبر وتفكر كرنے كا حكم دیا ہے، اور اس میں كسی بھی چیز كو مستثنی نہیں كیا ہے، اس سے معلوم ہوا كہ معانی كے علم پر اس نے قادر بنایا ہے ، اور رہی بات كیفیات اور حقائق كی تو یہ ان امور غیبیہ میں سے ہے جس كا علم اللہ كے سپرد ہے۔

تيسرا:ان كی یہ روش اور نقطہ نظر سابقین اولین یعنی اس امت كے سلف كے بے علم ہونے كاتقاضا كرتا ہے ، اور انہیں ان پڑھ لوگوں كے درجہ میں لا كھڑا كرنا ہے جو كتاب كو صرف آرزو ہی سمجھتے تھے ، اور صفات والی آیتیں ان كے حق میں محض جادو كی لكیریں تھیں ، اور معجم كے حروف معقول معنی كے فوائد سے خالی و عاری تھے ۔

فرشتوں پر ایمان كا مطلب وہ پختہ اعتقاد قائم كرنا ہے كہ اللہ نے اپنی عبادت كے لئے ایك مخلوق پیدا كیا ہے ، اور اپنی اطاعت كے لئے انہیں خالص بنایا ہے ، اور انہیں اپنی قربت كے لئے مخصوص كیا ہے ، انہیں اپنے آسمان میں آباد كرركھا ہے ، اور اپنے حكم كی تنفیذ اور بجاآوری كے لئے انہیں مختلف قوتوں سے نوازا ہے ۔

1-فرشتے اللہ كے نیك ، باعزت ، مقرب بندے ہیں ، اپنے رب كے تابع فرمان اور اس

سے لرزنے والے ہیںواضح رہے كہ فرشتوں میں ربوبیت اور الوہیت كی ادنی خصوصیت بھی نہیں ہے ، جیسا كہ اللہ كا ارشاد ہے: ( وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ ﴿٢٦﴾ لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ ﴿٢٧﴾ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ وَهُم مِّنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ ﴿٢٨﴾) (مشرك) كہتے ہیں كہ رحمن اولاد والا ہے ، ( غلط ہے ) اس كی ذات پاك ہے ، بلكہ وہ سب اس كے باعزت بندے ہیں *كسی بات میں اللہ پر پیش دستی نہیں كرتے بلكہ اس كے فرمان پر كاربند ہیں * وہ ان كے آگے پیچھے كے تمام امور سے واقف ہے ، وہ كسی كی بھی سفارش نہیں كرتے بجز ان كے جن سے اللہ خوش ہو ،وہ تو خود ہیبت الہی سے لرزاں و ترساں ہیں

(الأنبياء:26-28)
 

ایك مقام پر اللہ نے فرمایا : اور اپنے رب سے جو ان كے اوپر ہے ، كپكپاتے رہتے ہیں ،اور جو حكم مل جائے اس كی تعمیل كرتے ہیں

(النحل:50)
 

ایك مقام پر اللہ نے فرمایا : (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ) انہیں جو حكم اللہ تعالی دیتا ہے اس كی نافرمانی نہیں كرتے بلكہ جو حكم دیا جائے بجا لاتے ہیں

(التحريم:6)
 

ایك مقام پر اللہ نے فرمایا : ( كِرَامٍ بَرَرَةٍ) وہ بزرگ اور پاك باز ہیں

(عبس:16)
 
2 مسلم سے متعلق، 8.
2 مسلم سے متعلق، 8.

ایك مقام پر اللہ نے فرمایا : (وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ أَهَـٰؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ ﴿٤٠﴾ قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِم) اور ان سب كو اللہ اس دن جمع كركے فرشتوں سے دریافت فرمائے گا كہ كیا یہ لوگ تمہاری عبادت كرتے تھے * وہ كہیں گے تیری ذات پاك ہے ،اور ہمارا ولی توتوہے ناكہ یہ ,بلكہ یہ لوگ جنوں كی عبادت كرتے تھے ، ان میں كے اكثر كا انہیں پر ایمان تھا

(سبأ:40-41)
 

ایك مقام پر اللہ نے فرمایا : ( قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ) ان سب نے كہا اے اللہ !تیری ذات پاك ہے ، ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سكھا ركھا ہے ، پورے علم و حكمت والا تو توہی ہے

(البقرة:32)
 

2-فرشتوں كے باعزت نام ہیں

ہمیں فرشتوں كے جن نامو ں كا علم ہے ہم ان ناموں كے ساتھ ان پر ایمان لاتے ہیں ، اور ہمیں ان كے جن ناموں كا علم نہیں ہم ان پر اجمالی ایمان لاتے ہیں ،قرآن و صحیح سنت سے ہمیں جن معزز فرشتوں كے ناموں كا پتہ چلا ہے وہ درج ذیل ہیں : جبریل ، میكائیل ، اسرافیل ، ملك الموت ، مالك ، رضوان ، منكر نكیر ۔

3-فرشتے نور سے پیدا ہوئے ہیں ، پروالے ہیں ، عظیم اور قسمہا قسم ہیئت والے ہیں

اللہ كا ارشاد ہے : (الْحَمْدُ لِلَّـهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا أُولِي أَجْنِحَةٍ مَّثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۚ يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ) اس اللہ كے لئے تمام تعریفیں سزاوار ہیں جو (ابتداء)آسمانوں اور زمین كا پیدا كرنے والا اور دودو تین تین چار چار پروں والے فرشتوں كو اپنا پیغمبر (قاصد) بنانے والا ہے ، مخلوق میں جو چاہے زیادتی كرتا ہے ، اللہ تعالی یقینا ہر چیز پر قادر ہے

(فاطر:1)
 
2 مسلم سے متعلق، 8.

اور نبی اكرم Aنے فرمایا : «خُلِقَتِ الْمَلائِكَةُ مِنْ نُورٍ» ” فرشتے نور سے پیدا كئے گئے ہیں

( مسلم:2996)
 

اور صحیحین كی ایك روایت میں یوں ہے كہ اللہ كے رسولA نے جبریل كو ان كی صورت میں دیكھا ، اور ان كے چھ سو پر تھے

(بخاري : 3234,مسلم:177)
 

ایك حدیث میں رسول اكرم Aنے فرمایا: أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ مَلائِكَةِ اللَّهِ مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ، إِنَّ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةُ سَبْعِ مِائَةِ عَامٍ» ” مجھے اجازت ملی ہے كہ میں عرش كے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایك فرشتے كا حال بیان كروں ، كہ اس كے كان كی لو سے اس كے مونڈھے تك كا فاصلہ سات سو برس كی مسافت ہے

(أبو داؤد:4727 .صحيح)
 

فرشتے اللہ كی حقیقی مخلوق ہیں ، یہ كوئی معنوی طاقت نہیں جیسا كہ بعض اٹكل مارنے والے لوگوں كا خیال ہے ، یہ اللہ كی ایك كثیر تعداد والی مخلوق ہے ، اللہ كے علاوہ ان كی كثرت تعداد كا كوئی شمار نہیں كرسكتا ، جیسا كہ واقعہ معراج سے متعلق انس bكی حدیث میں آیا ہےكہ رسول اللہ Aنے فرمایا: فَرُفِعَ لِي البَيْتُ المَعْمُورُ، فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ، فَقَالَ: هَذَا البَيْتُ المَعْمُورُ يُصَلِّي فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، إِذَا خَرَجُوا لَمْ يَعُودُوا إِلَيْهِ آخِرَ مَا عَلَيْهِمْ» ”ميرے لئے بیت معمور پیش كیا گیا ، تو میں نے جبریل سے دریافت كیا ، تو انہوں نے بتایا:یہ بیت معمور ہے جس میں یومیہ ستر ہزار فرشتے نماز ادا كرتے ہیں ،جب وہ نكل جائیں تو ان میں آخری شخص كی باری دوبارہ واپس نہیں آت

(بخاري : 3207,مسلم:162)
 

2 مسلم سے متعلق، 8.

4-فرشتے صف بستہ كھڑے رہنے والے اور تسبیح بیان كرنے والے ہیں

الله نے فرشتوں كو اپنی تسبیح كا الہام كیا ہے ، اور اپنے حكم كی بجاآوری كا حكم دیا ہے ، اور حكم كے نافذ كرنے كی قوت عطا فرمائی ہے ، جیسا كہ اللہ كا ارشاد ہے : وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ ﴿١٦٤﴾ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ ﴿١٦٥﴾ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ ﴿١٦٦﴾) (فرشتوں كا قول ہے كہ)ہم میں سے تو ہر ایك كی جگہ مقرر ہے * اور ہم تو (بندگی الہی میں) صف بستہ كھڑے ہیں * اور اس كی تسبیح بیان كررہے ہیں

(الصافات:164-166)
 

ایك دوسری جگہ اللہ نے فرمایا (فَإِنِ اسْتَكْبَرُوا فَالَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ يُسَبِّحُونَ لَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُمْ لَا يَسْأَمُونَ ) پھر بھی اگر یہ كبر و غرور كریں تو وہ (فرشتے ) جو آپ كے رب كے نزدیك ہیں وہ تو رات دن اس كی تسبیح بیان كررہے ہیں اور ( كسی وقت بھی) نہیں اكتات

(فصلت:38)
 

ایك جگہ اللہ نے فرمایا : (وَلَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَنْ عِندَهُ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ ﴿١٩﴾ يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ ﴿٢٠﴾ ) اور وہ ذرا سی بھی سستی نہیں كرتے

(الأنبياء:20)
 

حكیم بن حزام bسے مروی ہے فرماتے ہیں :رسول اللہ Aاپنے اصحاب كے درمیان موجود تھے كہ اچانك آپ نے ان سے فرمایا تَسْمَعُونَ مَا أَسْمَعُ؟» قَالُوا: مَا نَسْمَعُ مِنْ شَيْءٍ. قَالَ: «إِنِّي لأَسْمَعُ أَطِيطَ السَّمَاءِ، وَمَا تُلامُ أَنْ تَئِطَّ، وَمَا فِيهَا مَوْضِعُ شِبْرٍ إِلا وَعَلَيْهِ مَلَكٌ سَاجِدٌ أَوْ قَائِمٌ

كیا تم لوگ وہ آواز سن پا رہے ہو جو میں سن رہا ہوں “؟ صحابہ نے عرض كی ہم كچھ بھی نہیں سن رہے ہیں ، تو آپ Aنے فرمایا :”بلا شك میں آسمان كے چڑ چڑانے كی آواز سن رہا ہوں ، اور اس چڑ چڑانے پر وہ قابل ملامت نہیں ہے ، كیونكہ فرشتوں كی اتنی بڑی تعداد ہے كہ وہاں ایك بالشت جگہ بھی خالی نہیں ہے ، بلكہ فرشتے یاتو محو سجدہ ہیں یا پھر كھڑے ہیں

(معجم كبیر للطبرانی:3122 ، علامہ البانی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے كہ یہ صحیح مسلم كی شرط پر ہے ، ملاحظہ ہو :الصحيحة/852)
 
2 مسلم سے متعلق، 8.

5-فرشتے پس پردہ ہیں ان كا مشاہدہ نہیں كیا جا سكتا

فرشتے ایك غیبی عالم ہیں جواس دنیاوی زندگی میں انسانی حواس كی پہنچ سے باہر ہیں ، لیكن اللہ جسے چاہے دكھا سكتاہے ، جیسے ہمارے نبی محمد كا جبریل علیہ السلام كو ان كی اصلی صورت میں جس میں اللہ نے ان كی تخلیق فرمائی ہے دیكھنا ، البتہ آخرت میں ان كا مشاہدہ كرایا جائے گا، جیسا كہ اللہ كا ارشادہے : (يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَائِكَةَ لَا بُشْرَىٰ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا) جس دن یہ فرشتوں كو دیكھ لیں گے اس دن گنہ گاروں كو كوئی خوشی نہ ہوگی اور كہیں گے یہ محروم ہی محروم كئے گئے

(الفرقان:22)
 

ایك اور مقام پر اللہ نے فرمایا : (وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ) ان كے پاس فرشتے ہر ہر دروازے سے آئیں گے

(الرعد:23)
 

اور یاد رہے كہ اللہ نے انہیں تبدیل ہونے اور آدمیوں جیسی ہم شكل بن جانے كی قدرت بخشی ہے ، جیسا كہ اللہ تعالی كا ارشاد ہے : (فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا) پھر ہم نے اس كے پاس اپنی روح (جبریل علیہ السلام) كو بھیجا پس وہ اس كے سامنے پورا آدمی بن كر ظاہر ہوا

(مريم:17)
 
2 مسلم سے متعلق، 8.
2 مسلم سے متعلق، 8.

ایك اور مقام پر اللہ نے فرمایا : (وَلَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَىٰ قَالُوا سَلَامًا ۖ قَالَ سَلَامٌ ۖ فَمَا لَبِثَ أَن جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍ ﴿٦٩﴾ فَلَمَّا رَأَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً ۚ قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ ﴿٧٠﴾) اور ہمارے بھیجے ہوئے پیغامبر ابراہیم (علیہ السلام )كے پاس خوش خبری لے كر پہنچے اور سلام كہا ، انہوں نے بھی جواب سلام دیا ،اور بغیر كسی تاخیر كے گائے كا بھنا ہوا بچھڑا لے آئے * اب جو دیكھا كہ ان كے تو ہاتھ بھی اس كی طرف نہیں پہنچ رہے ہیں ،تو ان سے اجنبیت محسوس كركے دل ہی دل میں ان سے خوف كرنے لگے ، انہوں نے كہا ڈرو نہیں ، ہم تو قوم لوط كی طرف بھیجے ہوئے آئے ہیں

(هود:69-70)
 

الله نے ایك جگہ كچھ اس طرح فرمایا : (وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَقَالَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ ﴿٧٧﴾ وَجَاءَهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِن قَبْلُ كَانُوا يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ ۚ قَالَ يَا قَوْمِ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ ۖ فَاتَّقُوا اللَّـهَ وَلَا تُخْزُونِ فِي ضَيْفِي ۖ أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌ ﴿٧٨﴾) ”جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط (علیہ السلام )كے پاس پہنچے تو وہ ان كی وجہ سےبہت غمگین ہو گئے ، اور دل ہی دل میں كڑھنے لگے اور كہنے لگے كہ آج كا دن بڑی مصیبت كا دن ہے * اور اس كی قوم دوڑتی ہوئی اس كے پاس آ پہنچی ، وہ تو پہلے ہی سے بدكاریوں میں مبتلا تھی ، لوط علیہ السلام نے كہا :اے قوم كے لوگو!یہ ہیں میری بیٹیاں جو تمہارے لئے بہت ہی پاكیزہ ہیں ، اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں كے بارے میں رسو ا نہ كرو ، كیا تم میں ایك بھی بھلا آدمی نہیں “۔

[هود: 77-78]
 

مذكورہ تمام فرشتے انسانی شكل میں تھے ، اسی طرح جس وقت جبریل gنبی اكرم aكے پاس آئے وہ بھی ایك سفید پوشاك اور انتہائی كالے بال والے آدمی كی شكل میں آئے ، اور كبھی كبھار آپ gصحابی رسول دحیہ كلبی bكی شكل میں آتے تھے۔

6-فرشتوں كی ذمہ داریاں

ان كی بنیادی اور دائمی وظیفے كا اہم پہلو یہ ہے كہ وہ رب كی عبادت اور اس كی تسبیح میں لگے رہتے ہیں ، اوران كی دیگر ذمہ داریاں كچھ اس طرح سے ہیں :

1-وحی لانے كی ذمہ داری :

یہ جبریل علیہ السلام كا كام تھا ، جیسا كہ اللہ نے فرمایا : ( قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ) كہہ دیجئے كہ اسے آپ كے رب كی طرف سے جبرئیل حق كے ساتھ لے كر آئیں ہیں تاكہ ایمان والوں كو اللہ تعالی استقامت عطا فرمائے ،اور مسلمانوں كی رہنمائی اور بشارت ہو جائے

(النحل:102)
 

ایك اور جگہ اللہ نے فرمایا (وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٩٢﴾ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ ﴿١٩٣﴾ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ ﴿١٩٤﴾) اور بیشك وشبہ یہ ( قرآن ) رب العالمین كا نازل فرمایا ہوا ہے *اسے امانت دار فرشتہ لے كرآیا ہے *آپ كے دل پر اترا ہے كہ آپ آگاہ كردینے والوں میں سے ہو جائیں

(الشعراء:192-194)
 

2-بارش برسانا اور زمین پر پیڑ پودے اگانے كی ذمہ داری :

یہ كام میكائیل علیہ السلام كا ہے ، جیسا كہ امام احمد كی روایت میں ہے كہ یہود نے رسول اللہ سے كہا : اگر آپ فرما ں دیں :وہ میكائیل جو رحمت ، پودے ، اور بارش لیكر اترتے ہیں تو یہ ہوتا

(احمد؛2483 ۔والطبرانی فی الكبیر:12061)
 

3-صور پھونكنے كی ذمہ داری :

یہ وظیفہ اسرافیل علیہ السلام كا ہے ، یہ صور پھونكیں گے تو سب بے ہوش ہو جائیں گے ، اور دوبارہ صور پھونكیں گے تو سب اٹھ كھڑے ہوں گے، جیسا كہ اللہ كا ارشاد ہے : (وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّـهُ ۖ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنظُرُونَ) اور صور پھونك دیا جائے گا پس آسمانوں اور زمین والےسب بےہوش ہو كر گر پڑیں گے مگر جسے اللہ چاہے، پھر دوبارہ صور پھونكا جائے گا پس وہ ایك دم كھڑے ہو كر دیكھنے لگ جائیں گے

(الزمر:68)
 

یہ تین فرشتے جبرا ئیل ، میكائیل ، اور اسرافیل تمام فرشتوں كے سردار ہیں ، كیونكہ ان كی ذمہ داری كا تعلق حیات سے ہے ، جبرئیل كو حیات قلب كی ذمہ داری سونپی گئی ہے ، اور میكائیل كو حیات نبات(پیڑ و پودے) كی ، اور اسرافیل كو حیات ابدان كی ذمہ داری ملی ہے،اور ان میں سب سے زیادہ شرف والے جبرئیل علیہ السلام ہیں ، اور یہی روح القدس ہیں۔

4-انسانوں كی حفاظت كی ذمہ داری

اللہ كا ارشاد ہے : لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ ۗ وَإِذَا أَرَادَ اللَّـهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ) اس كے پہرے دار انسان كے آگے پیچھے مقرر ہیں، جو اللہ كے حكم سے اس كی نگہبانی كرتے ہیں ، كسی قوم كی حالت اللہ تعالی نہیں بدلتا جب تك كہ وہ خود اسے نہ بدلیں ، جو ان كے دلوں میں ہے، اللہ تعالی جب كسی قوم كی سزا كا ارادہ كرلیتا ہے تو وہ بدلا نہ كرتا ،اور سوائے اس كے كوئی بھی ان كا كارساز نہیں

(الرعد:11)
 

5-انسانوں كے اعمال كی حفاظت كرنے كی ذمہ داری :

اللہ تعالی كا ارشاد ہے : (إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ ﴿١٧﴾ مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ ﴿١٨﴾) جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ،ایك دائیں طرف اور ایك بائیں طرف بیٹھا ہواہے * (انسان )منھ سے كوئی لفظ نكال نہیں پاتا مگر كہ اس كے پاس نگہبان تیار ہے

(ق:17-18)
 

6-اہل ایمان كو ثابت قدم ركھنے اور ان كی مدد كرنے كی ذمہ داری :

اللہ تعالی كا ارشاد ہے : ( إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلَائِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا ۚ سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ) اس وقت كو یاد كرو جب كہ آپ كا رب فرشتوں كو حكم دیتا تھاكہ میں تمہار اساتھی ہوں ،سو تم ایمان والوں كی ہمت بڑھاؤ ، میں ابھی كفار كے قلوب میں رعب ڈالے دیتا ہوں ، سو تم گردنوں پر مارو اور ان كے پور پور كو مارو“۔

(الأنفال:12)
 

7-روحیں قبض كرنے كی ذمہ داری :

یہ كام ملك الموت كا ہے جیسا كہ اللہ كا ارشاد ہے: (قُلْ يَتَوَفَّاكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ) كہہ دیجئے كہ تمہیں موت كا فرشتہ فوت كرے گا جو تم پر مقرر كیا گیا ہے ، پھر تم سب اپنے پروردگار كی طرف لوٹائے جاؤ گے

(السجدة:11)
 

اللہ كا ارشاد ہے: (حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ) یہاں تك كہ جب تم سے كسی كو موت آپہنچتی ہے ،اس كی روح ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے قبض كرلیتے ہیں،اور وہ ذرا بھی كوتاہی نہیں كرتے

(الأنعام:61)
 

8-قبر میں میت سے اس كےرب ، دین اور نبی كے متعلق سوال كرنے كی ذمہ

داری :سوال كرنے والے دو ہیں: ایك منكراور دوسرا نكیر:انس بن مالك bسے مروی ہے وہ بیان فرماتے ہیں كہ اللہ كے نبی aنے فرمایا : إِنَّ العَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ،وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ، فَيَقُولاَنِ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَأَمَّا المُؤْمِنُ، فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الجَنَّةِ، فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا ,وَأَمَّا المُنَافِقُ وَالكَافِرُ فَيُقَالُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: لاَ أَدْرِي كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَيُقَالُ: لاَ دَرَيْتَ وَلاَ تَلَيْتَ، وَيُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ غَيْرَ الثَّقَلَيْن


آدمی جب اپنی قبر میں ركھا جاتا ہے اوراس كے ساتھی اس سے رخصت ہو جاتے ہیں ، _اور وہ ان كے جوتے كی آواز سنتا رہتا ہے _ اتنے میں اس كے پاس دو فرشتے آتے ہیں ، وہ اسے اٹھا كر بٹھا دیتے ہیں اور اس سے یہ پوچھتے ہیں :اس شخص یعنی محمد كے بارے میں تو كیا اعتقاد ركھتا تھا ؟مومن تو اس كے جواب میں یہ كہے گا كہ میں گواہی دیتا ہوں كہ وہ اللہ كے بندے اور اس كی رسول ہیں ، تو اس سے كہا جائے گا كہ تم جہنم كا اپنا ٹھكانا دیكھو ، لیكن اللہ نے اس كے بدلے تمہارے لئے جنت میں ٹھكانا بنا دیا ہے، اس وقت اسے جنت و جہنم دونوں ٹھكانے دكھائے جائیں گے، اور رہی بات منافق و كافر كی تو ان دونوں سے پوچھا جائے گا: اس شخص كے بارے میں تم سب كیا كہتے تھے ؟ تو یہ لوگ كہیں گے مجھے پتہ نہیں ، ہم تو اس شخص كے متعلق یہی كہتے تھے جو لوگ كہتے تھے ، تو ان سے كہا جائے گا كہ نہ تو تونے سمجھا اور نہ ہی سمجھنے والوں كی اتباع كی ، پھر اسے لوہے كے ہتھوڑے سے ایك ضرب لگائی جائے گی ، پھر وہ اتنی زور سے چیچے گا كہ انس و جن كے سوا اس كے قریب كی ساری چیزیں اس كی چیخ سن لیں گی

( بخاري : 1374,مسلم:2870,مختصرا)
 

اور سنن ترمذی میں ابو ہریرہ سے مروی حدیث كے الفاظ كچھ اس طرح ہے : إِذَا قُبِرَ المَيِّتُ - أَوْ قَالَ: أَحَدُكُمْ - أَتَاهُ مَلَكَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ، يُقَالُ لأَحَدِهِمَا: الْمُنْكَرُ، وَلِلآخَرِ: النَّكِيرُ، فَيَقُولانِ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟» ” جب میت كو- یا راوی نے كہا:تم میں سے كسی ایك كو –دفن كردیا جاتاہے تو اس كے پاس دو كالے نیلے رنگ كے فرشتے آتے ہیں ، ان میں سے ایك كو منكر اور دوسرے كو نكیر كہا جاتاہے ، وہ دونوں آكر فرماتے ہیں :اس آدمی كے متعلق تم كیا كہتے ہو

(ترمذی: 1071 , امام البانی رحمہ اللہ نےالصحیحہ میں اس حدیث كی تحسین كی ہے )
 

9-پیٹ كے بچے كی دیكھ ریكھ كی ذمہ داری :

بچے میں روح پھونكنا ، اس كی روزی لكھنا ، اس كی عمر اور عمل لكھنا ، اور یہ لكھنا كہ وہ بد بخت ہوگا یا نیك بخت۔

عبد الله بن مسعودb بیان كرتے ہیں كہ ہم سے اللہ كے صادق و مصدوق رسول محمد aنے بیان كیا : إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ مَلَكًا فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، وَيُقَالُ لَهُ: اكْتُبْ عَمَلَهُ، وَرِزْقَهُ، وَأَجَلَهُ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوح

تم میں سے ہر ایك مادہ (منی ) اس كے ماں كے پیٹ میں چالیس دن جمع كیا جاتا ہے پھر چالیس دن تك وہ جما ہو ا خون كی شكل میں رہتا ہے ، پھر چالیس دن تك گوشت كا لوتھڑا رہتا ہے ، پھر اللہ ایك فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چار باتیں لكھنے كا حكم دیتا ہے ، اس كے اعمال ، روزی ، عمر ، اور بد بختی یا نیك بخت ، پھر اس میں روح پھونك دی جاتی ہے

(بخاري : 3208 ,مسلم:2643)
 

10-جہنم كے داروغے كی ذمہ داری :

اللہ كا ارشاد ہے: (وَمَا جَعَلْنَا أَصْحَابَ النَّارِ إِلَّا مَلَائِكَةً ۙ) ہم نے دوزخ كے داروغے صرف فرشتے ركھے ہیں

(المدثر:31)
 

أيك جگہ اللہ نے فرمایا (وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۖ قَالَ إِنَّكُم مَّاكِثُونَ) ”اور پكار پكار كہیں گے كہ اے مالك !تیرا رب ہمارا كام ہی تمام كردے، وہ كہے گا كہ تمہیں تو (ہمیشہ) رہنا ہے

(الزخرف:77)
 

اللہ كا ارشاد ہے : (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ) اےایمان والو!تم اپنے آپ كو اور اپنے گھر والوں كو اس آگ سے بچاؤ جس كا ایندھن انسان ہیں اور پتھر ، اس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حكم اللہ تعالی دیتا ہے اس كی نافرمانی نہیں كرتے بلكہ جو حكم دیا جائے بجا لاتے ہیں

(التحريم:6)
 

11-اہل ایمان كے لئے استغفار كرنے، ان كے لئے دعا كرنے ، انہیں بشارت

دینے، اور جنت میں ان كی تكریم كرنے كی ذمہ داری :اللہ كا ارشاد ہے : (الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ ﴿٧﴾ رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدتَّهُمْ وَمَن صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿٨﴾ وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ ۚ وَمَن تَقِ السَّيِّئَاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿٩﴾) عرش كے اٹھانےوالے اور اس كے پاس كے (فرشتے )اپنے رب كی تسبیح حمد كے ساتھ ساتھ كرتے ہیں ،اور اس پر ایمان ركھتے ہیں ،اور ایمان والوں كے لئے استغفار كرتے ہیں ، كہتے ہیں كہ اے ہمارے پروردگار !تونے ہر چیز كو اپنی بخشش اور علم سے گھیر ركھا ہے ، پس تو انہیں بخش دے جو توبہ كریں اور تیری راہ كی پیروی كریں ،اور تو انہیں دوزخ كے عذاب سے بھی بچا لے * اے ہمارے رب!تو انہیں ہمیشگی والی جنتوں میں لے جا ، جن كا تونے ان سے وعدہ كیا ہے ،اور ان كے باپ دادوں ،اور بیویوں اور أولاد میں سے (بھی) ان (سب) كو جو نیك عمل ہیں ، یقینا تو تو غالب و باحكمت ہے* انہیں برائیوں سے بھی محفوظ ركھ ، حق تو یہ ہے كہ اس دن تو نے جسے برائیوں سے بچا لیا اس پر تونے رحمت كردی ،اور بہت بڑی كامیابی تو یہی ہے

(غافر:7-9)
 

اللہ كا ارشاد ہے : (إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ) (واقعی)جن لوگوں نے كہا كہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اسی پر قائم رہے ان كے پاس فرشتے (یہ كہتے ہوئے ) آتے ہیں كہ تم كچھ بھی اندیشہ اور غم نہ كرو ( بلكہ) اس جنت كی بشارت سن لو جس كا تم وعدہ دیئے گئے ہو

(فصلت:30)
 

اللہ كا ارشاد ہے : (وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ ﴿٢٣﴾ سَلَامٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ ۚ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ ﴿٢٤﴾) ان كے پاس فرشتے ہر ہر دروازے سے آئیں گے * كہیں گے كہ تم پر سلامتی ہو ، صبر كے بدلے ، كیا ہی اچھا (بدلہ ) ہےاس دار آخرت كا

(الرعد:23-24)
 




(آسمانی) كتابوں پر ایمان

ايسا پختہ اعتقاد ركھنا كہ اللہ تعالی نے لوگوں كی ہدایت كی خاطر ، ان پر بطور شفقت ، ان كی نصیحت كی خاطر ، اور ان پر حجت و دلیل قائم كرنے ، اور ہر چیز كی وضاحت كے لئے بالكل حق كے ساتھ اپنے نبیوں پر كتابیں نازل فرمائیں۔

آسمانی كتابوں پر ایمانی تقاضے

كتابوں پر ایمان چند امور كا تقاضا كرتا ہے ،اور وہ یہ ہیں : پہلا تقاضا: یہ ایمان ركھنا كہ تمام كتابیں حق كے ساتھ اللہ كی جانب سے نازل كی گئی ہیں۔الله كا ارشادہے: (وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ ﴿٢٣﴾ سَلَامٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ ۚ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ ﴿٢٤﴾) جس نے آپ پر حق كے ساتھ اس كتاب كو نازل فرمایا ہے ، جو اپنے سے پہلے كی تصدیق كرنے والی ہے ، اسی نے اس سےپہلے تورات اور انجیل كو اتارا تھ

(آل عمران:3)
 

یہ سب اللہ كی كتابیں اور اس كے كلمات ہیں ، نہ تو یہ كسی مقرب فرشتے كا اور نہ ہی كسی نبی مرسل كا كلام ہے ، چنانچہ اس كی بھی عصمت و تقدس كی خوبی ہے ۔

دوسراتقاضا: جن كتابوں كے نام ہمیں معلوم ہیں ان پر ایمان تعیین كے ساتھ ركھنا ،اور جن كانام ہمیں پتہ نہیں ان پر ایمان مجمل ركھنا۔

2 مسلم سے متعلق، 8.

معروف آسمانی كتابیں

1-تورات :

الله نے اسے موسی علیہ السلام پر نازل فرمایاجیسا كہ اللہ كا ارشاد ہے : (قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ ﴿١٤٤﴾ وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا ۚ سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ ﴿١٤٥﴾) ارشاد ہوا كہ اے موسی!میں نے پیغمبری اور اپنی ہمكلامی سے اور لوگوں پر تم كو امتیاز دیا ہے ، تو جو كچھ میں نے تم كو عطا كیا ہے اس كو لو اور شكر كرو*اور ہم نے چند تختیوں پر ہر قسم كی نصیحت اور ہر چیز كی تفصیل ان كو لكھ دی ہے ، تم ان كو پوری طاقت سے پكڑلو ، اور اپنی قوم كو حكم كرو كہ ان كے اچھے اچھے احكام پر عمل كریں ، اور بہت جلد تم لوگوں كو ان بے حكموں كا مقام دكھلاتا ہوں

(الأعراف:144-145)
 

ایك اور جگہ اللہ نے فرمایا : ( إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِن كِتَابِ اللَّـهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ) ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت و نور ہے ، یہودیوں میں اسی تورات كے ساتھ اللہ تعالی كے ماننے والے انبیاء (علیہم السلام)اور اہل اللہ اور علماء فیصلہ كرتے تھے كیونكہ انہیں اللہ كی اس كتاب كی حفاظت كا حكم دیا گیا تھااور وہ اس پر اقراری گواہ تھے

(المائدة:44)
 
2 مسلم سے متعلق، 8.
2 مسلم سے متعلق، 8.

2-انجیل:الله نے اس كتاب كو عیسی علیہ السلام پر نازل فرمایا

اللہ كا ارشاد ہے: ( ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ ) ان كے بعد پھر بھی ہم اپنے رسولوں كو پے در پے بھیجتے رہے ، اور ان كے بعد عیسی بن مریم (علیہ السلام)كو بھیجا ، اور انہیں انجیل عطا فرمائی

(الحديد:27)
 

اور ایك دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا : (وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ) اورہم نے انجیل عطا فرمائی، جس میں نور و ہدایت تھی اور وہ اپنے سے پہلے كی كتاب تورات كی تصدیق كرتی تھی اور وہ سراسر ہدایت و نصیحت تھی ، پارسالوگوں كے لئے

(المائدة:46)
 

3-قرآن:اس كتاب كو اللہ نے محمدA پر نازل فرمایا

تمام كتابوں میں یہ سب سے عظیم كتاب ہے ، اللہ تعالی كا ارشاد ہے (وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ) اور ہم نے آپ كی طرف حق كے ساتھ یہ كتاب نازل فرمائی ہے ، جو اپنے سے اگلی كتابوں كی تصدیق كرنے والی ہے، اور ان كی محافظ ہے

(المائدة:48)
 

ایك دوسری جگہ اللہ نے فرمایا : (تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا ”بہت بابركت ہے وہ اللہ تعالی جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاكہ وہ تمام لوگوں كے لئے آگاہ كرنے والا بن جائے

(الفرقان:1)
 

اللہ كی طرف سے بھیجی گئیں چند اور كتابیں :زبور:یہ وہ كتاب ہے جسے اللہ نے داود علیہ السلام كو عطا فرمایا تھا ، اللہ كا ارشاد ہے: (وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا) اور ہم نے داود كو زبور عطا كیا

(الإسراء:55)
 

تیسری: جو ان میں سے ایک کو برقرار رکھتا ہے وہ یقین رکھتا ہے

صحف ابراہیم علیہ السلام: (إِنَّ هَـٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ ﴿١٨﴾ صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ ﴿١٩﴾) یہ باتیں پہلی كتابوں میں بھی ہیں*(یعنی)ابرہیم اور موسی كی كتابوں میں

(الأعلى:18-19 )
 

تیسراتقاضا:تحریف سے پاك اخبار كی تصدیق كرنا اللہ تعالی نے یہ خبر دی ہے كہ بنی اسرائیل كی كتابوں میں لفظی اور معنوی دونوں قسم كی تحریف داخل ہو چكی ہے ، جیسا كہ اللہ كا ارشاد ہے: (يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ) وہ كلام كو اس كی جگہ سے بدل ڈالتے ہیں

(المائدة:13)
 

اللہ كا ارشاد ہے : (وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُم بِالْكِتَابِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتَابِ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّـهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِندِ اللَّـهِ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ) یقینا ان میں ایسا گروہ بھی ہے جو كتاب پڑھتے ہوئے اپنی زبان مروڑتا ہے ، تاكہ تم اسے كتاب ہی كی عبارت خیال كرو، حالانكہ در اصل وہ كتاب میں سے نہیں ، اور یہ كہتے بھی ہیں كہ وہ اللہ تعالی كی طرف سے ہے حالانكہ دراصل وہ اللہ كی طرف سے نہیں ، وہ تو دانستہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں

(آل عمران:78)
 

اور رہی بات قرآ ن كریم كی تو اللہ نے خود ہی اس كی حفاظت كی ذمہ داری لے لی ہے ، جیسا كہ اللہ كا ارشاد ہے : (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ) ” ہم نے ہی اس قرآن كو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس كے محافظ ہیں“۔

(الحجر:9)
 

اور حقیقت میں اس كی حفاظت بھی فرمائی جیسا كہ اس كا ارشاد ہے: (وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ ﴿٤١﴾ لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ ﴿٤٢﴾) جن لوگوں نے اپنے پاس قرآن پہنچ جانے كے باوجود اس سے كفر كیا (وہ بھی ہم سے پوشیدہ نہیں)یہ بڑی با وقعت كتاب ہے* جس كے پاس باطل پھٹك بھی نہیں سكتا، نہ اس كے آگے سے نہ اس كے پیچھے سے ، یہ ہے نازل كردہ حكمتوں والے خوبیوں والے (اللہ) كی طرف سے

(فصلت:41-42)
 

اہل كتاب كی كتابوں میں پائے جانے والے اخبار كی حالتیں

اسی كو بنیاد بناتے ہوئے یہ بات كہی جاسكتی ہے كہ وہ تما م قصے اور اخبار جو اہل كتاب (یہود و نصاری ) كی كتابوں میں بیان كی گئی ہیں جنہیں اصطلاح میں اسرائیلیات كے نام سے جانا جاتا ہے وہ تین حالتوں سے خالی نہیں ہیں : پہلی حالت:

وہ قرآن میں موجود واقعات كے مطابق ہوں ايس صورت میں ہم ان كی صحت و درستگی پر اعتقاد ركھیں گے كیونكہ ہماری كتاب نے ان واقعات و اخبار كے صحیح ہونے كی شہادت دی ہے، مثال كے طور پر طوفان كا تذكرہ ، ابراہیم ، یوسف ، موسی كا واقعہ ، آل فرعون كے ڈوبنے كا قصہ ، عیسی علیہ السلام كی بہت ساری نشانیاں ،ان كی تفاصیل سے قطع نظر دیگر بہت سے واقعات ۔ دوسری حالت: وہ قرآن میں موجود واقعات و اخبار كے مخالف ہوں ايسی صورت میں ہم ان كے باطل ہونے كا اعتقاد ركھیں گے ، اور ہم اسے اس قبیل سے سمجھیں گے كہ وہ ان كے ایجادہ كردہ ، ان كے اپنے ہی ہاتھوں سے لكھے ہوئے ، اور ان كی اپنی ہی زبانوں كی مروڑی ہوئی ہیں، جیسا كہ ان كا یہ خیال ہے كہ لوط علیہ السلام نے شراب پی اور اپنی ہی دو بیٹیوں سے زنا كر بیٹھے !اللہ ان كو عزت بخشے اور ان كی نگہداشت فرمائے ،اور ایسے ہی ان كا یہ بھی خیال ہے كہ عیسی ہی اللہ ہیں ، یا اللہ كے بیٹے ہیں ،یا تینوں میں تیسرا ہیں ، اللہ ان كی باتوں سے بہت ہی بلندی پر ہے ۔ تیسری حالت:


وه واقعات نہ قرآن كی موافقت میں ہوں او ر نہ ہی مخالفت میں ایسی حالت میں ہم نہ تو ان كی تصدیق كریں گے اورنہ ہی تكذیب، كیونكہ اللہ كے نبیA كا فرمان ہے : إِذَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَلا تُصَدِّقُوهُمْ وَلا تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا: آمَنَّا بِاللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ، فَإِنْ كَانَ حَقًّا لَمْ تُكَذِّبُوهُمْ، وَإِنْ كَانَ بَاطِلا لَمْ تُصَدِّقُوهُمْ» ”جو بات تم سے اہل كتاب بیان كریں تو تم لوگ نہ تو ان كی تصدیق كرو اور نہ تكذیب ، بلكہ كہو:ہم اللہ پر ، اس كی كتابوں پر ، اور اس كے رسولوں پر ایمان لائے ، تو اگر وہ بات حق ہوگی تو تم نے ان كی تكذیب نہیں كی ، اور اگر وہ بات باطل ہوگی تو تم نے ان كی تصدیق نہیں كی

(مسند احمد:17225 واللفظ لہ، ابو داؤد:3644 , امام البانی نے اس حدیث كو ضعیف قرار دیا ہے )
 

ہاں ایك صورت ہے كہ اس كی حكایت بیان كرنا جائز ہے ، كیونكہ بخاری كی ایك روایت میں اللہ كے رسول كا ارشاد ہے : بنی اسرائیل سے بیان كرو ، اور اس میں كوئی حرج نہیں

( بخاری:3461)
 

اور عموما بیشتر اس قبیل سے جس میں كوئی نہ تو فائدہ ہے اور نہ ہی اس كی كوئی ضرورت ہے ۔

چوتھاتقاضا:

قرآنی شریعت كے ساتھ فیصلہقرآن كو نازل فرما كراللہ نے اسے سابقہ كتابوں كا محافظ بنایا ، یعنی اسے حاكم ، امین ، اور گواہ بنایا ، جو جملہ مصالح كو اپنے اندر پروئے ہوئے ہے ، ان كے چند احكام كومنسوخ اور كچھ كو برقرار ركھا ہے ، اور اس پر كچھ اضافہ بھی فرمایا ہے ، چنانچہ شریعت قرآن كے علاوہ كسی اور شریعت كی اتباع حلال نہیں ، جیسا كہ اللہ تعالی نے تورات اور انجیل كے بیان كرنے كے بعد فرمایا : اور ہم نے آپ كی طرف حق كے ساتھ یہ كتاب نازل فرمائی ہے ، جو اپنے اگلی كتابوں كی تصدیق كرنے والی ہے ، اور ان كی محافظ ہے اس لئےآپ ان كے آپس كے معاملات میں اسی اللہ كی اتاری كتاب كے ساتھ حكم كیجئے، اس حق سے ہٹ كر ان كی خواہشوں كے پیچھے نہ جائیے ان میں سے ہر ایك كے لئے ہم نے ایك دستور اور راہ مقرر كردی ہے ، اگر منظور مولی ہوتا تو تم سب كو ایك ہی امت بنا دیتا ، لیكن اس كی چاہت ہے كہ جو تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے ، تم نیكیوں كی طرف جلدی كرو ، تم سب كارجوع اللہ ہی كی طرف ہے، پھر وہ تمہیں ہر وہ چیز بتا دے گا جس میں تم اختلاف كرتے رہتے ہو*آپ ان كےمعاملات میں خدا كی نازل كردہ وحی كے مطابق ہی حكم كیا كیجئے ، ان كی خواہشوں كی تا بع داری نہ كیجئے ، اور ان سے ہشیار رہئے كہ كہیں یہ آپ كو اللہ كے اتارے ہوئے كسی حكم سے ادھر ادھر نہ كریں ، اگر یہ لوگ منہ پھیر لیں تو یقین كریں كہ اللہ كا ارادہ یہی ہے كہ انہیں ان كےبعض گناہوں كی سزا دے ہی ڈالے، اور اكثر لوگ نافرمان ہی ہوتے ہیں * كیا یہ لوگ پھر سے جاہلیت كا فیصلہ چاہتے ہیں ، یقین ركھنے والے لوگوں كے لئے اللہ تعالی سے بہتر فیصلے اورحكم كرنے والا كون ہو سكتا ہے ؟

(المائدة:48-50)
 

اللہ كا ارشاد ہے : (إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّـهُ ۚ وَلَا تَكُن لِّلْخَائِنِينَ خَصِيمًا ) یقینا ہم نے تمہاری طرف حق كے ساتھ اپنی كتاب نازل فرمائی ہے تاكہ تم لوگوں میں اس چیز كے مطابق فیصلہ كرو جس اللہ نے تم كو شناسا كیا ہے ، اور خیانت كرنے والوں كے حمایتی نہ بنو

(النساء:105)
 

پانچواں تقاضا:

كامل قرآن پر ایمان لانا ، نہ كہ اس كےبعض حصے پر اللہ كا ارشاد ہے : (أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَاءُ مَن يَفْعَلُ ذَٰلِكَ مِنكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰ أَشَدِّ الْعَذَابِ ۗ وَمَا اللَّـهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ) كیا تم لوگ بعض احكام پر ایمان ركھتے ہو اور بعض كے ساتھ كفر كرتے ہو ؟ تم میں سے جو بھی ایسا كرے اس كی سزا اس كے سوا كیا ہو كہ دنیا میں رسوائی اور قیامت كے دن سخت عذاب كی مار اور اللہ تعالی تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں

(البقرة:85)
 

اللہ كا ارشاد ہے : (هَا أَنتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلَا يُحِبُّونَكُمْ وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَابِ كُلِّهِ) اگر عقلمند ہو (تو غور كرو) ہاں تم تو انہیں چاہتے ہو اور وہ تم سے محبت نہیں ركھتے ، تم پوری كتاب كو مانتے ہو ، (وہ نہیں مانتے پھر محبت كیسی ؟)

(أل عمران:119)
 

چھٹا تقاضا:اس كا چھپانا ، اس میں تحریف كرنا ، اور اس میں اختلاف كرنا ، اور اللہ كے بعض كلام كو بعض سے لڑانا سب حرام ہے اللہ كا ارشاد ہ: (وَإِذْ أَخَذَ اللَّـهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ ) اور الله تعالی نے جب اہل كتاب سے عہد لیا كہ تم اسے سب لوگوں سے ضرور بیان كرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں ، تو پھر بھی ان لوگوں نے اس عہد كو اپنی پیٹھ پیچھے ڈال دیا اور اسے بہت كم قیمت پر بیچ ڈالا ، ان كا یہ بیو پار بہت برا ہے

(أل عمران:187)
 

اللہ كا ارشاد ہے : (إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۙ أُولَـٰئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّـهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿١٧٤﴾ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ ۚ فَمَا أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ ﴿١٧٥﴾ ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّـهَ نَزَّلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ ۗ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتَابِ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ ﴿١٧٦﴾) بیشك جو لوگ اللہ تعالی كی اتاری ہوئی كتاب چھپاتے ہیں اور اسے تھوڑی تھوڑی سے قیمت پر بیچتے ہیں یقین مانو كہ یہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں ، قیامت كے دن اللہ تعالی ان سے بات بھی نہ كرے گا ، نہ انہیں پاك كرے گا، بلكہ ان كےلئے درد ناك عذاب ہے *یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی كو ہدایت كے بدلے اور عذاب كو مغفرت كے بدلے خرید لیا ہے ، یہ لوگ آگ كا عذاب كتنا برداشت كرنے والے ہیں *ان عذابوں كا باعث یہی ہے كہ اللہ تعالی نے سچی كتاب اتاری اور اس كتاب میں اختلاف كرنے والے یقینا دور كے خلاف میں ہیں

(البقرة:174-176 )
 

اللہ كا ارشاد ہے : (فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَـٰذَا مِنْ عِندِ اللَّـهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا يَكْسِبُونَ) ان لوگ كے لئے (ویل ) ہے جو اپنے ہاتھوں كی لكھی ہوئی كتاب كو اللہ تعالی كی طرف كی كہتے ہیں ، اور اس طرح دنیا كماتے ہیں، ان كے ہاتھوں كی لكھائی كو اور ان كی كمائی كو ویل (ہلاكت)اور افسوس ہے

(البقرة:79)
 

نبی اكرمAنے ایك قوم كو دیكھا جو باہم جھگڑتے ہوئے ایك دوسرے پر الزام تراشیاں كررہےتھے تو آپA نے فرمایا : إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِهَذَا، ضَرَبُوا كِتَابَ اللَّهِ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ، وَإِنَّمَا نَزَلَ كِتَابُ اللَّهِ يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضًا، فَلَا تُكَذِّبُوا بَعْضَهُ بِبَعْضٍ، فَمَا عَلِمْتُمْ مِنْهُ فَقُولُوا، وَمَا جَهِلْتُمْ، فَكِلُوهُ إِلَى عَالِمِهِ» ”تم لوگوں سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاك ہو گئے ، ان لوگوں نے قرآن كے بعض كو بعض سے لڑایا ، حالانكہ قرآن تو اس كا بعض حصہ بعض كی تصدیق كے لئے نازل ہوا ہے ، اس لئے بعض كے ذریعہ بعض كی تكذیب نہ كرو ، تمہیں جتنے كا علم ہو صرف اتنے ہی كے بارے میں گفتگو كرو ، اور جس كا تمہیں علم نہیں اسے اس كے علم والے كے سپرد كردو

(مسند احمد: 6741 ،صحیح)
 

رسولوں پر ایمان لانے كا مطلب وہ پختہ یقین و اعتقاد ركھنا ہے كہ اللہ نے انہیں تمام لوگوں میں سے مردوں كو رسالت و نبوت كے لئے چنا ہے ، ان پر وحی كی ہے ، انہیں بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا كر بھیجا ہے ، اور ایك اللہ كی عبادت بجا لانے كا پیغام اس كی مخلوق تك پوری امانت داری سے پہنچاتے تھے ، اور ان پر رحمت و شفقت كا برتاؤ كرتے ہوئے اور (بروزقیامت) ان پر حجت قائم كرنے كی خاطر انہیں غیر اللہ كی عبادت سے بچاتے رہے ، جیسا كہ اللہ تعالی نے فرمایا : (اللَّـهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ) فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے پیغام پہنچانے والوں كو اللہ ہی چھانٹ لیتا ہے ، بیشك اللہ تعالی سننے والا ،دیكھنے والا ہے

(الحج: 75)
 

ایك مقام پر اللہ نے فرمایا: (وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِمْ ۚ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ) آپ سے پہلے بھی ہم مردوں كو ہی بھیجتے رہے ، جن كی جانب وحی اتارا كرتے تھے پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت كرلو

(النحل: 43)
 

ایك مقام پر اللہ نے فرمایا : (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ) ہم نے ہر امت پر رسول بھیجا كہ (لوگو) صرف اللہ كی عبادت كرو ، اوراس كے سوا تمام معبودوں سے بچو

(النحل: 36)
 

ایك جگہ اللہ نے فرمایا : (رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا) ہم نے انہیں رسول بنایا ہے خوشخبریاں سنانے والے ، اور آگاہ كرنے والے تاكہ لوگوں كی كوئی حجت اور الزام رسولوں كے بھیجنے كے بعد اللہ تعالی پر نہ رہ جائے ، اللہ تعالی بڑا غالب اور بڑا با حكمت ہے “۔

(النساء: 165)
 

1-اس بات پر ایمان كہ رسولوں كا پیغام اللہ ہی كی طرف سے ہے ،

اور یہ محض اس كی مشیئت اور حكمت كے پیش نظر ہے اللہ تعالی نے فرمایا : (وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ ۘ اللَّـهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ) اور جب ان كو كوئی آیت پہنچتی ہے تو یوں كہتے ہیں كہ ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے ، جب تك كہ ہم كو بھی ایسی ہی چیز نہ دی جائے جو اللہ كے رسولوں كو دی جاتی ہے ، اس موقع كو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے كہ كہاں وہ اپنی پیغمبری ركھے

(الأنعام: 124)
 

ایك دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا: ( وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَـٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ ﴿٣١﴾ أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ۚ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا ۗ وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ) اور كہنے لگے یہ قرآن ان دونوں بستیوں میں سے كسی بڑے آدمی پر كیوں نہ نازل كیا گیا*كیا آپ كے رب كی رحمت كو یہ تقسیم كرتے ہیں ، ہم نے ہی ان كی زندگانی دنیا كی روزی ان میں تقسیم كی ہے ،اور ایك كو دوسرے سے بلند كیا ہےتاكہ ایك دوسرے كوماتحت كرلے ، جسے یہ لوگ سمیٹتے پھرتے ہیں ، اس سے آپ كے رب كی رحمت بہت ہی بہتر ہے

(الزخرف: 31-32)
 

نبوت و رسالت محض چلوں اور تپسیاؤں سے حاصل نہیں كی جا سكتی ،جیسا كہ بعض گمراہ صوفیوں كا خیال ہے ، اور ایسے ہی قدسی قوتوں كے اكٹھا ہونے ، گوشہ نشینی اختیار كرنے ، اور مؤثر بن جانے سے رسالت و نبوت حاصل ہو سكتی ہے جیسا كہ فلاسفہ كا گمان ہے ، بلكہ یہ محض انتخاب اور اللہ كا فضل ہے ، اور وہی جسےاپنی مخلوق میں معزز و مكرم سمجھتا ہے اسے اس منصب كے لئے چن لیتا ہے ۔

2-اللہ كے ان تما م رسولوں پر ایمان لاناجن كے نام كا ہمیں صراحتا علم ہے ، اور جن كے نام كا ہمیں پتہ نہیں ان پر ہم اجمالی طور پر ایمان لاتے ہیں

جن كے نام كا ہمیں علم ہے ان میں سے چند وہ ہیں جن كا ذكر ابراہیم علیہ السلام كے بعد اس آیت میں موجود ہے ، جیسا كہ اللہ تعالی نے فرمایا: ( وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ۚ كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَارُونَ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴿٨٤﴾ وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلْيَاسَ ۖ كُلٌّ مِّنَ الصَّالِحِينَ ﴿٨٥﴾ وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا ۚ وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ ﴿٨٦﴾) اور ہم نے ان كو إسحاق دیا اور یعقوب ، ہر ایك كو ہم نے ہدایت كی ، اور پہلے زمانہ میں ہم نے نوح كو ہدایت كی ، اور انكی أولاد میں سے داؤد كو ، اور سلیمان كو ، اور ایوب كو ، اور یوسف كو ، اور موسی كو ، اور ہارون كو ، اور اسی طرح ہم نیك كام كرنے والوں كو جزا دیا كرتے ہیں*اور نیز اسماعیل كو اور یسع كو ، اور یونس كو ، اور لوط كو ،اور ہر ایك كو تمام جہان والوں پر ہم نے فضیلت دی

(الأنعام: 84-86)
 

ایك اور جگہ اللہ نے كچھ اس طرح فرمایا : (وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّن قَبْلِكَ مِنْهُم مَّن قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُم مَّن لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ) یقینا ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چكے ہیں ، جن میں سے بعض كے (واقعات) ہم آپ كو بیان كرچكے ہیں ،اور ان میں سے بعض كے (قصے ) تو ہم نے آپ كو بیان ہی نہیں كئ

(غافر: 78)
 

تمام كے تمام نبیوں و رسولوں پر ایمان لانا واجب ہے كیونكہ ان سب كی ایك ہی دعوت ہے ، جیسا كہ اللہ نے فرمایا : ( شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ ۖ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ) اللہ تعالی نے تمہارے لئے وہی دین مقرر كردیا ہے جس كے قائم كرنے كا اس نے نوح (علیہ السلام) كو حكم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے ، اور جس كا تاكیدی حكم ہم نے ابرہیم اور موسی اور عیسی (علیہم السلام) كو دیا تھا ، اس دین كو قائم ركھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا

(الشورى: 13)
 

دعوت كی یكسانیت كی بناپر نبیوں اور رسولوں میں سے كسی ایك نبی یا رسول كے انكار كرنے سے سب كا انكار لاز م آئے گا ، جیسا كہ اللہ كا یہ فرمان ہ: (كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِينَ) قوم نوح نے اللہ كے بھیجے ہوئے پیغمبروں كی تكذیب ك

(الشعراء: 105)
 

حالانكہ یہ بات سب پر عیاں ہے كہ نوح علیہ السلام تمام رسولوں میں سب سے پہلے تھے اس كے باوجود اس آیت میں سب رسولوں كے جھٹلانے كی بات كہی گئی۔ اور اسی طرح رسولوں كے درمیان تفریق كرنا جائز نہیں ، اور نہ ہی ان میں كچھ پر ایمان لانا ، اور كچھ پر ایمان نہ لانا، اس لئے اگر كسی نے ایسا كیا تو اس نے كفر كیا ، اللہ كا فرمان ہے : (نَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّـهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا ﴿١٥٠﴾ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا ﴿١٥١﴾ وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّـهِ وَرُسُلِهِ وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ أُولَـٰئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَهُمْ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴿١٥٢﴾) جو لوگ اللہ كے ساتھ اور اس كے پیغمبروں كے ساتھ كفر كرتے ہیں ،اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں كہ اللہ اور اس كے رسولوں كےدرمیان فرق ركھیں ، اور جو لوگ كہتے ہیں كہ بعض نبیوں پر تو ہمارا ایمان ہے ،اور بعض پر نہیں ، اور چاہتے ہیں كہ اس كے او راس كے بین بین كوئی راہ نكالیں *یقین مانو كہ یہ سب لوگ اصلی كافر ہیں ، اور كافروں كے لئے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار كرركھی ہے *اور جو لوگ اللہ پر اور اس كے تمام پیغمبروں پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں سے كسی میں فرق نہیں كرتے یہ ہیں جنہیں اللہ ان كو پورا ثواب دے گا ، اور اللہ بڑی مغفرت والا ، بڑی رحمت والا ہے

(النساء: 150-152)
 

3-رسولوں كی تصدیق كرنا اور اللہ كے متعلق فراہم كردہ ان كے جملہ معلومات كو قبول كرنا۔

اللہ تعالی نے فرمایا: (يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِن رَّبِّكُمْ فَآمِنُوا خَيْرًا لَّكُمْ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَكِيمًا) اے لوگو!تمہارے پاس تمہارے رب كی طرف سے حق لے كر رسول آ گیا ہے ، پس تم ایمان لاؤ تاكہ تمہارے لئے بہتری ہو اور اگر تم كافر ہوگئے تو اللہ ہی كی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے ، اور اللہ دانا اور حكمت والا ہے

(النساء: 170)
 

اور الله تعالی نے دوسرے مقام پر یوں فرمایا: (وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ ۙ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ) اور جو سچے دین كو لائے ، اور جس نے اس كی تصدیق كی ، یہی لوگ پارسا ہیں “۔

(الزمر : 33)
 
2 مسلم سے متعلق، 8.

اور الله تعالی نے دوسرے مقام پر فرمایا: (وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ ﴿١﴾ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ ﴿٢﴾ وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾ عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ﴿٥﴾) قسم ہے ستارے كی جب وہ گرے*كہ تمہارے ساتھی نے نہ راہ گم كی ہے اور نہ وہ ٹیڑھی راہ پر ہے*اور نہ وہ اپنی خواہش سے كوئی بات كہتے ہیں *وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے ،*اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سكھایا ہے

(النجم : 1-5)
 

گذرے ہوئے انبیاء كرام كی وہ تمام صحیح خبریں جسے اللہ نے اپنی كتاب میں ثابت كیا ہے یا نبی اكرمa كی صحیح حدیثوں سے ثابت ہے اس كی تصدیق كرنا واجب ہے۔

اور رہی بات جن انبیاء كرام كا تذكرہ اسرائیلی روایات میں ہے تو اس كے متعلق وہی رائے قائم كی جائے گی جس كی تفصیلات كتابوں پر ایمان كے بحث میں گذر چكی ہے ،اور ان روایتوں كے تعلق سے جو ہمارے نبی aسے مرفوعا بیان كی جاتیں ہیں اس میں محدثین كے اصول و قواعد كی روشنی میں فیصلہ لیا جائے گا ، تاكہ ضعیف روایتوں كے مقابلے میں صحیح روایتوں كی معرفت تك رسائی ہو سكے ، اس تحقیق كے بعد جو روایت درجہ صحیح تك پہنچے اسے قبول كرتے ہوئے اس پر ایمان لانا واجب ہے۔

4-رسولوں كی اطاعت ، ان كی اتباع اور انہیں اپنا فیصل تسلیم كرنا۔

اللہ تعالی نے فرمایا: (وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّـهِ) ہم نے ہر ایك رسول كو صرف اسی لئے بھیجا كہ اللہ تعالی كے حكم سے اس كی فرمانبرداری كی جائے “۔

(النساء: 64)
 

امت كے ہر فرد پر یہ واجب ہے كہ وہ اپنی قوم میں بھیجے گئے نبی كی اطاعت اور اتباع كرے ، اور آخری نبی و خاتم النبیین محمد (صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین) ہیں ، آپ كی اتاری گئی شریعت سابقہ تمام شریعتوں كے لئے ناسخ ہے ، اور آپ كی اطاعت و اتباع آپ كے بارے میں سننے والے ہر فرد پر واجب ہے جيسا كہ اللہ تعالی نے فرمایا: (الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿١٥٧﴾ قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّـهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ﴿١٥٨﴾ ) جو لوگ ایسے رسول نبی امی كا اتباع كرتے ہیں جن كو وہ لوگ اپنے پاس تورات و انجیل میں لكھا ہوا پاتے ہیں ، وہ ان كو نیك باتوں كا حكم فرماتے ہیں ، اور بری باتوں سے منع كرتے ہیں ،اور پاكیزہ چیزوں كو حلال بتاتے ہیں ،اور گندی چیزوں كو ان پر حرام فرماتے ہیں ، اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے ان كو دور كرتے ہیں ، سو جو لوگ اس نبی پر ایمان لاتے ہیں ،اور ان كی حمایت كرتے ہیں اور ان كی مدد كرتے ہیں ،اور اس نور كا اتباع كرتےہیں جو ان كے ساتھ بھیجا گیا ہے ، ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں*آپ كہہ دیجئے كہ اے لوگو! میں تم سب كی طرف اس اللہ تعالی كا بھیجا ہوا ہوں جس كی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے ،اس كے سوا كوئی عبادت كے لائق نہیں ، وہی زندگی دیتا ہے ، اور وہی موت دیتا ہے ، سو اللہ تعالی پر ایمان لاؤ ، اور اس كے نبی امی پر جو كہ اللہ تعالی پر اور اس كے احكام پر ایمان ركھتے ہیں ،اور ان كا اتباع كرو تاكہ تم راہ پر آجاؤ

(الأعراف: 157-158)
 

ایك اور مقام پر اللہ نے فرمایا (قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿٣١﴾ قُلْ أَطِيعُوا اللَّـهَ وَالرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ ﴿٣٢﴾) كہہ دیجئے اگر تم اللہ تعالی سے محبت ركھتے ہو تو میری تابعداری كرو ، خود اللہ تعالی تم سے محبت كرے گا ،اور تمہارے گنا ہ معاف فرما دے گا ، اور اللہ تعالی بڑابخشنے والا مہربان ہے *كہہ دیجئے كہ اللہ تعالی اور رسول كی اطاعت كرو ، اگر یہ منہ پھیر لیں تو بیشك اللہ تعالی كافروں سے محبت نہیں كرتا

(أل عمران: 31-32)
 

ایك اور مقام پر اللہ نے فرمایا (فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا) سو قسم ہے تیرے پرور دگار كی ، یہ مؤمن نہیں ہو سكتے جب تك كہ تمام آپس كے اختلاف میں آپ كو حاكم نہ مان لیں ، پھر جو فیصلے آپ ان میں كردیں ان سے اپنے دل میں كسی طرح كی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں، اور فرمانبرداری كے ساتھ قبول كرلیں

(النساء: 65)
 

5-رسولوں سےدوستی، ان سے محبت اور ان كی توقیر اور ان كے لئے دعائے سلامتی

اللہ تعالی نے فرمایا: (إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ ﴿٥٥﴾ وَمَن يَتَوَلَّ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللَّـهِ هُمُ الْغَالِبُونَ ﴿٥٦﴾) (مسلمانو) تمہارا دوست خود اللہ ہے ، اور اس كا رسول ہے ، اور ایمان والے ہیں ، جو نمازوں كی پابندی كرتےہیں ، اور زكوۃ ادا كرتے ہیں ، اور وہ ركوع(خشوع و خضوع) كرنے والے ہیں *اور جو شخص اللہ تعالی سے اور اس كے رسول سے اور مسلمانوں سے دوستی كرے ،وہ یقین مانے كہ اللہ تعالی كی جماعت ہی غالب رہے گی

(المائدۃ: 55-56)
 

دوسری جگہ اللہ نے فرمایا ( فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّـهِ ۖ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّـهِ آمَنَّا بِاللَّـهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ) مگر جب حضرت عیسی (علیہ السلام) نے ان كا كفر محسوس كرلیا تو كہنے لگے ، اللہ تعالی كی راہ میں میری مدد كرنے والا كون كون ہے؟حواریوں نے جواب دیا كہ ہم اللہ تعالی كی راہ كے مددگار ہیں ،ہم اللہ تعالی پر ایمان لائے ، اور آپ گواہ رہئے كہ ہم تابع دار ہی

(أل عمران:52)
 

الله تعالی نے فرمایا: (قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّـهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ) آپ كہہ دیجئے ، كہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑكے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے كمبے قبیلے اور تمہارے كمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس كی كمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند كرتے ہو ،اگر یہ تمہیں اللہ سے اوراس كے رسول سے اور اس كی راہ میں جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں تو تم انتظار كرو كہ اللہ تعالی اپنا عذاب لے آئے ، اللہ تعالی فاسقوں كو ہدایت نہیں دیتا

(التوبة:24)
 

الله تعالی نے فرمایا: (وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ ) اور پیغمبروں پر سلام ہے

(الصافات:181)
 

اور اپنے نبی a كے متعلق اللہ نے اس طرح فرمایا : (لِّتُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلً) تاكہ (اے مسلمانوں)تم اللہ اور اس كے رسول پر ایمان لاؤ اور اس كی مدد كرو، اور اس كا ادب كرو ، اور اللہ كی پاكی بیان كرو صبح و شام

(الفتح: 9)
 

الله تعالی نے فرمایا (إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا) اللہ تعالی اور اس كے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں ، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو، اور خوب سلام (بھی ) بھیجتے رہا كرو

(الأحزاب:56)
 

نبی اكرم a نے فرمایا : لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» ” تم میں سے كوئی شخص اس وقت تك مومن نہیں ہو سكتا جب تك كہ میں اس كے نزدیك اس كے والد اور اس كی اولاد اور دنیا كے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں

(صحیح البخاری:15 ،صحیح مسلم:44)
 



یوم آخرت پر ایمان كا مطلب ہے ایسا پختہ اعتقاد ركھناكہ اللہ تعالی بندوں كو اس دن تك مہلت میں ركھے گا جس دن انہیں ان كی قبروں سے دوبارہ اٹھائے گا ، اور ان كے اعمال كا محاسبہ كرے گا ، اور ان كے كئے ہوئے اعمال پر یا تو انہیں جنت میں داخل كرےگا یا پھر انہیں جہنم رسید كردےگا۔اللہ تعالی كا ارشاد ہے : ( إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ) اس دن تك مہلت دئیے ہوئے ہیں جس دن آنكھیں پھٹی كی پھٹی رہ جائیں گیں “

(إبراهيم:42)
 

الله نے فرمایا : ( زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا ۚ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۚ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ) ان كافروں نے خیال كیاہے كہ دوبارہ زندہ نہ كئے جائیں گے ، آپ كہہ دیجئے كہ كیوں نہیں ، اللہ كی قسم ! تم ضرور دوبارہ اٹھائے جاؤ گے ، پھر جو تم نے كیا ہے اس كی خبر دئیے جاؤ گے ، اور اللہ پر یہ بالكل ہی آسان ہے

(التغابن : 7)
 

ایك مقام پر اللہ نے فرمایا : ( وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ ﴿١٤﴾ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَهُمْ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ ﴿١٥﴾ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَلِقَاءِ الْآخِرَةِ فَأُولَـٰئِكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُونَ ﴿١٦﴾) اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن (جماعتیں) الگ الگ ہو جائیں گی *جو ایمان لاكر نیك اعمال كرتے رہے ، وہ تو جنت میں خوش و خرم كردئیے جائیں گے *اور جنہوں نے كفر كیا تھا اور ہماری آیتوں كو اور آخرتك كی ملاقات كو جھوٹا ٹھہرایا تھا وہ سب عذاب میں پكڑ كر حاضر ركھے جائیں گے

(الروم: 14-16)
 

یوم آخرت پر ایمان كوجو چیزیں شامل ہیں ان كی تفصیلات درج ذیل سطور میں ملاحظہ فرمائیں

1-موت كے بعد رونما ہونے والی چیزوں پر ایمان

حالت نزاع میں فرشتوں كو دیكھنا ، میت سے اس كے رب ، دین ، اور نبی كے متعلق دو فرشتوں كے سوال كے نتیجے میں حاصل ہونے والا فتنہ قبر ، اور برزخی زندگی میں ملنے والے عذاب اور اس كی نعمت پر ایمان لانا ، جیسا كہ اللہ تعالی نے فرمایا : (وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا ۙ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ) كاش كہ تو دیكھتا جب كہ فرشتے كافروں كی روح قبض كرتے ہیں ، اور ان كے منہ پر اور سرینوں پر مار مارتے ہیں (اور كہتے ہیں) تم جلنے كا عذاب چكھو

(الأنفال : 50)
 

ایك مقام پر اللہ نے فرمایا: (إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ) (واقعی) جن لوگوں نے كہا كہ ہمارا پروردگار اللہ ہے ، پھر اسی پر قائم رہے ، ان كے پاس فرشتے آتے ہیں كہ تم كچھ بھی اندیشہ اور غم نہ كرو ،اس جنت كی بشارت سن لو جس كاتم وعدہ دیئے گئے ہو “۔

(فصلت: 30)
 

اور اللہ تعالی كا ارشاد ہے : ( وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ ﴿٤٥﴾ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا ۖ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ ﴿٤٦﴾) اور فرعون والوں پر بری طرح كا عذاب الٹ پڑا *آگ ہے جس كے سامنے یہ ہر صبح شام لائے جاتے ہیں ، اور جس دن قیامت قائم ہوگی (فرمان ہوگا كہ) فرعونیوں كو سخت ترین عذاب میں ڈالو

(غافر: 45-46)
 

انس بن مالك bسے مروی ہے فرماتے ہیں كہ اللہ كے نبی a نے فرمایا: إِنَّ العَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ،وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ، فَيَقُولاَنِ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَأَمَّا المُؤْمِنُ، فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الجَنَّةِ، فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا , وَأَمَّا المُنَافِقُ وَالكَافِرُ فَيُقَالُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: لاَ أَدْرِي, كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَيُقَالُ: لاَ دَرَيْتَ وَلاَ تَلَيْتَ، وَيُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِآدمی جب اپنی قبر میں ركھا جاتا ہے اوراس كے ساتھی اس سے رخصت ہو جاتے ہیں ، _اور وہ ان كے جوتے كی آواز سنتا رہتا ہے _ اتنے میں اس كے پاس دو فرشتے آتے ہیں ، وہ اسے اٹھا كر بٹھا دیتے ہیں اور اس سے یہ پوچھتے ہیں :اس شخص یعنی محمد كے بارے میں تو كیا اعتقاد ركھتا تھا ؟مومن تو اس كے جواب میں یہ كہے گا كہ میں گواہی دیتا ہوں كہ وہ اللہ كے بندے اور اس كی رسول ہیں ، تو اس سے كہا جائے گا كہ تم جہنم كا اپنا ٹھكانا دیكھو ، لیكن اللہ نے اس كے بدلے تمہارے لئے جنت میں ٹھكانا بنا دیا ہے، اس وقت اسے جنت و جہنم دونوں ٹھكانے دكھائے جائیں گے،اور رہی بات منافق و كافر كی تو ان دونوں سے پوچھا جائے گا: اس شخص كے بارے میں تم سب كیا كہتے تھے ؟ تو یہ لوگ كہیں گے مجھے پتہ نہیں ، ہم تو اس شخص كے متعلق یہی كہتے تھے جو لوگ كہتے تھے ، تو ان سے كہا جائے گا كہ نہ تو تونے سمجھا اور نہ ہی سمجھنے والوں كی اتباع كی ، پھر اسے لوہے كے ہتھوڑے سے ایك ضرب لگائی جائے گی ، پھر وہ اتنی زور سے چیچے گا كہ انس و جن كے سوا اس كے قریب كی ساری چیزیں اس كی چیخ سن لیں گی

(“۔(صحیح البخاری:1374 ،صحیح مسلم287
 
2 مسلم سے متعلق، 8

عبد اللہ بن عباس dسے مروی ہے فرماتے ہیں كہ نبی اكرم a كا گذر دو قبروں سے ہوا تو آپ a نے فرمایا : إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ البَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ» ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً، فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ: «لَعَلَّهُ يُخَفِّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا » ”بے شك ان دونوں كو عذاب دیا جارہا ہے ، اور كسی بڑی چیز كی وجہ سے انہیں عذاب نہیں دیا جا رہا ہے ، رہی بات ان میں ایك شخص كی تو وہ پیشاب (كی چھیٹوں ) سے نہیں بچتا تھا ، اور دوسرا شخص چغل خوری كرتا تھا“، پھر آپ نے ایك ہری ٹہنی لی اور اسے دو ٹكڑوں میں پھاڑ دیا ، اور ان دونوں قبروں پر ایك ایك گاڑ دیا ، صحابہ كرام نے عرض كیا :اے اللہ كے رسول ! آپ نے ایسا كیوں كیا ؟ تو آپ نے فرمایا: ” امید ہے كہ اس كے خشك ہونے تك ان كے عذاب میں تخفیف كردی جائے “۔(صحیح البخاری

(صحیح البخاری:218،صحیح مسلم:292)
 

2-قیامت اور اس كی نشانیوں پر ایمان

اللہ كا ارشاد ہے : ( اللَّـهُ الَّذِي أَنزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانَ ۗ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ ﴿١٧﴾ يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ ۗ أَلَا إِنَّ الَّذِينَ يُمَارُونَ فِي السَّاعَةِ لَفِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ ﴿١٨﴾) اللہ تعالی نے حق كے ساتھ كتاب نازل فرمائی ہے ، اور ترازو بھی (اتاری ہے)اور آپ كو كیا خبر شاید قیامت قریب ہی ہو *اس كی جلدی انہیں پڑی ہے جو اسے نہیں مانتے ، اور جو اس پر یقین ركھتے ہیں وہ تو اس سے ڈر رہے ہیں ، انہیں اس كے حق ہونے كا پورا علم ہے ، یاد ركھو جو لوگ قیامت كے معاملہ میں لڑ جھگڑ رہے ہیں وہ دور كی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں

(الشورى: 17-18)
 

اور ایك دوسری جگہ اللہ نے فرمایا : ( فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ ) تو كیا یہ قیامت كا انتظار كررہے ہیں كہ وہ ان كے پاس اچانك آجائے ، یقینا تو اس كی علامتیں آچكی ہیں پھر جب كہ ان كے پاس قیامت آجائے انہیں نصیحت كرنا كہاں ہوگا

(محمد: 18)
 

قیامت كی بعض بڑی نشانیاں وہ ہیں جسے اللہ كے رسول a كی حدیث بیان كر رہی ہے : إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ -فَذَكَرَ-الدُّخَانَ، وَالدَّجَّالَ، وَالدَّابَّةَ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَنُزُولَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَأَجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَثَلاثَةَ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ،تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ» ” قیامت اس وقت تك قائم نہ ہوگی جب تك كہ اس كے وقوع سے پہلے دس نشانیاں دیكھ لیں، -اور وہ یہ ہیں –دھواں ، دجال، چوپایا ، مغرب سے سورج كا طلوع ہونا ، عیسی بن مریم كا نزول ، یاجوج و ماجوج كا خروج، اور تین مقام یعنی مشرق میں ، مغرب میں ، اور جزیرہ عرب میں زمین كا دھنسنااور اس كی آخری نشانی ہے یمن سے ایسی آگ نكلے گی جو لوگوں (كفار)كو كھدیڑتے ہوئے ان كے مجمع تك لے جائے گی

(صحیح مسلم:2901 )
 

قیامت انتہائی تیزی سے اور اچانك واقع ہو گی ، جیسا كہ اللہ كا ارشاد ہے : ( يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي ۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ۚ ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً ۗ يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّـهِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ) یہ لوگ آپ سے قیامت كے متعلق سوال كرتے ہیں كہ اس كا وقوع كب ہوگا ، آپ فرما دیجئے كہ اس كا علم صرف میرے رب ہی كے پاس ہے ، اس كے وقت پر اس كو سوااللہ كےكوئ اور ظاہر نہ كرےگا ، وہ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا ، وہ تم پر محض اچانك آپڑے گی ، وہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس كی تحقیقات كرچكے ہیں ، آپ فرما دیجئے كہ اس كا علم خاص اللہ ہی كے پاس ہے ، لیكن اكثر لوگ نہیں جانتے “

(الأعراف : 187)
 
2 مسلم سے متعلق، 8

ایك دوسر ی جگہ اللہ نے یوں فرمایا : (وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ ۚ) اور قیامت كا امرتو ایسا ہی ہے جیسا كہ آنكھ كا جھپكنا ، بلكہ اس سے بھی زیادہ قریب ، بیشك اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے “۔ اور قیامت كا وقوع بے ہوشی والے نفخہ صور سے ہوگا ، جیسا كہ الله كا ارشاد

(النحل : 77)
 

(وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّـهُ) اور صور پھونك دیا جائے گا ، پس آسمانوں اور زمین والے سب بے ہوش ہو كر گر پڑیں گےمگر جسے اللہ چاہے“۔

(الزمر: 68)
 

3-بعث بعد الموت(موت كے بعد دوبارہ اٹھائے جانے) پر ایمان

بعث كا مطلب ہے اللہ تعالی كا تمام بندوں كو ان كی قبر سے ننگے پاؤں ، ننگے بدن ، بلا ختنہ كئے ہوئے ، بے سروسامانی كے عالم میں زندہ نكالنا ،اور یہ كیفیت دوسری بار صور پھونكنے كے بعد واقع ہوگی ، اللہ كا ارشاد ہے : (وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَإِذَا هُم مِّنَ الْأَجْدَاثِ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يَنسِلُونَ) پھر دوبارہ صور پھونكا جائے گا ، پس وہ كھڑے ہوكر دیكھنے لگ جائیں گے “۔

(يس: 51)
 

نبی اكرم a نے فرمایا: يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلا » ”بروز قيامت لوگ ننگے پاؤں اور ننگے بدن ، اور بلاختنہ كے جمع كئے جائیں گے

(صحیح البخاری:3349،صحیح مسلم:2860)
 

4-قیامت كبری كے احوال پر ایمان

اللہ تعالی نے فرمایا : (يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ) جس دن سب لوگ رب العالمین كے سامنے كھڑے ہوں گے“۔

(المطففین: 6)
 

قیامت كے احوال یہ ہیں كہ لوگ رب العالمین كے لئے میدان قیامت میں دیر تك كھڑے رہیں گے ،اور ایك ندا دینے والا انہیں سنائے گا ، اور ایك دیكھنے والا سبھی كو دیكھے گا،سورج ان سے قریب آ جائے گا ، پسینے منہ تك آجائیں گے ، حوض لایا جائے گا ، نامہ اعمال پھیلا دئیے جائیں گے ، میزان قائم كیا جائے گا ، پل صراط نصب كردیا جائے گا ، بہت بڑے میدان میں ہوں گے ، ہولناك حالات ہوں گے ۔

5- قیامت كے دن كے حساب پر ایمان

اللہ كا ارشاد ہے : (إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ ﴿٢٥﴾ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم ﴿٢٦﴾) بیشك ہماری طرف ان كا لوٹنا ہے *پھر بیشك ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا

(الأعلى: 25-26)
 

ایك دوسری جگہ اللہ نے فرمایا : ( فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ﴿٧﴾ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ﴿٨﴾) تو (اس وقت) جس شخص كے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا *تو اس كا حساب بڑی آسانی سے لیا جائے گا

(الانشقاق: 7-8)
 

الله كا ارشاد ہے : (فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ﴿٧﴾ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ﴿٨﴾) ”پس جس نے ذرہ برابر نیكی كی ہوگی وہ اسے دیكھ لے گا *اور جس نے ذرہ برابر برائی كی ہوگی وہ اسے دیكھ لے گا

(الزلزلة: 7-8)
 

اللہ كا ارشاد ہے : (وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ) قيامت كے دن ہم درمیان میں لا ركھیں گے ٹھيك ٹھیك تولنے والی ترازو كو ، پھر كسی پر كچھ بھی ظلم نہ كیا جائے گا ، اور اگر ایك رائی كے دانے كے برابر بھی عمل ہوگا ہم اسے لا حاضر كریں گے ، اور ہم كافی ہیں حساب كرنےوال

(الأنبياء: 47)
 

اورمخلوق كے حساب كی دو قسمیں ہیں

1-اہل ایمان كا حساب

اہل ایمان كا حساب یاتو پیشی كی صورت میں ہوگی یا پھر سختی سے پوچھ تاچھ كی ، البتہ پیشی كا حساب تو ان خوش نصیبوں كا ہوگا جن كے نیك اعمال اللہ كے لئے پہلے ہو چكے ہوں گے ، اور اسی بات كی وضاحت عبد اللہ بن عمر dكی حدیث میں ہے كہ نبی اكرم aنے فرمایا : إِنَّ اللَّهَ يُدْنِي المُؤْمِنَ، فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ وَيَسْتُرُهُ، فَيَقُولُ: أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟، أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ أَيْ رَبِّ!، حَتَّى إِذَا قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ، وَرَأَى فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ هَلَكَ، قَالَ: سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ اليَوْمَ، فَيُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ » ”بیشك اللہ بندہ مؤمن كو اپنے قریب كرلے گا، پھر اس پر اپنی رحمت كا پردہ ڈال كر اسے چھپا لے گا ، اور فرمائے گا :كیا تجھے فلاں گنا ہ كا علم ہے ، ؟كیا تجھے فلاں گناہ كی جانكاری ہے“؟وہ كہے گا:ہاں ، اے رب!یہاں تك كہ اللہ اس كے تمام گناہوں كا اقرار كروالے گا، اور وہ دل ہی دل میں یہ خیال كرےگا كہ اب تو ہلاك ہو گیا ، تو اللہ اس سے فرمائے گا:میں نے دنیا میں تمہارے گناہوں پر پردہ پوشی كی ،اور میں اسے آج تمہارے لئے معاف كرتا ہوں ، پھر اللہ اسے اس كا نامہ اعمال اس كے سپرد كردے گا

(صحیح البخاری:2441 ،صحیح مسلم:2768)
 

اور رہی بات سختی سے پوچھ تاچھ والے حساب كا تو وہ گناہ كبیرہ سرزد ہونےوالے موحدین كے بیچ واقع ہوگا ، اللہ ان میں سے جسے چاہے ان كے گناہوں كے پاداش میں دوزخ میں عذاب دے گا ، اور پھر ان كا آخری ٹھكانہ جنت ہوگی ، جیسا كہ عائشہ سے مروی حدیث میں اس كی وضاحت ہے كہ رسول اللہ a نے فرمایا: وضاحت ہے كہ رسول اللہ a نے فرمایا: « لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلا هَلَكَ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: (فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا)

(الانشقاق: 8)
 

فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا ذَلِكِ العَرْضُ، وَلَيْسَ أَحَدٌ يُنَاقَشُ الحِسَابَ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلا عُذِّبَ » ” جس سے بھی قیامت كے دن حساب لیا گیا تو وہ ہلاك ہو گیا ، “ عائشہc فرماتی ہیں كہ میں نے كہا :اے اللہ كے رسول ! كیا اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا”جس كا نامہ اعمال اس كے دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو عنقریب اس سے ایك آسان حساب لیا جائےگا “؟اس كے جواب میں رسول اللہ a نے فرمایا : ”یہ تو صرف پیشی ہوگی ، لیكن جس كے بھی حساب میں قیامت كے دن كھود كرید كی گئی تو اس كو یقینی طور پر عذاب ہوگا

(صحیح البخاری:6537،صحیح مسلم:2867)
 

2-اہل كفر كا حساب

یہ وہ لوگ ہیں كہ نیكی اور بدی كے درمیان موازنہ كا حساب نہیں كیا جائے گا ، كیونكہ حقیقت میں ان كی كوئی نیكی ہی نہیں ہو گی ، جیسا كہ اللہ تعالی كا ارشاد ہے : (وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورًا ) اور انہوں نے جو جو اعمال كئے تھے ہم نے ان كی طرف بڑھ كر انہیں پراگندہ ذروں كی طرح كردیا “

(الفرقان: 23)
 

بلكہ كفار كو ان كے كئے ہوئے اعمال سے باخبر كیا جائےگا ، اوروہ اس كا اعترف بھی كریں گے ، جیسا كہ عبداللہ بن عمرd كی سابقہ روایت میں ہے : وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ، فَيُنَادَى بِهِمْ عَلَى رُءُوسِ الْخَلائِقِ :+ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ " [هود: 18] » ”اور رہی بات كفار و منافقین كی تو انہیں ساری مخلوقات كے سامنے پكارا جائے گا ، ” یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا ، خبردار رہو كہ اللہ كی لعنت ہے ظالموں پ

(صحیح البخاری:2241 ،صحیح مسلم:2768)
 

6-جزا و سزا پر ایمان

جزا و سزا پر ایمان كا مطلب یہ ہے كہ جنت و دوزخ برحق ہے ، اور جنت ٹھكانا ہے جسے اللہ نے اپنے متقی بندوں كے لئے بدلہ كے طور پر تیار كیا ہے ، جس میں طرح طرح كی حسی اور معنوی دونوں نعمتیں ہیں ، جسے نہ كسی آنكھ نے اب تك دیكھا ہے ، اورنہ ہی كسی كان نے سنا ہے ، اور نہ ہی كسی انسان كے دل میں اس كا خیال آیا ہے ۔ اور ایسے ہی جہنم كافروں كے بدلے كے لئے ان كا ٹھكانا اللہ نے بنایا ہے ، جس میں

طرح طرح كے حسی و معنوی عذاب ہیں ، جیسا كہ اللہ كا ارشاد ہے : (ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ ﴿٣٢﴾ جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا ۖ وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ ﴿٣٣﴾ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ۖ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ ﴿٣٤﴾ الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِن فَضْلِهِ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ ﴿٣٥﴾ وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ ﴿٣٦﴾ وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ ۚ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ ۖ فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِن نَّصِيرٍ ﴿٣٧﴾ )

(فاطر: 32-37)
 

پھر ہم نے ان لوگوں كو (اس ) كتاب كا وارث بنایا جن كو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا ، پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ظلم كرنے والے ہیں او ر بعضے ان میں متوسط درجہ كے ہیں ،اور بعضے ان میں اللہ كی توفیق سے نیكیوں میں ترقی كئے چلے جاتے ہیں ، یہ بڑا فضل ہے*وہ باغات میں ہمیشہ رہنے كے جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے سونے كے كنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور پوشاك ان كی وہاں ریشم كی ہوگی * اور كہیں گے كہ اللہ كا لاكھ لاكھ شكر ہے جس نے ہم سے غم دور كیا ، بیشك ہمارا پروردگار بڑا بخشنے والا بڑا قدر دان ہے *جس نے ہم كو اپنے فضل سے ہمیشہ رہنے كے مقام میں لا اتارا ، جہاں نہ ہم كو كوئی تكلیف پہنچے گی اور نہ ہم كو كوئی خستگی پہنچے گی *اور جو لوگ كافر ہیں ان كے لئے دوزخ كی آگ ہے ، نہ تو ان كی قضا ہی آئے گی كہ مرہی جائیں اور دوزخ كا عذاب ہی ان سے ہلكا كیا جائے گا ، ہم ہر كافر كو ایسی ہی سزا دیتے ہیں*اور وہ لوگ اس میں چلائیں گے كہ اے ہمارے پروردگار! ہم كو نكال لے ، ہم اچھے كام كریں گے برخلاف ان كاموں كے جو ہم كیا كرتے تھے (اللہ كہے گا)كیا ہم نے تم كو اتنی عمر نہ دی تھی كہ جس كو سمجھنا ہوتا وہ سمجھ سكتا ، اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنچا تھا سو مزا چكھو كہ (ایسے ) ظالموں كا كوئی مددگار نہیں

تقدیر پر ایمان ایسے ٹھوس عقیدے كو كہتے ہیں كہ اللہ تعالی نے اپنے علم ازلی سے خلائق كی تقدیروں كو مقدر كیا ہے ، اور اسے لوح محفوظ میں لكھا ہے ، اور اپنی مشیئت سے اسے جاری كیا ہے ، اور اپنی قدرت سے اسے وجود بخشا ہے ، اللہ تعالی كا ارشاد ہے ( إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ) بيشك ہم نے ہر چیز كو ایك (مقررہ) اندازے پر پیدا كیا ہے

(القمر: 49)
 

ایك اور جگہ اللہ نے فرمایا (وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا) ”اور ہر چیز كو اس نے پیدا كركے ایك مناسب اندازہ ٹھہرا دیا ہے “۔

(الفرقان: 2)
 

اور تقدیر پرایمان میں جو چیزیں شامل ہیں ان كی تفصیل درج ذیل سطور میں ملاحظہ فرمائیں

1-اللہ كے علم پرایمان

الله كى علم پر ایمان لانے كامطلب یہ ہے كہ وہ علم ازلی ، ابدی اور ہر چیز كو كلی اور تفصیلی طور پر شامل ہے ، چاہے اس كا تعلق اللہ كے افعال سے یعنی بندوں كی عمریں اور ان كی روزیاں مقدر كرنے سے ہو یا پھر وہ بندوں كے افعال سے یعنی ان كی اطاعت اور معصیت سے جڑا ہو، جیسا كہ اللہ نے فرمایا : (وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ) ”اور وہ ہر چیز كو جانتا ہے

(البقرۃ: 29)
 

ایك دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا : (ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ) یہ ٹھہرائی بات ہے ایسی ذات كی جو كہ قادر ہے“۔

(الأنعام: 96)
 

بلا شك الله تعالی كو علم ہے كہ كون اس كی اطاعت اور كون اس كی نافرمانی كرے گا ، ایسے ہی جیسے اسے معلوم ہے كہ كون زیادہ عمرسے نوازا جائے گا اور كس كی عمر میں كمی كی جائےگی۔

2- اللہ كے لوح محفوظ میں تقدیر لكھنے پر ایمان ركھنا

اللہ كا ارشاد ہے ( مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَا ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ) ”نہ كوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ (خاص) تمہاری جانوں میں مگر اس سے پہلے كہ ہم اس كو پیدا كریں وہ ایك خاص كتاب میں لكھی ہوئی ہے ، یہ (كام ) اللہ تعالی پر بالكل آسان ہے

(الحديد: 22)
 

اور دوسری جگہ اللہ نے فرمایا : (الِمِ الْغَيْبِ ۖ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَلَا أَصْغَرُ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرُ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ) جو عالم الغیب ہے كہ وہ (قیامت) یقینا تم پے آئے گی ، اللہ تعالی سے ایك ذرہ كے برابر كی چیز بھی پوشیدہ نہیں ، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں ، بلكہ اس سے بھی چھوٹی اور بڑی ہر چیز كھلی كتاب میں موجود ہے

(سبأ: 3)
 

عبد اللہ بن عمرو بن العاص d سے مروی ہے فرماتےہیں كہ میں نے رسول اللہ a كو فرماتے ہوئے سناہے: كَتَبَ اللهُ مَقَادِيرَ الْخَلائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، قَالَ: وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ » ” الله تعالی نے زمین وآسمان كی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے خلائق كی تقدیروں كو ( لوح محفوظ میں) لكھا ، اور فرمایا :اللہ كا عرش پانی پر ہے

(۔(صحیح مسلم:2653
 

اور ایك دوسری روایت جو عبادہ بن صامت bسے مروی ہے فرماتے ہیں كہ میں نے رسول اللہ a كو فرماتے ہوئے سنا : إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمَ، فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ قَالَ: رَبِّ وَمَاذَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبْ مَقَادِيرَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ » ”اللہ نے سب سے پہلے قلم پیدا كیا ، پھر اس سے كہا :لكھ، تو اس نے كہا:اے رب!كیا چیز لكھوں ؟فرمایا:قیامت تك ہونے والے ہر چیز كی تقدیریں لكھ دو

(أبو داؤد:4700 واللفظ لہ،ترمذي:2155 , صحيح)
 

اللہ نے علم اور لوح محفوظ میں تقدیر رقم كرنے كو اپنے اس آیت میں بیان فرمایا : (أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۗ إِنَّ ذَٰلِكَ فِي كِتَابٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ) كیا آپ نے نہیں جانا كہ آسمانوں زمین كی ہر چیز اللہ كے علم میں ہے ، یہ سب لكھی ہوئی كتاب میں محفوظ ہے ، اللہ تعالی پر تو یہ امر بالكل آسان ہے “۔

(الحج: 70)
 

3-اللہ كی نافذ ہونے والی مشیئت پر ایمان

اللہ نے جو چاہا وہی ہوا ، جو نہیں چاہا وہ نہیں ہوا ، جو وہ نوازے اسے كوئی روكنے والا نہیں ، اور جو وہ روك لے اسے كوئی نوازنےوالا نہیں ، اس كے فیصلے كو كوئی ٹالنے والا نہیں ، اس كی بادشاہت میں وہ ہو ہی نہیں سكتا جو اس كی چاہت كے خلاف ہو ، جسے چاہتا اپنے فضل وكرم سے ہدایت كی دولت سے مالا مال كردیتا ہے ، اور جسے چاہتا ہے اپنے عدل سے گمراہ كردیتا ہے ، اور اس كے فیصلے كو كوئی الٹنے والا نہیں ۔

الله كا ارشاد ہے : (وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِينَ مِن بَعْدِهِم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَلَـٰكِنِ اخْتَلَفُوا فَمِنْهُم مَّنْ آمَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ) ”اگر اللہ تعالی چاہتا تو ان كے بعد والے اپنے پاس دلیلیں آ جانے كے بعد ہرگز آپس میں لڑائی بھڑائی نہ كرتے ، لیكن ان لوگوں نے اختلاف كیا ، ان میں سے بعض تو مؤمن ہوئے اور بعض كافر , اور اگر اللہ تعالی چاہتا تو یہ آپس میں نہ لڑتے ، لیكن اللہ تعالی جو چاہتا ہے كرتا ہے “۔

(البقرة : 253)
 

الله كا ارشاد ہے : (لِمَن شَاءَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ ﴿٢٨﴾ وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ﴿٢٩﴾) بالخصوص اس كے لئے جو تم میں سے سیدھی راہ پر چلنا چاہے *اور تم بغیر پروردگار عالم كے چاہے كچھ نہیں چاہ سكتے “۔

(التكوير: 28-29)
 
2 مسلم سے متعلق، 8. uploads/1544772231messenger5.jpg

4- اللہ كے پوری كائنات كے خالق و موجد ہونے پرایمان لانا

یاد رہےكہ اللہ خالق ہے اور اس كے سوا جو بھی ہیں سب كے سب مخلوق ہیں ، اور كائنات كی تمام چیزیں ان كا اصل ، ان كی صفات ، ان كے حركات و سكنات مخلوق اور حادث ہیں ، اللہ تعالی ہی ان كا خالق و موجد ہے، جیسا كہ اللہ نے فرمایا : (اللَّـهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ) اللہ ہر چیز كا پید ا كرنے والا ہے ، اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے “۔

(الزمر: 62)
 

ایك دوسری جگہ اللہ نےفرمایا (وَاللَّـهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ) تمہیں اور تمہاری بنائی ہو ئی چیزوں كو اللہ ہی نے پید اكیا ہے “۔

(الصافات: 96)
 

بندوں كے افعال اللہ كی مخلوق ہیں ، اور وہ بندوں كےكسب ہیں ، جیسا كہ اللہ نے اس كی وضاحت فرمائی ہے : (لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ) جو نیكی وہ كرے وہ اس كے لئے ، اور جو برائی وہ كرے وہ اس پر ہے “۔

(البقرة: 286)
 

5- الله كی مشیئت اور اس كی محبت كےباہم لازم و ملزوم نہ ہونے ایمان لانا

اللہ اپنی حكمت بالغہ اور غایت محكم كے پیش نظر بسااوقات جس كو چاہتا ہے اس سے محبت نہیں كرتا ، اور جس محبت كرتا ہے اسے چاہتا نہیں، جیسا كہ اس كا فرمان ہے : (وَلَوْ شِئْنَا لَآتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا وَلَـٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ) اگر ہم چاہتے تو ہر شخص كو ہدایت نصیب فرما دیتے ، لیكن میری یہ بات بالكل حق ہو چكی ہے كہ میں ضرور ضرور جہنم كو انسانوں اور جنوں سے پر كردوں گا “۔

(السجدة: 13)
 

اوردوسرے مقام میں اللہ نے فرمایا : (إِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَنِيٌّ عَنكُمْ ۖ وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۖ وَإِن تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ) اگر تم ناشكری كرو تو (یاد ركھو كہ) اللہ تعالی تم (سب سے ) بے نیازہے ، اور وہ اپنے بندوں كی ناشكری سے خوش نہیں ، اور اگر تم شكر كرو تو وہ اسے تمہارے لئے پسند كرے گا “۔

(الزمر: 7 )
 

6- شریعت اور تقدیر كے باہم متصادم نہ ہونے پر ایمان لانا

اللہ كا ارشاد ہے : (إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ ﴿٤﴾ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ ﴿٥﴾ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿٦﴾ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ ﴿٧﴾ وَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ ﴿٨﴾ وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿٩﴾ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ ﴿١٠﴾) یقینا تمہاری كوشش مختلف قسم كی ہے *جس نے دیا (اللہ كی راہ میں ) اور ڈرا (اپنے رب سے) *اور نیك بات كی تصدیق كرتا رہے گا *تو ہم بھی اس كو آسان راستے كی سہولت دیں گے *لیكن جس نے بخیلی كی اور بے پرواہی برتی *اور نیك بات كی تكذیب كی *تو ہم بھی اس كی تنگی و مشكل كے سامان میسر كردیں گے “۔

(الليل: 4-10)
 

شریعت كھلی ہوئی كتاب ہے ، اور تقدیر چھپا ہو ا غیب ہے ، اللہ نے بندوں كی تقدیروں كو مقدر كیا ، اور اسے ان سے پوشیدہ ركھا ، انہیں كرنے ، نہ كرنے كاحكم دیا ، انہیں تیار كیا ، اور ان كی ایسی مدد فرمائی جس سے وہ اللہ كے حكم كی بجا آوری اور اس كے منع كردہ امور سے اجتناب كے لائق و اہل بن جائیں ، اور ان كا


عذر قبول ہو جب موانع تكلیف میں سے كوئی مانع انہیں درپیش ہوجائے ، اسی بنا پر تقدیر سابق كو بنیاد بناكر گناہ كے كام كرنے اور اطاعت ترك كرنے كے لئے كسی

كے لئے دلیل نہیں بن سكتی ، جیسا كہ اللہ كا فرمان ہے : (سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّـهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلَا آبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِن شَيْءٍ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ حَتَّىٰ ذَاقُوا بَأْسَنَا ۗ قُلْ هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنَا ۖ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَخْرُصُونَ) یہ مشركین (یوں ) كہیں گے كہ اگر اللہ تعالی كو منظور ہوتا تو نہ ہم شرك كرتے اور نہ ہمارے باپ دادا ، اور نہ ہم كسی چیز كو حرام كہہ سكتے ، اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے ہو چكے ہیں ،انہوں نے بھی تكذیب كی تھی ، یہاں تك كہ انہوں نے ہمارے عذاب كا مزا چكھا ، آپ كہئے كہ كیا تمہارے پاس كوئی دلیل ہے ،تو اس كو ہمارے رو برو ظاہر كرو ، تم لوگ محض خیالی باتوں پر چلتے ہو اور تم بالكل اٹكل سے باتیں بناتے ہو *آپ كہئے كہ بس پوری حجت اللہ ہی كی رہی ، پھر اگر وہ چاہتا تو تم سب كو راہ راست پر لے آتا

(الأنعام: 148-149)
 

پہلی چیز اللہ نے ان كے دعوی كی تكذیب كی ، اور دوسری چیز كہ انہیں اپنا عذاب چكھایا ، اگر تقدیر میں ان كے لئے كوئی حجت ہوتی تو وہ انہیں نہ اپنا عذاب چكھاتا او ر نہ ہی ان كے بے بنیاد دعوی سے پردہ اٹھاتا ،اور تیسری بات یہ كہ وہ اپنی كسی كتاب پر مطلع نہیں ہوئے كہ وہ كسی علم كو صادر كرتے جو ان كے لئے حجت كا كام كرتا ، بلكہ یہ تو محض گمان اور اٹكل و جھوٹ پر مبنی بات ہے اور اس كے سوا كچھ بھی نہیں ، نتیجہ یہ برآمد ہوا كہ كامل حجت اللہ ہی كی ہے۔

تقدیر كے باب میں گمراہ ہونے والے فرقے

تقدیر كے باب میں دو گروہ گمراہ ہوئے : پہلا گروہ: یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے افعال عباد كو ثابت كرنے میں غلو كیا ، اورامور سے متعلق اللہ كے علم سابق كا انكار كربیٹھے ، او ر ان كے دو درجات ہیں :

-غلو (حدسے تجاوز) كرنے والے :یہ لوگ ان كے اوائل دور كے ہیں ، جو صحابہ كرام eكے آخری عہد میں نمودار ہوئے ، اور انہوں نے یہ گمان كیا كہ كام بالكل نیا واقع ہوتا ہے جس كے متعلق پہلے سے اللہ كو كوئی علم نہیں ہوتا ، ان كے اس رائے كی تردید بہت سارے صحابہ eنے فرمائی جیسے عبد اللہ بن عباس ، عبداللہ بن عمر، اور انہوں نے اللہ كے علم ، تقدیر كے لوح محفوظ میں لكھنے ، مشیئت الہی ، اور اللہ كے بندوں كے فعل كے خالق ہونے كا انكار كيا ۔

2-میانہ روی اختیار كرنے والے : یہ معتزلہ ہیں جو اللہ كے لئے علم اور لوح محفوظ میں لكھنے كو ثابت كرتے ہیں لیكن مشیئت اور خلق افعال كا انكار كرتے ہیں ، اور ان كا خیال ہے كہ بندہ خود ہی اپنے فعل كا خالق ہے ۔ دوسرا گروہ:جبریہ یہ وہ گروہ ہے جس نے رب كے افعال كے ثبوت میں اس حد تك غلو كيا كہ بندے سے اس كی مشیئت اور قدرت ہی چھین لی ، اور اس كے افعال كو ہلنے والے كی اضطراری حركت كے مانند قرار دے دیا ، اور اللہ كے افعال حكمت و تعلیل كی نفی كردی ، اور اس گروہ كے دو درجے ہیں:

-غلو (حدسے تجاوز) كرنے والے : یہی وہ صوفیاء ملحدین و بے دین ہیں جو كائنات كی حقیقت كو شہود خیال كرتے ہیں ، اور اپنی ذات كے لئے ہر فعل كو جائز ٹھہراتے ہیں ، اور ان كا دعوی یہ ہے كہ وہ تقدیر كے عین مطابق ہے (یعنی بندہ مجبور ہے ، اگر اس نے اللہ كے حكم كی نافرمانی كی پھر بھی اس نے اس كی مشیئت اور ارادہ كی اطاعت كی ، كیونكہ وہ اس كی مشیئت اور ارادہ كے بغیر كچھ بھی نہیں كرسكتا ، اس بنا پر اس سے صادر ہونے والے افعال معصیت بھی اس كی اطاعت تسلیم كی جائے گی ان كا ایك شاعر اپنے اس عقیدے كی وضاحت اس شعر میں كررہا ہے : أصبحت منفعلا لما تختاره مني ففعلي كله طاعات میں وہی كرنے والا بنا جس كو تو نے مجھ سے پسند كیا ہے ، اس لئے میرا تمام كام تیر ی فرما نبرداریاں ہیں ۔

-میانہ روی اختیار كرنے والے : یہی وہ لوگ اشاعرہ ہیں جو نظریہ (كسب ) كے قائل ہیں ، اور بندوں كے لئے غیر مؤثر قدرت كو ثابت كرنے والے ہیں ،اور یہ دونوں گروہ شریعت اور واقع دونوں طریقوں سے دلیل سے مغلوب ہیں :

1-تقدیر كے چاروں مراتب ( علم ، كتابت ، مشیئت ، خلق) كے انكار كرنے والوں كا تذكرہ گذشتہ سطور میں گذر چكا ہے: تقدير كے ان چاروں مراتب كو نص صریح نے ثابت كرتے ہوئے ان كے منكرین پر سخت تردید كی ہے ، اور واقع كی یہ وضاحت ہے كہ آدمی جب كسی فعل كا قصد كرتا ہے تو اسے اور اس كے فعل كے درمیان حائل بنا دیا جاتا ہے ۔

2-اور تقدیر كے اثبات میں غلو كرنے والے جبریہ گروہ ، تو كتاب و سنت ان كی تردید كرتے ہوئے ارادہ ، اور فعل ، اور بندے كی مشیئت كو ثابت كرتی ہے ، اور

واقع كی بھی یہ وضاحت ہے كہ انسان اپنے اختیاری فعل كے درمیان اور اس سے اضطراری امور واقع ہونے كے درمیان فرق كیا جائے گا ۔ اسی طرح اللہ كے افعال كے متعلق حكمت و تعلیل كے ثبوت میں بہت ساری شرعی نصوص پائی جا رہی ہیں ۔